اتواریکم رجب المرجب 1442ھ 14؍ فروری2021ء

جب ضیاالحق نے سعودی شہزادے سے ’زبردستی‘ ملاقات کی

بلوچستان میں تلور کا شکار: جب ضیاالحق نے سعودی شہزادے سے ’زبردستی‘ ملاقات کی

ضیاء الحق

کتاب کے مصنف کے بقول شکار کے حوالے سے غیرملکیوں کو شکار گاہیں الاٹ کرنے پر مقامی آبادی کی رائے منقسم تھی۔ بعض لوگوں کی یہ رائے تھی کہ ان کو شکارکے لیے علاقے الاٹ نہیں کرنے چاہییں کیونکہ اس سے ان کی زرعی اراضی اور فصلوں کو نقصان پہنچتا تھا جبکہ ماحولیات کے تحفظ کے حامی تلور کے شکار کے مخالف گروہوں اور افراد کا کہنا تھا کہ اس سے یہ پرندہ مکمل معدومی کے خطرے سے دوچار ہو جائے گا۔

’تاہم اس وقت بھی بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ ایک ہجرت کرنے والا پرندہ ہے اگر اسے یہاں شکار نہیں کیا گیا تو دوسرے علاقوں میں اسے شکار کیا جائے گا، اس لیے ہمیں اپنے خلیجی دوستوں کو زیرِ احسان رکھنے کے لیے ان کو شکار کی اجازت دینی چاہیے۔‘

ان لوگوں کی یہ بھی رائے تھی کہ غیر ملکیوں کی آمد سے یہاں معاشی سرگرمیوں کا آغاز ہوگا اور لوگوں کو روزگار ملے گا۔

مصنف کے مطابق اس منقسم رائے کے تناظر میں چند مخالفت کرنے والے مقامی لوگوں نے ایک سعودی شہزادے کی شکار پارٹی پر حملہ کر دیا۔

حکومت پاکستان سعودی حکام کو اس واقعے کے بعد شہزادہ سلطان بن عبد العزیز کے ذریعے مطمئن کرنا چاہتی تھی، جن کی حیثیت حکمران خاندان میں تیسرے نمبر پر تھی۔

مصنف کے مطابق سابق صدر جنرل ضیا الحق اس مقصد کے لیے شہزادہ سلطان سے ملنا چاہتے تھے لیکن وہ تذبذب کا شکار تھے۔ ایوان صدر سے متعدد فون کالز آنے کے باوجود وہ بات نہیں کر رہے تھے۔

کتاب

’ایک رات دیر سے سابق صدر کے ملٹری سیکریٹری کا انھیں فون آیا اور بتایا کہ وہ ذاتی طور پر شہزادہ سلطان بن عبد العزیز سے ملیں اور ان سے ضیا الحق کی ملاقات کے لیے وقت لیں۔‘

سابق چیف سیکریٹری کے مطابق صدر کے ملٹری سیکریٹری کے کہنے پر جب اگلے روز وہ شام کو شہزادہ سلطان بن عبد العزیز سے پاس گئے اور ان سے وقت دینے کے لیے کہا تو انھوں نے شائستہ انداز میں ان کی درخواست کو مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ تعطیلات پر ہیں اور صدر ضیا سے ان کی ملاقات بڑے پیمانے پر پبلیسٹی کا باعث بنے گی۔

تاہم شہزادے نے کہا کہ ان کے یہاں قیام کے خاتمے کے بعد صدر ان سے کوئٹہ یا کراچی میں ملاقات کر سکتے ہیں۔

احمد بخش لہڑی لکھتے ہیں کہ ’میں نے اس بات سے ایوان صدر کو آگاہ کیا لیکن اس کے بعد مجھے کہا گیا کہ صدر کے دورے کے لیے دو ہیلی پیڈز کی تعمیر کے لیے جگہ کی نشاندہی کی جائے، جس پر میں نے دالبندین ایئر سٹرپ کے قریب ہیلی پیڈ بنانے کے لیے جگہ کا انتخاب کیا۔‘

’سعودی اہلکاروں نے مجھ سے رابطہ کیا اور یہ کہا کہ صدر کو کہیں کہ وہ دورہ منسوخ کریں کیونکہ شہزادہ سلطان بن عبد العزیز ان کا استقبال نہیں کریں گے جس سے سفارتی اور پروٹوکول کی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔‘

’سعودی اہلکاروں کے کہنے پر میں نے ایوان صدر میں حکام سے رابطہ کیا اور انھیں اس صورتحال سے آگاہ کیا لیکن اگلے دن مجھے معلوم ہوا کہ پاکستان ورکس ڈیپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی ) کو یہ ہدایات جاری کی گئی تھیں کی وہ شہزادے کے کیمپ کے قریب صدر کے دورے کی مناسبت سے دو ہیلی پیڈ تعمیر کر دیں۔‘س

سابق چیف سیکریٹری کے مطابق جلد ہی جنرل ضیا الحق ایک وفد کے ہمراہ دالبندین پہنچ گئے تو شہزادے کی بجائے نچلے درجے کے سعودی اہلکاروں نے اُن کا استقبال کیا۔ ’جنرل ضیا الحق وہاں پہنچتے ہی شہزادے کے اس خیمے میں گئے جو کہ کھانے پینے اور لوگوں سے ملاقات کے لیے لگایا گیا تھا۔‘

’جنرل ضیا پہلے اکیلے خیمے کے اندر داخل ہوئے جہاں سعودی شہزادے کے عملے کے لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ سعودی شہزادے نے صدر کو کہا کہ وہ اپنے ساتھ دوسرے لوگوں کو بھی اندر آنے کے لیے کہیں جس پر صدر کے ساتھ آنے والے اہلکاروں کو بھی وہاں بلا لیا گیا۔ اس طرح انھوں نے کامیابی سے صدر کے ساتھ اکیلے ملاقات سے گریز کیا۔‘

اس ملاقات میں دونوں کے درمیان بات چیت کا محور علاقے میں شکار کی صلاحیت بنا رہا۔

مصنف کا کہنا ہے کہ جنرل ضیا کو تلور یا اس کے شکار کے متعلق زیادہ معلومات نہیں تھیں۔

’اس موقع پرایک علاقہ جس کا نام کنڈ تھا صدر ضیا اسے ڈونکی کہتے رہے۔ جب شہزادے کے پرسنل سیکریٹری نے کہا کہ اس کا نام ڈونکی نہیں بلکہ کنڈ ہے تو صدر نے کہا کہ ہاں ہاں ڈونکی کنڈ کے قریب ہی ہے۔‘

اس موقع پر جنرل ضیا الحق نے شہزدے کو تحائف پیش کیے تو جواب میں شہزادے نے بھی صدر کوگفٹس کا ایک پیکٹ تھما دیا جس میں 27 سٹیزن گھڑیوں کے علاوہ ایک راڈو گھڑی بھی تھی۔

تلور

مصنف کے مطابق اس وقت کے گورنر بلوچستان جنرل رحیم الدین خان نے بھی شہزادہ سلطان بن عبد العزیز السعود سے دو مرتبہ ملاقات کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے تاہم جنرل رحیم الدین اس فہرست میں اپنا نام شامل کرانے میں کامیاب ہوئے جن کو شہزادے نے 20 ہزار ریال جیب خرچ کے ساتھ عمرے کے لیے مہمان کے طور پر دعوت دی تھی۔‘

سابق چیف سیکریٹری لکھتے ہیں کہ ’یہ بات دلچسپ ہے کہ وفد میں شامل وہ لوگ جن کے ناموں کے ساتھ ملک کا لاحقہ تھا سعودی عرب سے واپسی پر چھپ گئے تھے۔ بعد میں اس کی یہ وجہ معلوم ہوئی کہ ملک کے لاحقے کی وجہ سے سعودی حکام نے ان کو زیادہ پروٹوکول دینے کے علاوہ وفد کے دیگر اراکین کے مقابلے میں ان کو 40 ہزار ریال دیے اوریہ لوگ جنرل رحیم الدین کے غضب سے بچنے سے چھپ گئے تھے۔‘

اب اس کو حسن اتفاق کہیے کہ سعودی عرب میں بادشاہ کا سرکاری ٹائٹل ملک ہوتا ہے۔

تلور کے شکار کی مخالفت اور تنقید

بلوچستان میں جانوروں اور پرندوں کے حقوق اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے علاوہ بلوچستان کی قوم پرست جماعتیں عرب شیوخ کو شکار گاہیں الاٹ کرنے کی مخالف رہی ہیں۔

ماضی میں بلوچستان اسمبلی کی جانب سے اس کی مخالفت میں قراردادیں بھی منظور کی گئی تھیں۔

وزیر اعظم بننے سے پہلے خود تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی عرب شہزادوں کو تلور کے شکار کی اجازت دینے کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔

ماضی میں تحفظ ماحولیات کے بین الاقوامی ادارے آئی یو سی این سے وابستہ رہنے والے ماہر ماحولیات فیض کاکڑ کا کہنا ہے کہ ’وزیر اعظم عمران خان جب حزب اختلاف میں تھے تو یہ کہا تھا کہ ہماری سفارتکاری پرندوں کے پروں پر سفر کر رہی ہے لیکن اب ان کے دور حکومت میں بھی تلور کے شکار کے لائسنس جاری کر دیے گئے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تلور ان پرندوں کی فہرست میں شامل ہے جس کی نسل معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہر شہزادے کو صرف 70 سے 100 تلور شکار کرنے کا لائسنس دیا جاتا ہے لیکن وہ یہاں آ کر کثیر تعداد میں تلور کا شکار کرتے ہیں۔

تلور

محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے ایک سابق سیکریٹری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جہاں عرب شہزادوں کے کیمپ لگتے ہیں وہاں محکمے کے اہلکاروں کو جانے تک نہیں دیا جاتا۔

تاہم محکمہ جنگلات کے سینیئر اہلکار اور پراجیکٹ ڈائریکٹر وائلڈ لائف بلوچستان نیاز کاکڑ نے بتایا کہ تلور کے شکار کے لیے جو قواعد وضوابط مقرر کیے جاتے ہیں ان پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

رواں سال اب تک عرب شہزادوں کو تلور کے شکار کے کتنے لائسنس جاری کیے گئے؟

سردیوں کے موسم میں بلوچستان کے مختلف اضلاع میں تلور کی شکار گاہیں الاٹ کی جاتی ہیں۔

ان میں چاغی، خاران، پنجگور، واشک، گوادر، کیچ، جھل مگسی، موسیٰ خیل، قلعہ سیف اللہ اور بعض دیگر اضلاع شامل ہیں۔

حکومت بلوچستان کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ رواں سال اب تک عرب شہزادوں کو وفاقی حکومت کی جانب سے تلور کے شکار کے لیے 17 لائسنس جاری کیے گئے ہیں لیکن تاحال چار پارٹیاں شکار کے لیے پہنچی ہیں۔

سو تلور کے شکار کے لیے جو لائسنس جاری کیا جاتا ہے اس کے لیے ایک کروڑ روپے کے لگ بھگ رقم جمع کروانی پڑتی ہے۔ تاہم سینیئر اہلکار نے بتایا کہ رواں سال جو لائسنس جاری کیے گئے ان کے حوالے سے تاحال کوئی رقم بلوچستان کے خزانے میں جمع نہیں ہوئی۔

اگرچہ بلوچستان میں قوم پرست جماعتوں اور دیگر تنظیموں کی جانب سے تلور کے شکار کی مخالفت کی جا رہی ہے لیکن نہ صرف تلور کے شکار کے لیے لائسنسوں کے اجرا کا سلسلہ جاری ہے بلکہ ماضی کے مقابلے میں ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

سابق سفارتکار اور متحدہ عرب امارات میں سفیر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دینے والے محمد آصف درانی کا کہنا ہے کہ شکار ایک کھیل ہے، جس طرح مارخور کے شکار کے لیے لائسنس جاری کیے جاتے ہیں اسی طرح تلور کے شکار کے لیے لائسنس جاری کیے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جن جانوروں اور پرندوں کا شکار کیا جاتا ہے ان کی آبادی کو ریگولیٹ کرنے کے لیے باقاعدہ اقدامات بھی کیے جاتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ بالخصوص متحدہ عرب امارات کی جانب سے تلور کے تحفظ کے لیے ایک باقاعدہ پروگرام بنایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تلور کے بے تحاشا شکار کرنے کا تاثر بھی درست نہیں ہے۔ تلور کا شکار باز کے ذریعے کیا جاتا ہے جو کہ ایک وقت میں صرف ایک تلور پکڑتا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا پاکستان کی حکومتیں خلیجی ممالک کے حکمرانوں سے تعلقات کو بڑھانے کے لیے تلور کو ایک سفارتی ذریعے کے طور بھی استعمال کرتے رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ جب عرب ممالک کے پاکستان کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں تو ان کے لوگ یہاں شکار کے لیے آتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ جب یہاں کچھ وقت کے لیے تلور کے شکار پر پابندی لگی تو یہ لوگ قازقستان جاتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے فیصلوں میں جذباتیت زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ نے تلور کے شکار کے لیے لائسنسوں کے اجرا پر پابندی کو ختم کیا۔‘

تاہم جب یہ سوال سابق سفیر رستم شاہ مہمند سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کو مجھ سے بہتر علم ہے کہ ہمارے حکمران تلور کو سفارتی ذریعے کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب آپ ان سے اربوں ڈالر لیتے ہیں اور آپ کے لوگ ان کے پاس مزدوری کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں یہاں ترسیل زر ہوتی ہے تو پھر آپ کو انھیں یہاں شکار کے لیے اجازت دینی ہوتی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.