منگل یکم شعبان المعظم 1442ھ 16؍مارچ 2021ء

ایسا ملک جہاں کے لوگ کبھی کسی مقابلے میں ’آخری نمبر پر نہیں آتے‘

نائجیریا: وہ ملک جو کبھی ’آخری نمبر پر نہیں آتا‘ اور جہاں کے باشندے ہمیشہ توقع سے زیادہ حاصل کرنے کی دوڑ میں مصروف رہتے ہیں

نائجیریا

ہر حال میں خود کو آگے دیکھنا نائجیریا کی قوم میں اتنا رچ بس گیا ہے کہ ان کا غیر سرکاری نعرہ بھی یہی ہے کہ ‘نائجیریا کے لوگ کبھی کسی مقابلے میں آخر پر نہیں آتے’

جیتنے کی یہ مخصوص ذہنیت ملک اور ملک سے باہر دونوں جگہ نمایاں نظر آتی ہے۔

نائجیریا افریقہ میں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے۔ بلومبرگ کے مطابق یہ اب افریقہ کی سب سے بڑی معیشت بھی ہے۔ نائجیریا کو اسی لیے عرفی نام ’افریقہ کا دیو قامت‘ دیا گیا ہے۔

علمی دنیا اور بین الاقوامی موسیقی میں نائجیریا کی کامیابی کی کئی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں اور یہ سلسلہ نائجیریا سے دوسرے ممالک میں گئے اس کے شہریوں نے برقرار رکھا ہوا ہے۔

نائجیریا

جیتنے کی یہ مخصوص ذہنیت ملک اور ملک سے باہر دونوں جگہ نمایاں نظر آتی ہے

شہر لاگوس سے تعلق رکھنے والے وز کِڈ ڈریک کے ساتھ اپنے گانے ’ون ڈینس‘ سے کافی مقبول ہوئے۔ یہ گانا اس وقت کے 100 بہترین گانوں میں شمار ہوا اور وہ افریقی موسیقی کے پہلے ایسے گلوکار بن گئے جن کے لیے لندن کے رائل البرٹ ہال کی تمام ٹکٹیں فروخت ہو گئیں۔

وول سوئنکا کا تعلق بھی نائجیریا سے ہے۔ وہ افریقہ کی پہلی سیاہ فام ڈرامہ نگار ہیں جنھیں ادب میں نوبیل پرائز (انعام) ملا۔ چمامندا نگوزی ادیچی کے ناول ’ہاف آف اے ییلو سن‘ کو افسانوں کی قسم میں خواتین کا انعام ملا۔

یہ کہا گیا کہ گذشتہ 25 سالوں میں یہ انعام پانے والی بہترین کتاب ہے۔

مائیگریشن پالیسی انسٹیٹیوٹ کے مطابق 25 سال سے زیادہ عمر کے 61 فیصد نائجیرین امریکی لوگ فارغ التحصیل یعنی گریجوئیٹ ہیں۔ اس طرح تعلیم کے شعبے میں یہ نسل کامیاب تصور کی جاتی ہے۔

صرف میں واحد نائجیرین نہیں جو سکریبل میں اچھا ہے۔ نائجیریا نے گذشتہ پانچ میں سے تین بار ورلڈ انگلش سکریبل چیمپیئن شپ جیت رکھی ہے۔

ملک سے باہر لوگ شاید نائجیرین شہریوں میں کامیابی کی لگن کو نہ سمجھ سکیں۔ لیکن سیاحوں کے پاس ایسے کئی مواقع میسر آتے ہیں جن میں وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے نائجیریا کے لوگ آگے بڑھنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔

نائجیریا

مائیگریشن پالیسی انسٹیٹیوٹ کے مطابق 25 سال سے زیادہ عمر کے 61 فیصد نائجیرین امریکی لوگ فارغ التحصیل یعنی گریجوئیٹ ہیں

نائجیریا میں سکریبل کے نوجوان کھلاڑی چھوٹے کمروں، باہر کھلی جگہوں اور لوگوں کے گھروں میں اس کی تیاری کرتے ہیں۔ حکومت نے اس گیم کو کھیل کا درجہ دیا ہوا ہے جس میں ذہانت کی آزمائش ہوتی ہے۔

اگر آپ یہاں بازاروں کا چکر لگائیں تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے خریدار دکانداروں سے ان کی مقامی زبانوں میں قیمتوں پر بحث کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ پیسوں کے عوض اشیا فروخت کی جا سکیں۔

یہاں 370 قبیلے آباد ہیں اور ملک بھر میں 500 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اس حساب سے یہ کوئی معمولی کام نہیں۔

اگر آپ نائجیریا میں کسی شادی پر جائیں تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ خواتین کے ملبوسات ان کی حیثیت کی علامت ہیں، جیسے سر ڈھانپنے کے لیے مخصوص اونچا ہیڈ سکارف، منفرد ڈیزائنر چیزیں، درآمد شدہ ڈچ کپڑے اور سونے کے زیورات۔

یہ تمام انداز ایک ہی بات کہہ رہے ہوتے ہیں: ’ہم (یہاں بھی) پہنچ چکے ہیں۔‘

تو ’نائجیریا کبھی آخری نمبر پر نہیں آتا‘ کی ذہنیت کا کیا راز ہے؟

نائجیریا

اکثر بچوں سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ڈاکٹر، وکیل یا انجینیئر بن کر عزت کا مقام حاصل کریں گے اور اچھے پیسے کمائیں گے جبکہ آرٹ کے ‘غیر روایتی’ شعبے سے دور رہیں گے

کم عمر سے ہی نائجیریا میں بچوں سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہو جاتی ہیں۔ ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ اچھے سے شادی کرنی ہے، کئی ڈگریاں حاصل کرنی ہیں اور اتنے پیسے کمانے ہیں کہ بڑھاپے میں والدین کا سہارا بنا جا سکے۔

پہلے بچے سے زیادہ امیدیں وابستہ ہوتی ہیں اور عام طور پر یہ بھی تصور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا بھی خیال رکھیں گے۔

اکثر بچوں سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ڈاکٹر، وکیل یا انجینیئر بن کر عزت کا مقام حاصل کریں گے اور اچھے پیسے کمائیں گے جبکہ آرٹ کے ’غیر روایتی‘ شعبے سے دور رہیں گے۔

بچپن میں لوریوں اور لوک داستانوں کے ساتھ ہمیں ہمارے خاندان کی عظمت کی کہانیاں بھی سنائی جاتی ہیں، جیسے ‘بیافران’ کی خانہ جنگی اور فوجی آمریت کی کہانیاں یا وہ پیچیدہ باتیں کہ سنہ 1960 میں برطانوی راج سے کس طرح ہم نے آزادی حاصل کی۔

اگر ہمارے والدین اپنے وقتوں میں اپنے لیے کچھ کر سکے تھے تو انٹرنیٹ کی طاقت رکھنے والی یہ نسل بھی ضرور کچھ نہ کچھ کر سکتی ہے۔

نائجیریا

نائجیریا کے شہر لاگوس سے تعلق رکھنے والے وز کِڈ نے 11 سال کی عمر سے گانا شروع کر دیا تھا اور اب وہ افریقی ممالک کے امیر ترین موسیقاروں میں سے ایک ہیں

لاگوس میں پیدا ہوئے ماہرِ تعمیرات، فنکار، ڈیولپر اور نیو یارک میں کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر وکٹر باڈی لاسن کہتے ہیں کہ ‘نائجیریا کی ثقافت میں ایک رچا بسا جزو ہے کہ بچے ہر انداز میں اپنے والدین سے بہتر کارکردگی دکھائیں۔’

‘اس کے نتیجے میں والدین اپنے بچوں کو متحرک کرتے ہیں اور انھیں کامیابی کا سبق پڑھاتے ہیں۔ بچوں کو اس ثقافتی عقیدہ سکھایا جاتا ہے۔’

نائجیریا کے معاشرے میں اجتماعیت کا تصور ہے۔ انفرادی طور پر لوگ اپنے خاندان یا قبیلے کی بہتری، فخر یا فلاح کے لیے کامیابی کا عزم رکھتے ہیں۔ ہمیں اس لیے ناکامی یا غیر ذمہ دارانہ رویوں سے ہونے والی شرمندگی سے دور رہنے کی تلقین جاتی ہے۔

ہمارے قومی ترانے میں بھی ‘بلندیاں چھونے’ کا عہد کیا جاتا ہے اور یاد کرایا جاتا ہے کہ ‘ماضی میں ہمارے ہیروز کی محنت کبھی ضائع نہیں ہوئی۔’

نائجیریا میں ایک سفارتکار کی بیٹی کی حیثیت سے میں نے کئی صدور کے ساتھ کھانا کھایا ہے۔ مجھ سے کئی امیدیں وابستہ رہی ہیں۔ ہمارے لوونگ روم میں میرے والد کی تصویر نیلسن منڈیلا کے ساتھ ہے جو اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں اور ہم سے کیا توقع کی جاتی ہے۔

ہم نامیبیا، نیدر لینڈز اور نائجیریا میں سفر کے ساتھ پلے پڑھے۔ لیکن میرے بچپن کے ان دنوں نے ہی مجھے آگے بڑھنے اور کامیابی کی طرف راغب کیا۔

پرائمری سکول میں بھی نائجیریا کے بچوں کو پہلی سی آخری جماعت تک ہر مضمون میں نمبر دیے جاتے ہیں اور ہر تعلیمی سال کے بعد ان کی پڑھائی لکھائی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ جب ہم واپس نائجیریا آئے تو میرے سات سالہ ساتھی کیمسٹری کا دوری جدول رٹ چکے تھے۔ چرچ اور سکول میں پڑھائی کے بعد ان کے شیڈول میں غیر رسمی تعلیمی سرگرمیاں بھی شامل تھیں۔

نائجیریا میں انگریزی سرکاری زبان ہے اور غیر ملکی لہجے کا مطلب ہے کہ آپ زیادہ پڑھے لکھے، امیر اور کامیاب شخص ہیں۔ ایسے میں کئی شہری ایسے لہجے اپناتے ہیں جس وہ زیادہ ‘نفیس’ معلوم ہوں۔

ہم اسے تلفظ میں ‘زیادہ آواز کرنا’ یا صوتیات کہتے ہیں اور ایسا لہجہ نہ برطانوی ہے نہ امریکی۔ یہ کسی نائجیرین گروہ کی بھی نمائندگی نہیں کرتا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا واحد لہجہ دنیا میں ہر نائجیرین کی نشاندہی کر سکتا ہے۔

نائجیریا

دی ہیگ میں ایک مرتبہ میں ایک نوجوان مرد سے ملی۔ وہ میری دوست سے میٹھے لہجے میں بات کرنا چاہ رہا تھا۔ اس کا لہجہ مخصوص مگر عجیب معلوم ہو رہا تھا۔ اس سے مجھے معلوم ہوا کہ یہ تو میرے ہی ملک سے تعلق رکھتا ہے۔

جب میں نے اس سے پوچھا کہ اس کا تعلق کہاں سے ہے تو اس نے جواب دیا ‘پنسلوینیا، امریکہ۔’

میں نے اسے غور سے دیکھا اور پوچھا وہ نائجیریا میں کہاں سے تعلق رکھتا ہے۔ اس نے ہنستے ہوئے جواب دیا: ‘ریاست اوگن سے۔’

اس لہجے کی کہانی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی سے جوڑا جاسکتا ہے۔ جب میری بہن 15 سال بعد وطن واپس آئی تو کئی لوگوں نے ان سے ‘امریکی لہجے’ میں بات کرنا چاہی۔ لیکن یہ لوگ تو کبھی ملک سے باہر گئے ہی نہیں تھے۔

نائجیریا میں دکانوں پر عملہ، ریستوران اور بارز میں لوگ اکثر سیاحوں سے ان کے کپڑے دیکھنے کے بعد بات کرنے کا لہجہ بدل لیتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ آیا ان لوگوں کا تعلق کاکیشیئن نسل سے ہے یا وہ محض غیر افریقی لوگ ہیں۔ آپ اس نکلی لہجے جو خبروں کی نشریات اور فلموں میں بھی سب سکتے ہیں۔

نولی وڈ کی فلموں میں غریب کا امیر ہو جانا ایک اہم اور مقبول موضوع ہے۔ 2009 میں نولی وڈ ہالی وڈ سے آگے چلی گئی اور اس وقت بالی وڈ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی فلم انڈسٹری ہے جہاں تقریباً ہر ہفتے 50 فلمیں ریلیز ہوتی ہے۔

نولی وڈ کی آج تک کی کامیاب ترین فلم کا نام دی ویڈنگ پارٹی ہے جو کہ ایک امیر بات کے بیٹے اور اس کی سماجی کلاس سے کم سے تعلق تعلق رکھنے والی خاتون کی محبت کی داستان ہے۔ لڑکی کی امیر ماں ایک پوش غیر ملکی ایکسنٹ میں بات کرتی ہے جبکہ لڑکی کے والدین مقامی زبانوں میں بولتے ہیں۔ اور جو شادی کی پلانگ کرنے والی پلینر ہے، وہ اپنے امیر گاہکوں کے سامنے تو تھوڑا انگریزی لہجہ استعمال کرتی ہیں مگر جیسے ہی وہ چلے جاتے ہیں تو یربا زبان اور پّگن انگریزی میں منتقل ہوجاتی ہیں۔

نائجیریا

2009 میں نولی وڈ ہالی وڈ سے آگے چلی گئی اور اس وقت بالی وڈ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی فلم انڈسٹری ہے جہاں تقریباً ہر ہفتے 50 فلمیں ریلیز ہوتی ہے

اس سب سے پتا چلتا ہے کہ نائیجیریا کے لوگ محنت کش ہیں، انھیں اپنی عزت عزیز ہے، وہ آپس میں مقابلہ کرتے ہیں، اور انھیں سٹیٹس کی کافی فکر ہوتی ہے۔ ساڑھے انیس کروڑ نائیجریا کے شہری جب آپس میں مقابلے میں ہیں تو ‘چلو اٹھوں کام کرو’ کی ذہنیت مفید ہو سکتی ہے۔

نائیجیریا میں لوگوں کے دو دو نوکریاں رکھنے یا وقت کے بعد کھانے یا کپرے کا کاروبار کر رہے ہونا کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ غیر رسمی تناظر میں بھی نائیجریا کے لوگوں کا اپنے سرکاری عہدے کے ذریعے خود کا تعارف کروانا کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ اور جو ان سے صحیح انداز میں ملتا نہیں اس کو وہ یہ بتانے میں دیر بھی نہیں کرتے۔ کسی صورت میں بھی بری عمر کے لوگوں کو آپ ان کے پہلے نام سے پکار سکتے۔ آپ کو فوری بتایا جائے گا کہ یہ بندہ آپ کی عمر کا نہیں ہے تو آپ آنٹی، انکل، یا سر یا میڈیم کا استعمال کریں۔

طاقت، کامیابی، اور تعلقات، نہ صرف ہونے کو اچھی چیزیں ہیں بلکہ یہاں رہنے کے لیے شاید ضروری چیزیں ہیں۔ یونیورسٹی آف کینساس میں افریقی ڈیجیٹل ہومینیٹیز کے پروفیسر ڈاکر جیمز یکو کا ماننا ہے کہ نائیجیریا میں لوگوں کی کامیابی کے لیے کاوشوں کے پیچھے مشکلات کا سفر ہے۔ ‘نائیجیریا میں جن لوگوں نے انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال سیکھی ہو، ان میں شاید بہترین کاروبار کرنے والے لوگ ہیں، وہ اپنی کامیابی سے بتاتے ہیں کہ ہم بھی اہم ہیں۔’

ان کا کہنا ہے کہ نائجیریا میں کامیابی کا پیمانہ یہ ہے کہ آپ کے پاس کیا کچھ ہے اور آپ کیا کچھ دکھا سکتے ہیں۔ آپ کسی بھی نائیجیریا کے گھر میں جائیں گے تو آپ کو گھر کے سربراہ کی پینٹگ نظر آئے گی جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ آپ کامیاب ہیں۔ اور سڑک پر آپ کسی کو ملیں تو تیار رہیں کہ وہ آپ کو اپنی حالیہ کامیابی کی داستانیں سنائے گا۔

تعلیمی اور پیشہ ورانہ صلاحیت میں کامیابی حاصل کرنے کو اس بات سے بھی جوڑا جاسکتا ہے کہ نائجیریا کے لوگ کافی پُرامید ہوتے ہیں۔

نائجیرین امریکی شہری افام انیام کہتے ہیں کہ ‘بُرے سیاسی، طبی اور سماجی حالات کے باوجود جب آپ کی ثقافت فطرتاً مثبت ہو تو امید آپ کو آگے لے جاتے ہیں اور آپ کو ہر حال میں کامیاب ہونے کے لیے مثاتر کرتی ہے۔’ انھیں معروف شخصیات کی حمایت یافتہ تنظیم جینکو فاؤنڈیشن قائم کرنے پر ورلڈ ریمٹ نے امریکہ میں 10 سب سے متاثر کن افریقی پناہ گزین کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

یہ امید نائجیریا کے شہریوں کے ناموں میں بھی جھلکتی ہے، جیسے بلیسنگ (دعا)، ٹیسٹیمونی (گواہی)، مرسی (رحمت)، گوڈ سپیڈ (نیک خواہشات) اور گڈلک (اچھی قسمت)۔

سنہ 2011 میں ہمیں لگاتار دوسرے سال بھی سب سے پُرامید قوم کا خطاب دیا گیا اور کہا گیا کہ ان لوگوں کا ایمان ہر مشکل میں قائم رہتا ہے۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ ‘کوئی حالت مستقل نہیں۔’

نائجیریا کے لوگ شدید محنت اور پھر شدید لطف اٹھانا جانتے ہیں۔ انھیں فخر ہے کہ وہ ‘کبھی آخر میں نہیں آتے۔’ محض سکریبل ہی نہیں، وہ ہر چیز میں غیر متوقع طور پر کامیاب ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.