اتوار26؍رمضان المبارک 1442ھ 9؍مئی2021ء

انڈیاناپولس: فیڈ ایکس گودام میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والے کون تھے؟

انڈیاناپولس: فیڈ ایکس گودام میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والے کون تھے؟

انڈیاناپولس کے مقامی رہائشی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

مقامی سکھ برادری کا کہنا ہے کہ اس واقعہ سے اُنھیں بے حد صدمہ پہنچا ہے

امریکی ریاست انڈیاناپولس کے حکام نے جمعرات کی شب فیڈایکس کے گودام میں فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہونے والے آٹھ افراد کے نام جاری کر دیے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں چار کا تعلق مقامی سکھ برادری سے ہے۔ ان میں ایک ماں، ایک والد اور دو دادیاں شامل ہیں۔ ديگر متاثرین میں دو 19 سالہ نوجوان، ایک یونیورسٹی گریجویٹ اور ایک والد شامل ہیں۔

مقامی سکھ برادری کا کہنا ہے کہ اس واقعہ سے اُنھیں بے حد صدمہ پہنچا ہے.

حکام کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا حملہ کا ہدف سکھ برادری تھی۔

پولیس چیف رینڈیل ٹیلر کا کہنا ہے کہ فیڈایکس گودام میں کام کرنے والے 90 فی صد ملازمین کا تعلق سکھ برادری سے ہے۔

پیش ہیں حملے کے متاثرین کے بارے میں ہمیں موصول ہونے والی تفصیلات.

Short presentational grey line

امرجیت کور جوہل، عمر 66 برس

امرجیت کور جوہل اپنے پوتہ پوتیوں کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہAmarjeet Kaur Johal family

،تصویر کا کیپشن

امرجیت کور جوہل کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ وہ بے حد صدمے میں ہیں

اخبار انڈیاناپولس سٹار کے مطابق جوہل ‘ایک ماں تھیں، ایک دادی اور انڈیانا پولس کی سکھ برادری کی ایک رکن۔‘’

ان کی پوتی کومل چوہان کا کہنا ہے کہ اپنی دادی کی موت سے ان کا ‘دل ٹوٹ’ گیا ہے۔

سکھ برادری کے ایک اتحاد کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کومل چوہان نے کہا ہے کہ میرے خاندان کے متعدد افراد اسی گودام میں کام کرتے ہیں اور سب کے سب خوف زدہ اور سکتے میں ہیں۔

ان کا کہنا ہے ‘میری دادی یا میرے خاندان کے کسی بھی فرد کو اپنے کام کے مقام یا عبادت گاہ میں غیر محفوظ محسوس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بس اب حد ہوگئی ہے۔ ہماری برادری نے بہت صدمے برداشت کیے ہیں۔’

جسوندر سنگھ، عمر 70 برس

جسوندر نگھ کی سسرال کے ایک فرد ہرجاپ سنگھ ڈھلون نے اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ جسوندر سنگھ نے ایک ہفتے قبل ہی اس گودام میں ملازمت شروع کی اور اُنھوں نے سب کو بتایا تھا کہ وہ بے حد خوش تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی رات جسوندر سنگھ نائٹ شفٹ پر تھے اور جس وقت حملہ ہوا وہ ڈاک ترتیب دے رہے تھے۔

وہ مقامی گوردوارے کے ایک سرکردہ رکن تھے کیلیفورنیا سے انڈیاناپولس آ کر بسے تھے۔

ڈھلون مزید بتاتے ہیں، ’وہ ایک سادہ شخص تھے۔ وہ بہت زیادہ عبادت اور مراقبہ کرتے تھے اور سماجی خدمات انجام دیتے تھے۔‘

حکام کے مطابق سنگھ کی عمر 68 برس ہے لیکن ان کے خاندان والوں نے نیویارک ٹائمز کو ان کی عمر 70 برس بتائی ہے۔

امرجیت سیکھون

امرجیت سیکھون کی بھانجی نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ دو بیٹوں کی والدہ سیکھون نے چھ ماہ قبل رات کی شفٹ میں فیڈیکس گودام میں ملازمت شروع کی تھی۔

ان کے بہنوئی کلدیپ سیکھون نے خبر رساں ادارے اسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا، آُنھیں کام کرنے کا جنون تھا۔ وہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرتی رہتی تھی۔ وہ تب تک نہیں بیٹھتی تھیں جب تک واقعی ان کی طبیعت خراب نہ ہو۔’

حکام کے مطابق ان کی عمر 48 برس ہے جبکہ ان کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ وہ 49 برس کی تھیں۔

جسوندر کور، عمر 50 برس

جسوندر کور

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

جسوندر کور کے خاندان والے ایک خاموش احتجاج کے دوران جمع ہوئے

جسوندر کور کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون رپمپی گرن نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ سنیچر کو اپنی پوتی کے دوسرے جنم دن کے موقع پر ایک بڑی دعوت پر وہ اپنا ‘مشہور دہی’ بنانے کی تیاری کر رہی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اور آج ہم ان کی آخری رسومات کے لیے جمع ہورہے ہیں۔’

حکام کا کہنا ہے کہ جسوندر کور کی عمر 64 برس تھی لیکن ان کے خاندان والوں نے میڈیا کو بتایا کہ ان کی عمر 50 برس تھی۔

سماریا بلیک ویل، عمر 19 برس

سماریا بلیک ویل اپنے والدین کے ساتھ

،تصویر کا کیپشن

19 سماریا بلیک ویل فٹ بال کھیلتی تھیں

سماریا بلیک ویل کی عمر 19 برس تھی۔ اُنھیں فٹبال اور باسکٹ بال کھیلنے کا شوق تھا اور بڑی ہوکر پولیس افسر بننا چاہتی تھیں۔

ان کے والدین جیف اور ٹمی بلیک ویل نے آخری رسومات اور ديگر اخراجات کے لیے فنڈ جمع کرنے والے ویب سائٹ ’گو فنڈ می‘ پر شائع کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘ہم پر خدا کی رحمت تھی کہ اتنی زندہ دل اور ہمارا خیال رکھنے والی لڑکی ہمارے یہاں پیدا ہوئی تھی۔‘

بیان میں کہا گیا ہے ’سماریا ہر کام بخوبی کرتی تھی۔ باسکٹ بال اور فٹ بال کھیلنے سے لے کر اینڈی پارکس میں لائف گارڈ کے فرائض وہ بخوبی انجام دیتی تھی۔‘

‘ایک عقل مند اور امتحان میں ہمیشہ ‘اے’ حاصل کرنے والی سماریا کوئی بھی کام انجام دے سکتی تھی اگر اس کام میں اُن کا دل اور دلچسپی ہوتی۔‘

جان ویزرٹ، عمر 74 برس

جان ویزرٹ کے بیٹے مائیک ویزرٹ نے نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ ان کے والد فضائیہ کے سابق اہلکار تھے۔ اُنھوں نے ویتنام میں اپنے فرائض انجام دیے اور بعد میں ذریعہ معاش کے لیے میکینکل انجینیئر کے طور پر کام کیا۔

مائیک ویزرٹ کا مزید کہنا تھا کہ ان کے والد آئندہ چند ماہ میں ریٹائر ہونے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔

جان ویزرٹ کی 50 سالہ اہلیہ میری کیرل ویزرٹ نے مقامی نشریاتی ادارے ڈبلو کے آر سی کو بتایا کہ اُنھیں اپنے خاوند کی موت پر ’خوف، ڈر اور صدمے کا احساس ہوا ہے۔`

ان کا کہنا تھا، ’مجھے نہیں معلوم کہ اپنے جذبات کو اور کس طرح بیان کروں۔‘

میری کیرل ویزرٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

میری کیرل ویزرٹ نے مقامی نشریاتی ادارے ڈبلو کے آر سی کو بتایا کہ اُنھیں اپنے خاوند کی موت پر بہت صدمہ ہے

نیویارک ٹائمز کے مطابق ’ایکشن اور کلاسک فلموں کے شوقین، جان ویزرٹ کو کنٹری اور بلوگراس گیٹار بجانے کا شوق تھا۔

مائیک ویزرٹ کے مطابق ان کے والد ایک ’مہذب اور رحم دل شخص تھے اور اپنے پیاروں کی ضروریات اور ان کے تحفظ کا خیال رکھنا ان کی اہم ترجیحات میں شامل تھا۔‘

کارلی سمتھ، عمر 19 برس

اخبار انڈیاناپولس سٹار اخبار نے کارلی سمتھ کے خاندان والوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ ایک بہن اور ایک بیٹی تھی۔

ان کے خاندان کے ایک فرد نے اخبار کو بتایا کہ حال ہی میں ہائی سکول کی تعلیم مکمل کرنے والی کارلی دو ہفتے قبل فیڈایکس گودام میں ملازمت شروع کرنے کے بعد اپنی پہلی تنخواہ کا اتنظار کر رہی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ ایک بہت خوبصورت اور پرجوش نوجوان لڑکی تھی۔ اس نے حال ہی میں دل لگا کر کام کرنا شروع کیا تھا، ملازمت ڈھونڈی تھی اور زندگی کو تھوڑا سنجیدگی سے لینا شروع کیا تھا۔‘

میتھو آر الیگزینڈر، عمر 32 برس

انڈیانا پولس سٹار کے مطابق میتھو الیگزینڈر، بٹلر یونیورسٹی کے سابق طالب علم تھے اور کئی برسوں سے فیڈایکس گودام میں ملازمت کر رہے تھے۔

فیڈایکس گودام میں ان کے ایک سابق ساتھی ایلبرٹ ایشکرافٹ نے بتایا ‘وہ ایک بہت اچھا لڑکا تھا۔ اسے گولف کھیلنے کا شوق تھا۔ وہ بڑے دل کا مالک تھا اور اس کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی۔‘

ان کا مزید کہنا تھ، کہ ’ہر کوئی اسے پسند کرتا تھا۔ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی کی مدد کررہا ہوتا تھا۔ لوگ ڈونٹس لاتے تھے اور وہ ہمیشہ ان کو اپنے ڈرائیوروں لیے بچاکر پیچھے رکھ دیتا تھا۔‘

بٹلر یونیورسٹی نے ایک ٹویٹ کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے ”بٹلر برادری انڈیاناپولس میں واقع فیڈایکس گودام کے اندر فائرنگ کے واقعے میں سات دیگر افراد کے ساتھ بے رحمی سے ہلاک کردیے جانے والے اپنے سابق سٹوڈنٹ میتھو الیگزینڈر کی موت کا سوگ منا رہی ہے۔ اس مشکل گھڑی میں ہم میتھو کے خاندان اور دوستوں کے ساتھ ان کے غم میں شریک ہیں۔‘

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.