پیر27رمضان المبارک 1442ھ 10؍مئی2021ء

انڈین نژاد بھاویا لال امریکی خلائی ادارے ناسا کی قائم مقام سربراہ تعینات

انڈین نژاد بھاویا لال امریکی خلائی ادارے ناسا کی قائم مقام سربراہ تعینات

بھاویہ لال

نیوکلیئر انجینئرنگ میں ڈگری

بھاویا لال کو انجینیئرنگ اور خلائی ٹیکنالوجی کا وسیع تجربہ ہے۔ وہ سنہ 2005 سے 2020 تک انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اینیلیسس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ٹی پی آئی) کے ریسرچ اسٹاف کی رکن رہ چکی ہیں۔

بھاویا لال نے نیوکلیئر انجینئرنگ میں بی ایس سی اور ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ انھوں نے میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے ٹیکنالوجی اور پالیسی میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔

انھوں نے جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے پبلک پالیسی اور پبلک ایڈمنسٹریشن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔ وہ اٹامک انجینیئرنگ اینڈ پبلک پالیسی آنر سوسائٹی کی بھی رکن ہیں۔

بھاویہ لال

ناسا نے بتایا ہے کہ ‘بھاویا لال نے وائٹ ہاؤس آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی، نیشنل سپیس کونسل، ناسا، وزارت دفاع اور انٹلیجنس کمیونٹی کے لیے خلائی ٹیکنالوجی، حکمت عملی اور پالیسی کے تجزیہ کی قیادت کی ہے۔’

دیگر کارنامے

بھاویا نے قومی، سمندری اور ماحولیاتی انتظامیہ کی وفاقی ایڈوائزری کمیٹی برائے کمرشل ریموٹ سینسنگ میں لگاتار دوبار خدمات انجام دیں۔

اس کے ساتھ وہ ناسا کے اختراعی جدید نظریات پروگرام اور ناسا کی مشاورتی کونسل کی ٹیکنالوجی، انوویشن اور انجینئرنگ کی مشاورتی کمیٹی میں خارجی کونسل کی رکن رہ چکی ہیں۔

ناسا

ایس ٹی پی آئی میں شامل ہونے سے پہلے بھاویا لال سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی ریسرچ اور مشاورتی کمپنی سی-ایس ٹی پی ایس، ایل ایل سی کی صدر بھی رہ چکی ہیں۔ وہ میساچوسٹس، کیمبرج میں قائم ایک عالمی پالیسی تحیقی کنسلٹینسی ایبٹ ایسوسی ایٹس کے سینٹر فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی اسٹڈیز کی ڈائریکٹر بھی رہ چکی ہیں۔

وہ ناسا میں بجٹ اور فنانس کے لیے سینیئر مشیر کے عہدے پر بھی فائز رہی ہیں۔

بھاویہ خلا میں نیوکلیئر اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز سے متعلق امریکی نیوکلیئر سوسائٹی (این ای ٹی ایس) کی سالانہ کانفرنس کے پالیسی ٹریک کے شریک بانی اور شریک صدر بھی ہیں۔ وہ سمتھسونین نیشنل ایئر اینڈ سپیس میوزیم کے ساتھ خلائی تاریخ اور پالیسی سے متعلق ایک سیمینار سیریز کی مشترکہ طور پر میزبانی کرتی ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.