اتواریکم رجب المرجب 1442ھ 14؍ فروری2021ء

جو بائیڈن کا چینی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، اویغور مسلمانوں کا معاملہ بھی زیر بحث

جو بائیڈن کا چینی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، اویغور مسلمانوں کا معاملہ بھی زیر بحث

شی جن پنگ

جو بائیڈن کی ٹویٹ

امریکہ اور چین کے تعلقات دونوں ممالک سمیت عالمی سطح کے لیے اہم ہیں، بیجنگ نے بار بار نئی واشنگٹن انتظامیہ سے تعلقات میں بہتری پر زور دیا ہے جو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں مزید کشیدہ ہو گئے تھے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ رابطہ چین کے نئے قمری سال کے آغاز سے بالکل پہلے ہوا ہے جس ایک خیر سگالی اقدام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اس ٹیلیفونک رابطے کے بعد صدر بائیڈن نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘آج میں نے چینی صدر شی جن پنگ سے بات کی اور نئے چینی قمری سال پر نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ میں نے ان سے چین کی معاشی و تجارتی طریقہ کار، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، تائیوان پر چین کے بڑھتے دباؤ پر تحفظات کا بھی اظہار کیا۔ میں نے چین کو آگاہ کیا ہے کہ امریکہ تب ہی چین کے ساتھ کام کرے گا جب اس کا فائدہ امریکی عوام کو ہو گا۔’

امریکی صدارتی دفتر وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر بائیڈن نے ‘بیجنگ کے زبردستی اور غیر منصفانہ معاشی طریقوں کے بارے میں اپنے بنیادی خدشات، چین کی جانب سے ہانگ کانگ پر جبری تسلط، چینی صوبے سنکیانگ میں اقلیتی اویغور مسلمانوں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور تائیوان پر دباؤ سمیت خطے میں بڑھتے جارحانہ اقدامات پر تحفظات کا اظہار کیا۔’

جو بائیڈن

چین پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اپنے سنکیانگ صوبے میں ‘ تربیتی کیمپ’ کہلانے والے کیمپوں میں دس لاکھ سے زیادہ ایغور مسلمانوں کو بغیر مقدمہ چلائے قید کر رکھا ہے اور اس بارے میں شواہد موجود ہیں کہ چین اپنی مسلم اقلیتی ایغور برادری سے جبری مشقت لے رہا ہے اور ان خواتین کی جبری نس بندی کر رہا ہے۔

چینی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ افراد اپنی مرضی سے حکومت کے ایسے خصوصی مراکز میں زیرِ تربیت ہیں جن کا مقصد دہشت گردی اور مذہبی انتہاپسندی سے نمٹنا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے کورونا وائرس کی عالمی وبا سے نمٹنے سمیت مشترکہ عالمی سطح پر صحت کے بحران کی مشکلات، موسمیاتی تبدیلی اور ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

چین کے سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی نے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ’دو طرفہ تعلقات سمیت اہم عالمی اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔’

چین میں اویغوروں کے حراستی مرکز

چین، سنکیانگ

چین نے اپنے صوبے سنکیانگ میں آباد اقلیتی مسلم آبادی اویغورں کو جبری طور پر حراستی مراکز پر قید کر رکھا ہے جنھیں وہ ‘تربیتی مراکز’ کا نام دیتا ہے۔

گذشتہ چند برسوں کے دوران انسانی حقوق کی تنظیموں، مختلف دستاویزات کے شواہد کے سامنے آنے کے بعد الزام عائد کیا ہےکہ چین اپنی مسلم اقلیت کے خلاف سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور اویغور مسلم آبادی سے جبری مشقت، تشدد کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اویغور مسلمانوں کی آبادی پر قابو پانے کے لیے اس برادری کی خواتین کی نس بندی کرا رہی ہے یا انھیں مانع حمل آلات کے استعمال پر مجبور کر رہی ہے۔

چین کی انتہائی سکیورٹی والی جیلوں کے نیٹ ورک میں ہزاروں مسلم اویغوروں کے زبردستی ذہنی خیالات تبدیل کرنے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔ چین مسلسل اس تمام الزامات سے انکار کرتا رہا ہے اور ان حراستی کیمپوں کو ‘ری ایجوکیشن کیمپ’ یعنی تربیتی کیمپ قرار دیتا ہے۔

جیسے جیسے عالمی تنقید بڑھتی جا رہی ہے چینی حکام نے اپنے اس موقف کو مزید بڑھا چڑھا کر پروپیگنڈے کی شکل میں بیان کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ مراکز سنکیانگ کی مسلم اقلیت کے لیے بنائے گئے ہیں جن میں سے اکثر چینی زبان نہیں بولتے۔

اقلیتی اویغور مسلم آبادی کون ہیں؟

اویغور مسلمان خواتین

چین کے صوبے سنکیانگ میں ایک کروڑ اقلیتی مسلم اویغور آباد ہیں۔ وہ ترک زبان بولتے ہیں اور شکل و صورت میں چین کی ہان آبادی کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیائی علاقوں کے افراد سے بھی ملتے ہیں۔

جنوبی شہر کاشغر کو اکثر بیجنگ سے زیادہ بغداد کے قریب کہا جاتا ہے اور اکثر یہ ثقافتی طور پر لگتا بھی ہے۔

چینی حکومت سے بغاوت اور مزاحمت کی تاریخ کے تناظر میں اویغوروں اور ان کے موجودہ سیاسی حکمرانوں کے تعلقات زیادہ خوشگوار نہیں۔ کمیونسٹ دور سے پہلے سنکیانگ مختصر عرصے تک آزاد بھی رہا۔ اس کے بعد سے وہاں مظاہروں اور تشدد کا سلسلہ وقتاً فوقتاً چلتا رہا ہے۔

جرمنی سے رقبے میں پانچ گنا بڑے اس خطے میں تیل اور گیس جیسے قدرتی وسائل کی بدولت یہاں بڑے پیمانے پر چینی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں جہاں معاشی ترقی ہوئی وہیں ہان چینی آباد کار بھی آئے۔

اویغوروں میں وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم کے مسئلے پر بےچینی پائی جاتی ہے۔ اس تنقید کے جواب میں چینی حکومت سنکیانگ کے شہریوں کے بہتر ہوتے ہوئے معیارِ زندگی کا حوالہ دیتی ہے۔

تاہم گذشتہ دہائی میں اس خطے میں دنگوں، انٹر کمیونٹی لڑائیوں، مربوط حملوں اور پولیس کی جوابی کارروائیوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ گذشتہ چند برسوں میں سنکیانگ میں سکیورٹی کے سخت ترین اقدامات دیکھنے کو ملے ہیں۔

ان میں چہروں کی شناخت کرنے والے کیمروں اور موبائل فون کا مواد پڑھنے والے آلات کی تنصیب اور آبادی کا بایومیٹرک ڈیٹا جمع کیا جانا شامل ہے۔ اب وہاں لمبی داڑھیاں رکھنے اور حجاب اوڑھنے پر سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ بچوں کے اسلامی نام رکھنے کے حوالے سے بھی بندشیں موجود ہیں۔

پالیسی میں ایک واضح تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔ علیحدگی پسندی کو چند افراد کا نہیں بلکہ اویغور ثقافت سے خصوصاً اور اسلام سے عموماً جڑا مسئلہ سمجھا جا رہا ہے۔ اویغور اب مجموعی طور پر شک کے دائرے میں ہیں۔

ان کی نسلی بنیادوں پر پروفائلنگ کی جا رہی ہے اور انھیں ان ہزاروں شناختی چوکیوں پر روک لیا جاتا ہے جہاں سے چینی ہان باشندے آرام سے گزر جاتے ہیں۔ انھیں سفری پابندیوں کا بھی سامنا ہے چاہے وہ سفر سنکیانگ میں ہو یا اس سے باہر۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے پاسپورٹ پولیس کے پاس باحفاظت رکھنے کے لیے جمع کروا دیں۔

اویغور سرکاری ملازمین اسلام پر اعلانیہ عمل پیرا نہیں رہ سکتے۔ وہ نہ ہی مسجد جا سکتے ہیں اور نہ ہی رمضان میں روزے رکھ سکتے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.