اتوار6؍شعبان المعظم 1442ھ 21؍مارچ2021ء

انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے غرب اردن اور غزہ میں جنگی جرائم کی تحقیقات شروع کر دی

عالمی عدالت انصاف نے غرب اردن اور غزہ میں جنگی جرائم کی تحقیقات کا آغاز کر دیا

فلسطینی بچہ

عالمی عدالت انصاف کی چیف پراسیکیوٹر نے فلسطینی علاقوں میں مبینہ جنگی جرائم کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

فتاؤ بن سودا نے کہا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے دوران 13 جون 2014 سے لے کر اب تک کے اسرائیل کے زیرِ قبضہ غربِ اردن، مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی میں ہونے والے واقعات کا احاطہ کیا جائے گا۔

گزشتہ ماہ دی ہیگ میں قائم عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ وہ فلسطینی علاقوں پر اپنا فوجداری دائرہِ اختیار بڑھا سکتی ہے۔

اسرائیل نے بن سودا کی تحقیقات کے فیصلے کو مسترد کردیا جبکہ فلسطینی حکام نے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔

عالمی عدالت انصاف (آئی سی سی) کو اختیار ہے کہ وہ ریاستوں اور ان خطوں کی سرزمین پر نسل کُشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف معاہدہِ روم کی کے مطابق کارروائی کرے جنھیں اقوام متحدہ تسلیم کرتا ہے۔ عالمی عدالت کی تشکیل کی بنیاد معاہدہِ روم ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اسرائیل نے کبھی بھی معاہدہِ روم کی توثیق نہیں کی لیکن اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے سنہ 2015 میں فلسطینیوں کے الحاق کی توثیق کر دی تھی۔

فتوحا بن سودا

فتوحا بن سودا نے کہا ہے کہ ’اصل توجہ زیادتیو ں کے شکار ہونے والوں پر کیے جانے والے جرائم پر ہونی چاھیے‘

بدھ کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں بن سودا نے کہا کہ ’جب بھی کسی ریاست کی کسی صورتحال کو پراسیکیوٹر کے دفتر میں تحقیقات کے لیے بھیجا جاتا ہے اور اس بات کا تعین کر لیا جاتا ہے کہ تفتیش شروع کرنے کے لئے کوئی معقول بنیاد موجود ہے تو وہ (چیف پراسیکیوٹر) اس بات کا پابند ہے کہ اس معاملے پر تحقیق کا کام شروع کردے۔‘

بن سودا نے کہا کہ انھوں نے ایک ’صبر آزما تحقیقاتی کام‘ کا آغاز کیا جو تقریباً پانچ سال تک جاری رہا اور انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ اب یہ تفتیش آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور بغیر کسی خوف اور بغیر کسی کی حمایت میں، کی جائے گی۔

انھوں نے کہا ’ہمارے پاس معاہدہِ روم کے تحت پیشہ ورانہ ایمانداری کے ساتھ اپنے قانونی فرائض کو پورا کرنے کے علاوہ اور کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔‘

بن سودا نے یہ کہتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے سنہ 2010 میں غزہ جانے والے (فریڈم فلوٹیلا تین جہازوں سے ایک) ’ماوی مرمارا‘ پر 10 ترک کارکنوں کے اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں قتل کیے جانے کے واقعے کی تحقیقات سے انکار کیا تھا۔

انھوں نے مزید کہا تاہم موجودہ صورتحال میں پیشرفت کی ایک معقول بنیاد موجود ہے اور قابل قبول مواد بھی موجود ہے۔‘

اسرائیلی پولیس آفیسر

بن سودا نے یہ بھی زور دیا کہ اس تحقیق میں بنیادی توجہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں جانب کے جرائم کے متاثرین پر ہونی چاہیے جو تشدد اور عدم تحفظ کے طویل عرصے سے متاثر ہوئے ہیں اور جو سب کے لیے گہری اذیت اور مایوسی کا باعث بنا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ تحقیقات کے آغاز کا فیصلہ ’یہودیت مخالفت اور منافقت کا مظہر ہے‘ اور انھوں نے ان تحقیقات کے فیصلے کو واپس کروانے کی کوشش کا وعدہ کیا ہے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ ’آج اسرائیل کی ریاست پر حملہ کیا گیا ہے۔ یہودی عوام کے خلاف نازیوں کے ذریعہ ہونے والے مظالم کی تکرار کو روکنے کے لیے قائم کردہ عدالت اب یہودی عوام کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔‘

فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے کہا کہ ’فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی قبضے کے رہنماؤں کی طرف سے کیے جانے والے جرائم۔۔۔ جو ابھی بھی منظم اور بڑے پیمانے پر جاری ہیں۔۔۔ اس تحقیقات کا تقاضہ کرتے ہیں۔‘

امریکہ کی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے ’سنگین جرائم کے شکار اسرائیلی اور فلسطینی متاثرین کو انصاف کے حصول کی جانب ایک قدم بڑھانے کا مو قعہ ملا ہے جس سے انھیں طویل عرصے سے محروم رکھا گیا تھا۔‘

جنگ زدہ علاقہ

عالمی عدالت انصاف کی تحقیقات میں سنہ 2014 میں اسرائیلی فوج اور غزہ کے فلسطینیوں کے درمیان ہونے والی 50 روزہ جنگ کے واقعات کی بھی تحقیق ہو گی

مبینہ جرائم جن کی تحقیقات کی جارہی ہیں؟

خیال کیا جاتا ہے کہ بن سودا کے ابتدائی جائزے میں غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر جیسے امور پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

جب فلسطینیوں نے معاہدہِ روم پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تو اس طرح انھوں نے 13 جون 2014 کے بعد ہونے والے جرائم کے مبینہ مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی کے مقصد کے لئے آئی سی سی کے دائرہ اختیار کو تسلیم کیا ہے۔

یہ غزہ میں اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے درمیان اس وقت کی ایک جنگ شروع ہونے سے ایک ماہ قبل کی بات ہے۔ اس لڑائی میں 2251 فلسطینی، جن میں 1462 شہری شامل تھے، ہلاک ہوئے تھے جبکہ اسرائیل کے 67 فوجی اور 6 عام شہری مارے گئے تھے۔

ابتدائی تحقیق کے مطابق بن سودا نے کہا کہ یہ یقین کرنے کی ایک معقول بنیاد ہے کہ جنگ کے تناظر میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے اور یہ الزام اسرائیلی دفاعی فوج (آئی ڈی ایف) کے اہلکاروں اور حماس اور دیگر مسلح فلسطینی گروپوں کے ممبروں کے خلاف بھی درج کیا جاسکتا ہے۔

پراسیکیوٹر نے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ یقین کرنے کی ایک معقول بنیاد ہے کہ مغربی کنارے پر اسرائیل کے قبضے کے تناظر میں، اسرائیلی حکام کے ممبروں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.