پیر23؍ رجب المرجب 1442ھ 8؍مارچ2021ء

خلیجی جنگ میں شریک فوجیوں کی بیماری ’گلف وار سنڈروم‘ کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟

خلیجی جنگ میں شریک فوجیوں کی بیماری ’گلف وار سنڈروم‘ کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟

خلیجی جنگ، برطانیہ، عراق

ایک سائنسی مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خلیجی جنگ میں حصہ لینے والے سپاہیوں میں جنم لینے والی ایک بیماری یورینیم میں سانس لینے کی وجہ سے نہیں پیدا ہوئی تھی۔

اس کی بجائے محققین کا خیال ہے کہ سپاہیوں میں ’گلف وار سنڈروم‘ کی بیماری اعصاب پر حملہ آور ہونے والے کیمیکل سارین کی وجہ سے پیدا ہوئی۔

رائل برٹش لیجن کا کہنا ہے کہ اس بیماری سے متعلق فہم کی کمی کی وجہ سے جنگ میں حصہ لینے والوں پر ‘سنگین اثرات’ مرتب ہوئے ہیں۔ وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس کا مزید تحقیق کا کوئی ارادہ نہیں ہے مگر وہ اس حوالے سے شائع ہونے والے تحقیقی مطالعوں پر نظر رکھے گی۔

محققین کا اندازہ ہے کہ خلیجی جنگ میں حصہ لینے والے تقریباً ڈھائی لاکھ سپاہیوں میں یہ بیماری موجود ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے بے خوابی اور یادداشت کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

فوجی

سابق سپاہی کیری فولر ایک صحتمند 26 سالہ نوجوان تھے جو 1991 کی جنگ سے قبل جسمانی سرگرمیوں کو بہت پسند کرتے تھے۔ انھیں 40 سال کی عمر میں فالج کا دورہ پڑا اور اب وہ کہتے ہیں کہ وہ اتنے بیمار ہیں کہ بستر سے نکلنا بھی مشکل ہے۔

اُنھوں نے بی بی سی کی کیرولین ہاؤلے کو بتایا: ’میری پوری زندگی اور میرا وجود ایسے ہی تبدیل ہو گیا۔ اور واپسی ممکن نہیں۔ نقصان ہو چکا ہے اور میری بیماریاں بس اب سنگین تر ہو رہی ہیں۔‘

‘مجھے لگتا ہے کہ میں اور اس جنگ میں شریک ہزاروں افراد صرف ان خدمات کا اعتراف چاہتے ہیں کہ جو ہوا اس کی وجوہات جان کر آگے بڑھیں اور درست علاج تک رسائی ملے۔’

سائنسدان کئی برسوں سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کی وجہ کیا ہو سکتی ہے۔ ایک مقبول نظریہ یہ تھا کہ سپاہی سے سامنا ہونے کی وجہ سے بیمار ہوئے۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف پورٹسمتھ نے اس بیماری سے متاثرہ افراد کے جسم میں باقی رہ جانے والے ڈیپلیٹڈ یورینیم کی مقدار جاننے کے لیے تجزیہ کیا۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُن کا مطالعہ یہ ‘فیصلہ کُن طور پر ثابت’ کرتا ہے کہ ان میں سے کسی کا بھی سامنا ایسے یورینیم کی خاطر خواہ مقدار سے نہیں ہوا تھا۔

پروفیسر رینڈل پیرش نے کہا کہ تحقیق کے نتائج کئی لوگوں کو ‘حیران’ کر دیں گے جن کا ایک طویل عرصے سے خیال تھا کہ یورینیم کی وجہ سے یہ بیماری پیدا ہوئی ہے۔

محققین کا اب یہ کہنا ہے کہ سب سے زیادہ ممکنہ وجہ اعصابی ایجنٹ سارین ہے جو اس وقت ہوا میں شامل ہوا جب عراق کے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیروں پر بمباری کی گئی تھی۔

اُن کا کہنا ہے کہ سپاہیوں کی حفاظت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات مثلاً اینٹی نرو ایجنٹ دواؤں اور جراثیم کش ادویات کے وسیع پیمانے پر استعمال سے یہ مسئلہ سنگین ہوا ہو گا۔

جنگ کے دوران خیموں اور دیگر چیزوں مثلاً وردیوں پر جراثیم کش ادویات کا سپرے کیا جاتا اور انھیں جلد پر لگایا جاتا تاکہ ملیریا کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

خلیجی جنگ، برطانیہ، عراق

پروفیسر پیرش نے کہا کہ ‘اس بیماری اور تابکار مادے کے درمیان مبینہ تعلق کو غلط ثابت کرنے سے طبی برادری اس بات پر مزید وضاحت سے توجہ دے سکے گی کہ ممکنہ وجوہات کیا ہو سکتی ہیں۔’

وہ کہتے ہیں کہ ‘جب آپ کے پاس قصوروار ٹھہرانے کے لیے اتنے سارے آپشنز موجود ہوں تو وجہ کی تلاش کرنا ایک مشکل کھیل بن جاتا ہے۔’

انھوں نے مزید کہا کہ اتحادی افواج کی جانب سے عراقی اعصابی ایجنٹس کے ذخیروں کو تباہ کرنے یا سپاہیوں پر جراثیم کش ادویات کا سپرے کرنے جیسی سرگرمیوں کو بادی النظر میں غلطی سے ‘اپنا ہی گول’ کرنے جیسا سمجھا جا سکتا ہے جس سے مستقبل کی جنگوں میں بچنے کی ضرورت ہے۔

پروفیسر پیرش نے کہا کہ ‘ایسی بیماریوں کی وجوہات جاننا اہم ہے بھلے ہی اس میں طویل عرصہ لگے اور وجوہات متنازع ہوں۔’

فہم کی کمی

رائل برٹش لیجن کا کہنا ہے کہ تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ خلیجی جنگ میں حصہ لینے والے برطانیہ کے 33 ہزار فوجیوں میں یہ بیماری موجود ہو سکتی ہے جن میں سے 1300 نے اپنی سروس سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے وار پینشن کے حصول کی درخواست دی تھی۔

اس فلاحی تنظیم میں ہیڈ آف پالیسی اینڈ ریسرچ اینڈی پائیک نے کہا: ’جہاں ہم خلیجی جنگ میں شرکت کرنے والے فوجیوں کے تجربات کے بارے میں معلومات بڑھانے والی تحقیق کو خوش آئند سمجھتے ہیں، وہیں اس حوالے سے برطانیہ میں کم ہی معنی خیز تحقیق ہوئی ہے کہ خلیجی جنگ کی بیماریوں سے دوچار افراد کے لیے مؤثر علاج کیا ہو سکتا ہے۔‘

‘ممکنہ طور پر یہ فہم کی کمی ہے جس سے یہ سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں اور جنگ ختم ہونے کے 30 سال بعد بھی کئی فوجی مفلوج کردینے والی بیماریوں کے ساتھ زندہ ہیں۔’

وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان نے کہا: ‘ہم خلیجی جنگ میں ہمارے ملک کے لیے خدمات انجام دینے والے تمام لوگوں کے قرض دار ہیں اور اس تنازعے کے فوجیوں پر اثرات جاننے کے لیے خاصی تحقیق سپانسر کر چکے ہیں۔‘

‘ویسے تو ہمارا مزید مطالعوں کا منصوبہ نہیں ہے مگر ہم دنیا بھر میں خلیجی جنگ کے حوالے سے ہونے والی کسی بھی تحقیق کی مانیٹرنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.