اتوار22؍ رجب المرجب 1442ھ 7؍مارچ2021ء

جرائم پیشہ گینگ کے ساتھ زندگی: آپ کو نہیں معلوم اگلا مرنے والا کون ہو گا؟

جرائم پیشہ گینگ کے ساتھ زندگی: آپ کو نہیں معلوم اگلا مرنے والا کون ہو گا؟

خاکہ

’اگر تم اپنے آپ کو ثابت نہیں کر پاؤ گے تو لوگ تمھیں روندتے ہوئے گزر جائیں گے۔‘

یوسف (جرائم پیشہ) گینگ میں اس وقت شامل ہوئے تھے جب ان کی عمر فقط 15 برس تھی۔ وہ جب بھی اپنے فلیٹ سے باہر جاتے ہیں تو وہ چاقو اور ’سٹیب جیکٹ‘ (یعنی چاقو کے وار سے بچاؤ کرنے والی جیکٹ) پہن کر نکلتے ہیں کیونکہ انھیں ہر وقت یہ خطرہ درپیش رہتا ہے کہ اگر وہ اپنا دفاع نہیں کر سکے تو مارے جائیں گے۔

اپنا مدعا بیان کرنے کے لیے وہ معروف امریکی گلوکار روڈی رچی کے گانے کا ایک بول مستعار لیتے ہیں۔

یہ بول کچھ یوں ہے کہ ’چھ افراد کے اٹھا کر لے جانے سے بہتر ہے کہ بارہ افراد کی طرف سے سزا مل جائے۔’ یہاں اٹھا کر لے جانے والے ’چھ افراد‘ کا مطلب آپ کے تابوت کو کندھا دینے والے چھ لوگ جبکہ ’بارہ افراد‘ کا مطلب عدالت کے بارہ جج حضرات۔

یوسف کا ماضی بے گھری اور گھریلو تشدد کا نشانہ بننے سے عبارت ہے اور ان کے خیال میں مستقبل میں اس بات کا امکان 80 فیصد ہے کہ ان کی بقیہ زندگی جیل میں گزرے گی۔

لندن کے بدنام ترین گینگ کا یہ سترہ برس کا کارندہ لندن کے ایک ’یوتھ ہب‘ میں ’ریڈیو ون نیوز بیٹ‘ سے بات کر رہا تھا۔

ایک یوتھ ورکر کے ساتھ ایک پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھے ہوئے یوسف نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تفصیل سنانی شروع کی۔ ان الزامات میں تیزاب رکھنا، اقدام قتل اور چاقو رکھنے جیسے جرائم شامل ہیں۔

بی بی سی نے گذشتہ چھ ماہ مشرقی لندن میں جرائم پیشہ گروہوں سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے یونٹ کے ساتھ گزارے اور اس دوران یوسف سے بہت سی نشستوں کے دوران گفتگو ہوئی اور یہ اسی سلسلے کی پہلی قسط ہے۔

مشرقی لندن کے علاقے ہیکنی میں جب ہمیں پولیس اہلکاروں کے ساتھ گینگ میں شامل لڑکوں کے گھروں میں جانے کا موقع ملا تو ہمیں ان کی زندگی کے بارے میں اندازہ ہونا شروع ہوا۔

انھوں نے ہمیں چاقو زنی کی وارداتوں، آپس کی لڑائیوں اور مخالف گروہوں سے بچنے کے لیے کی جانے والی منصوبہ بندی کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔

ایک پندرہ سالہ لڑکے نے بتایا کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کچھ دیر قبل اپنے کسی ساتھی کے ہمراہ موجود ہوتے ہیں اور کچھ ہی دیر بعد اطلاع ملتی ہے کہ جس لڑکے کے ساتھ آپ کچھ دیر قبل تھے اس پر کسی نے چاقو سے حملہ کر دیا ہے۔

یوسف کی طرح یہ 15 سالہ لڑکا بھی چاقو کے وار سے بچنے کے لیے اپنی قمیض کے نیچے ایک حفاظتی جیکٹ پہن کر رکھتا ہے۔

اس لڑکے نے ہمیں بتایا کہ شاید ہی کوئی ایسا دن ہو کہ وہ رات تین بجے سے پہلے سوئے ہوں یا صبح سو کر جلدی اٹھے ہوں۔ ایک اور اٹھارہ سالہ نوجوان نے ہمیں بتایا کہ ’ہر دوسرے دن پولیس ان کے دروازے پر آن کھڑی ہوتی ہے۔‘ حال ہی میں انھیں قتل کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن بعد میں انھیں رہا کر دیا گیا۔

اس لڑکے نے اس دردناک واقعے کا تذکرہ کیا جب اسے ٹانگ میں چاقو مار دیا گیا تھا۔

ہمارے ساتھ بات چیت کے دوران وہ مستقل اپنے دو موبائل فونز پر لوگوں سے گفتگو کرنے اور ان کے میسیجز کا جواب دینے میں مصروف رہے۔ کچھ عرصہ بعد ہم نے سُنا کہ انھیں منشیات فروشی کے جرم میں قید کی سزا ہو گئی ہے۔

ہمارے ساتھ گفتگو میں انھوں نے بتایا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ زندگی پھر سے واپس پلٹ جائے تاکہ وہ اپنے ماضی کو بدل سکیں۔

‘میں وقت کو پلٹنا چاہتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ میرے لیے انجام کیا ہو گا۔۔ میں یہاں اپنے گھر میں محفوظ ہوں، لیکن گھر سے باہر میں محفوظ نہیں ہوں۔‘

یہ بہت سے نوجوانوں کی کہانیاں ہیں مگر سوال یہ ہے کہ یہ سب اس نہج پر کیسے پہنچے؟

یوسف کا کہنا ہے کہ جن لڑکوں کے ساتھ انھوں نے سکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی اُن میں بہت سے اب جرائم پیشہ گروہوں کا حصہ ہیں۔

خاکہ

میں نے اب توبہ کر لی

فٹ بال کا کھلاڑی بننا اُن کا خواب تھا لیکن وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا سکول اور ان کی ملک کی حکومت اُن کی ناکامی کے ذمہ دار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘وہ کونسل سٹیٹس میں لوگوں سے بات نہیں کر رہے۔ وہ چیلسی میں لوگوں سے بات کرتے ہیں۔’

انھیں یہ رستہ اختیار کرنے کے لیے کہیں اور نہیں جانا پڑا۔

‘میں نے اپنے آپ کو حالات پر چھوڑ دیا۔ اس طرح کے علاقے میں زندگی اسی طرح کی ہے۔ آپ کو اسے ڈھونڈنا نہیں پڑتا وہاں زندگی ایسی ہی ہے۔’

گینگ یونٹ کیا ہوتا ہے؟

دس سال پہلے ‘ہیکنی انٹی گریٹڈ گینگ یونٹ’ بنانے کے پیچھے سوچ یہ تھی کہ مختلف جرائم پیشہ گروہوں میں کام کرنے والے کو ایک جگہ اکھٹا کیا جائے۔

پولیس کے اہلکاروں، پرویشن آفیسر، ان نوجوانوں اور ان کے سرپرستوں کو جو ماضی میں گروہوں میں شامل رہے ہوں انھیں ایک جگھ بٹھا کران کے درمیان معلومات کا تبادلہ کیا جائے۔

وہاں ‘ڈیپارٹمٹ آف ورک اور پینشن’ سے بھی کسی سرکاری اہلکار کو بلایا جائے تاکہ وہ ان کو نوکریوں اور سرکار سے ملنے والی امداد کے حصول میں مدد کر سکے۔

اس یونٹ میں شامل سٹاف کے ارکان ایسے تمام نوجوانوں کو تمام تر مدد فراہم کرتے ہیں جس میں ان کا ہاتھ پکڑ کر ڈاکٹر کے پاس لے جانا اور سکول جانے کے لیے ٹیکسی بک کرانے تک کے کام شامل ہیں۔

پولیس اہلکار جیمی پریسٹن کہتے ہیں کہ جو کم عمر لڑکے گینگز میں شامل ہو جاتے ہیں ضروری نہیں کہ وہ غریب گھرانوں سے ہوں۔

پی سی پریسٹن نے ‘عام طور پر ان کی خاندانی زندگی مشکلات کا شکار ہوتی ہے، پیسہ بھی ہوتا اور وہ لندن میں رہتے ہیں جہاں ہر طرف پیسے کی ریل پیل ہے۔ امیر لوگ، چمکتی دمکتی گاڑیاں۔۔۔ اور یہ بچے بھی یہ سب کچھ چاہتے ہیں۔’

انھوں نے مزید کہا کہ ‘آپ کا واسطہ ایسے نوجوانوں سے ہے جن کا انحصار صرف ماں یا باپ کی آمدن پر ہوتا ہے، انھیں انتہائی ناگفتہ بہ صورتحال کا سامنا ہوتا ہے۔ پھر وہ ایسے بڑی عمر کے لوگوں سے ملتے ہیں جن کی جیبیں پونڈز سے بھری ہوئی ہوتی ہیں اور وہ ان کے لیے پیسہ کے بدلے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔’

ان کا کہنا ہے کہ یہ کوئی نا سمجھ میں آنے والی بات نہیں اس طرح ان لڑکوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔

یوسف کے سرپرست جو یونٹ کی ٹیم کا حصہ تھے وہ یوسف کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرتے ہیں۔ وہ ایک مخالف گینگ کے گھیر میں آ گئے تھے اور ڈیون میں ایک گھر سے ایک تلوار کے ساھ پکڑے گئے تھے، جہاں سے منشیات فروخت کی جا رہی تھیں۔ وہ کئی مرتبہ گرفتار ہو چکے ہیں۔

یوتھ ورکر ڈیمین رابرٹس کہتے ہیں وہ اپنے آپ کو ان کی جگہ رکھ کر دیکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہر کسی کو یہ معلوم ہو جائے کہ وہ ایک بہت سے خطرناک نوجوان ہیں۔ وہ دوسروں کے دل میں اپنا خوف بٹھانا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے رویے میں بہت جارح ہوتے جا رہے ہیں۔’

مجھ سپرمین جیسا محسوس کرتا ہوں’

یوسف نے ہمیں بتایا کہ وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے لیکن اگر انہیں لگے کہ ایسا کرنا ضروری ہو گیا ہے تو وہ کسی کو چاقو مارنے میں ہچکچائیں گے بھی نہیں۔

‘کوئی فیشن کے طور پر چاقو لے کر نہیں پھرتا۔ یہ کوئی دکھانے کی چیز نہیں۔ میرے لیے یہ میرا دفاع ہے، اگر وقت آ گیا تو میں سو فیصد اس کو استعمال کرنے پر تیار ہوں گا۔ یہ یا میں نہیں یا وہ نہیں کا معاملہ ہے۔’

‘یا جیل یا موت، یہ حقیقت ہے۔’ وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہتھیار لے کر چلنے سے وہ اپنے آپ کو محفوظ اور طاقتور محسوس کرتے ہیں۔ ‘سپرمین کی طرح جب تک بھاگنے کی نوبت نہیں آتی۔’

یوسف کا گروہ یا گینگ ان کے لیے ان کے خاندان کی طرح ہے اور وہ اس کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ‘میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میں کسی کو چاقو مار دوں گا۔ لیکن مستقبل میں مجھے ان کی مدد حاصل ہو گی۔’

خاکہ

لندن کے گینگ کا ڈھانچہ

جب ہماری ملاقات یوسف سے ہوئی تو ان کا نام لندن میٹ پولیس کی جرائم پیشہ گروہوں کی فہرست میں شامل تھا اور ہیکنی کی یونٹ کی فہرست میں اول نمبر پرتھا۔

جرائم پیشہ گروہوں کے تشدد کا میٹرکس سنہ 2011 میں لندن میں ہونے والے بلووں کے بعد بنایا گیا تھا اور یہ پولیس اہلکاروں کو لندن میں ہونے والے جرائم میں ملوث مختلف گینگ کے کارندوں کو شناخت کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ان فہرستوں میں شامل ملزمان کے نام سرخ، پیلے اور سبز رنگ میں درج کیے جاتے ہیں۔

لیکن یہ فہرستیں بھی متنازع رہی ہیں اور اس سال 374 لوگوں کے نام ان سے خارج کیے گئے ہیں، جب برطانیہ کے ایک نگراں ادارے کو نجی معلومات کے تحفظ کے حق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی۔

پی سی پریسٹن نے کہا کہ ان گروہوں کی ایک مخصوص ذہنیت ہوتی ہے۔

‘کسی گینگ کا رکن ہونا ایسا ہی ہے جیسے آپ کسی خاندان کا حصہ ہوں۔ یہ آپ کے خاندان کی طرح ہوتا ہے۔ اگر آپ کا اپنا کوئی خاندان نہیں جس کا تحفظ آپ کو حاصل ہو اور آپ کی کبھی کسی نے پرواہ نہیں کی اور پھر آپ کو ایک گروپ مل جائے جو آپ کا خیال رکھے، اپ کے لیے لڑے، آپ کو پیسہ دے تو یہ خاندان کی طرح ہو جاتا ہے۔’

آٌپ کو ہمشیہ اس کی خواہش رہتی ہے جو آپ کی دیکھ بھال کرے۔ اور ظاہر ہے کہ جو آپ کو بہت سارا پیسہ بھی دیں۔’

ڈیمین بھی یہ کچھ کہتے ہیں

‘یہ محبت اور دوستی کا احساس ہوتا ہے جو کہ آپ کو گھروں میں ملنا چاہیے لیکن یہ گھروں سے باہر ملتا ہے۔’

لوگ مر رہے ہیں

دوسرے گروہوں سے لڑائی کو یوسف جنگ سے تشبیہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اس سوچ کے حامل ہونا چاہتے ہیں۔

‘لوگوں کو گولیاں لگتی ہیں، چاقو مارے جاتے ہیں لوگ مرتے ہیں۔ اس کو میں اس طرح دیکھتا ہوں کہ میں ایک سپاہی ہوں، سپاہی کا کام ہے قتل کرنا اگر کوئی سپاہی ایسا کر سکتا ہے تو میں بھی کر سکتا ہوں۔

وہ کہتے ہیں کہ وہ صرف گھر پر یا یوتھ ہب میں اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔ ان کے دن انتہائی چوکس رہنے اور ایک طرح کہ خوف میں گزرتے ہیں۔

‘آپ کو معلوم نہیں ہوتا کہ آپ کو کیا خبر سننے کو ملے۔ آپ کسی وقت بھی مارے جا سکتے ہیں۔’ وہ ہر جگہ خطرہ محسوس کرتے ہیں۔

وہ اس سے نکلنا چاہتے ہیں

‘آپ چھوڑنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک غم زدہ زندگی ہے۔ ایسا کچھ نہیں جس میں کوئی چکا چوند ہو، لوگ مارے جاتے ہیں، لوگ مرتے ہیں آپ جانتے ہیں۔ ہر کوئی اس سے نکلنا چاہتا ہے۔ موقع ملنے کی بات ہے۔’

مائیکل کے لیے یہ موقع بارہ سال بعد کئی مرتبہ منشیات فروشی اور راہ زنی کی وارداتوں میں گرفتار ہونے اور سزائیں بھگتنے کے بعد آیا۔ جب وہ تیرہ برس کے تھے تو انھیں نوجوانوں کے ایک اصلاحی مرکز میں بھیج دیا گیا۔

اب ان کی عمر 26 برس ہے اور جرائم ان کے لیے ایک طرز زندگی تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انھیں کبھی برا محسوس نہیں ہوا تو ان کا کہنا تھا کہ ‘نہیں مجھے بھی روٹی کی ضرورت ہے اور آپ یہ ہی سوچتے ہیں۔’

ہماری جب ان سے ملاقات ہوئی تو وہ آٹھ گھنٹے کی ایک نوکری کر رہے تھے اور انھیں جیل سے رہائی ملے آٹھ ماہ ہوئے تھے۔

منشیات کا دھندا، پولیس اہلکاروں سے بچنا، میں اب یہ سب کچھ نہیں کر سکتا۔ میں بھاگ نہیں سکتا۔’ انھوں نے کہا کہ انھیں یقین نہیں آتا کہ انھیں اب کتنا فارغ وقت مل جاتا ہے۔ گینگ میں شامل ہونے کا مطلب چوبیس گھنٹے کام ہے۔

خاکہ

میں اب کافی سکون میں ہوں‘

مائیکل نے اپنی زندگی بدل لی لیکن وہ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ دوسروں کو بھی ایسا کرنے پر آمادہ کرنا آسان نہیں ہے۔ پی سی پریسٹن یہ سادہ الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔

‘جب تک منشیات اور غربت ہے ہمیں جرائم پیشہ گروہوں کے مسئلے کا سامنا رہے گا۔’

گینگ یونٹ کے تجزیہ کار مانی کہتے ہیں کہ لوگوں کو گینگ کی طرز زندگی سے باہر نکالنا ایک مشکل پر دقت طلب کام ہے اور اس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر آپ جرائم کی اس دلدل میں پھنس جائیں تو اس سے نکلنا مشکل ہوتا ہے اور اصل میں آپ کو ایسے نوجوانوں کو یہ یقین دلانا ہوتا ہے کہ آپ ان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔’

مائیکل کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ وہ کہتے ہیں ہے کہ وہ اپنے ‘پروبیشن آفیسر’ کے بہت احسان مند ہیں۔

مائیکل چاہتے ہیں کہ وہ بھی اب قید خانوں میں جا کر نوجوان سے بات کریں۔ وہ اس سلسلے میں اپنے علاقے کے رکن پارلیمنٹ سے بھی بات کر رہے ہیں۔

یوسف کا کیا ہوا؟

ہماری یوسف سے آخری ملاقات ان کو چاقو اور تیزاب رکھنے کے جرم میں سزا سنائے جانے سے پہلی ہوئی تھی۔

انھوں نے بتایا تھا کہ اب ان کی سوچ بدل رہی ہے۔

‘اب میں مختلف انداز سے سوچتا ہوں۔ اگر میں کوئی ہتھیار لے کر چلتا ہوں اور روک لیا جاتا ہوں تو اب وہ میرا چھرا پہچانتے ہیں۔ لیکن پہلے ایسا نہیں تھا۔ محفوظ رہنے کے اور بھی طریقے ہوسکتے ہیں۔ یہ سوچنا کہ کب گھر سے نکلنا ہے کون سا راستہ لینا ہے۔ میرا فیصلے کرنے کا انداز بدل گیا ہے، مجھے زیادہ سمجھداری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ میرے پاس سے اب تلوار یا کوئی ہتھیار برآمد نہیں ہونا چاہیے۔ وہ ہو چکا۔’

کرسمس سے چھ دن قبل وہ ایک مجسٹریٹ کی عدالت میں ایک سوٹ پہنے کھڑے تھے جو اُن کے لیے اُس دن خریدا گیا تھا جب انھیں ایک کیس ورکر کی نگرانی میں باہر گھومنے کی اجازت ملی تھی۔

انھوں نے اپنی والدہ کو عدالت نہ آنے کی تاکید کی تھی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی والدہ انھیں مجرموں کے کٹہرے میں کھڑے دیکھیں۔ لیکن وہ مسلسل فون کر رہی تھیں۔

مجسٹریٹ نے انھیں بارہ ماہ نگرانی میں گزارنے کا حکم سنایا جس کا مطلب ہے کہ وہ ‘یوتھ آفنڈنگ ٹیم’ کی نگرانی میں رہیں گے۔ انھوں نے اپنے دوست کو فون کیا اور کہا کہ مجھے آ کر لے جاؤ۔

پی سی پیٹرسن نے کہا کہ ایک سال تک وہ نہ گرفتار ہوئے اور پولیس کی نظروں میں آئے۔ لیکن وہ اب بھی گینگ کی فہرست میں شامل ہیں اور ان کا نام اگلے دسمبر تک اس فہرست میں رہے گا جب تک عدالتی حکم کی مدت ختم نہیں ہو جاتی۔

پی سی پیٹرسن نے بتایا کہ ہر ماہ پولیس اہلکار ان سے جا کر ملتے رہیں گے یہ دیکھنے کے لیے وہ کیا کر رہے ہیں۔ یوسف کا نام کالج میں درج ہو گیا ہے اور وہ باقدعدگی سے کالج جا رہے ہیں۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ وہ اپنے آپ کو بدل رہے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.