جمعہ20؍ رجب المرجب 1442ھ 5؍مارچ2021ء

انسٹاگرام پر سرمایہ کاری کی ’جعلی سکیم‘ جس نے 24 سالہ نوجوان کو کنگلا کر دیا

انسٹاگرام پر سرمایہ کاری کی ’جعلی سکیم‘ جس نے 24 سالہ نوجوان کو کنگلا کر دیا

جوناتھن ریوبن

دھوکہ دہی اور سائبر کرائم کے لیے برطانوی پولیس کے قومی رپورٹنگ سینٹر ’ایکشن فراڈ‘ کے نئے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے ساتھ ہر مہینے انسٹاگرام کے ذریعے دھوکہ دہی کا نشانہ بننے والے افراد کی تعداد میں صرف برطانیہ میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ دھوکہ دینے والوں کے ہاتھوں لٹنے والی رقم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ وبائی مرض سے پہلے یہ رقم اوسطاً 60 ہزار پاؤنڈ تھی لیکن اب یہ بڑھ کر ایک مہینے میں دو لاکھ پاؤنڈ ہو گئی ہے۔

جوناتھن نے بتایا کہ مبینہ جعل ساز گروونگ سنگھ، جو پلے ماؤتھ سے تعلق رکھتے ہیں، نے ان کے سامنے دعویٰ کیا کہ وہ غیر ملکی زرمبادلہ کے کاروبار سے امیر ہوئے ہیں۔ گروونگ سنگھ نے اس کے بعد انسٹاگرام پر ایسے صارفین کو، جو انھیں فالو کرتے تھے، کو جلد از جلد امیر کرنے والی اپنی تجارت کے بارے میں بتانے کی پیشکش کی۔

گروونگ سنگھ

مبینہ جعل ساز گروونگ سنگھ نے دعویٰ کیا کہ وہ غیر ملکی زرمبادلہ کے کاروبار سے امیر ہوئے

’انھوں نے کہا کہ وہ جو بھی تجارت کرتے ہیں، میرے سائن اپ ہونے پر اس کی تفصیلات میرے اکاؤنٹ میں آ جائے گی۔‘

جوناتھن نے کہا کہ انھیں سرمایہ کاری پر فوری منافع دینے کا وعدہ کیا گیا اور انفینوکس نامی تجارتی پلیٹ فارم تک رسائی دی گئی، جہاں وہ اپنی سرمایہ کاری کی کارکردگی کا جائزہ کسی بھی وقت لے سکتے تھے۔

شروع میں ان کا منافع بڑھا تو انھوں نے مزید پیسوں کی سرمایہ کاری کی لیکن کچھ مہینوں بعد انھیں شک ہوا جب انھوں نے دو دن میں اپنے فنڈز کو لگاتار گرتے دیکھا۔

’میں نے اپنی رقم نکالنے کی کوشش کی لیکن مجھے کہا گیا کہ یہ کوشش ناکام ہو گئی ہے۔ میں نے ان سے وضاحت مانگی تو انھوں نے کہا کہ بریگزٹ کی وجہ سے منافع کم ہو گیا ہے۔ کچھ دن بعد میرا سارا پیسہ اڑ چکا تھا اور میں گروونگ یا اس میں شامل کسی شخص کو رابطہ نہیں کر پا رہا تھا۔ میں نے پولیس کو اس بارے میں اطلاع دی۔‘

’لوگ بری صورتحال میں پھنس جاتے ہیں‘

سائبر سکیورٹی کے ماہر جیک مور کا کہنا ہے کہ ہر روز سوشل میڈیا کو استعمال کرنے والے بہت سے نوجوان اس طرح کے دھوکے کا شکار ہو جاتے ہیں۔

’لوگ بری صورتحال میں پھنس جاتے ہیں اور اس پر یقین کرنا چاہتے ہیں اور ایسا لائف سٹائل چاہتے ہیں خاص طور پر ایسے دنوں میں جب نوجوان ملازمت کی تلاش میں بہت جدوجہد کر رہے ہیں۔ آپ یقینی طور پر لوگوں کو پیسہ کمانے کے نئے اور مختلف طریقے اپناتے ہوئے دیکھے گے۔‘

کرنسی

’سوشل میڈیا پر لاکھوں اکاؤنٹس ہیں اور الگورتھم ابھی اتنے حساس نہیں ہوئے۔ ہم ایسا کرنے کے لیے کمپیوٹر پر بھروسہ نہیں کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کمپنیوں نے ان کے خلاف دیوار کھڑی کی ہے۔‘

انھوں نے سوشل میڈیا صارفین پر زور دیا کہ جب وہ کسی ایسے شخص کے ساتھ بات کر رہے ہوں جس کے بارے میں وہ نہیں جانتے تو کبھی بھی ایسے افراد کی جانب سے بتائے جانے والی سرمایہ کاری سکیم کا استعمال نہ کریں۔

انھوں نے کہا ’ان حیرت انگیز سکیموں کی پیشکش کرنے والے اکاؤنٹس موجود ہیں جہاں آپ اپنے پیسے کو دگنا اور تین گنا کر سکتے ہیں۔ یہ فراڈ ہیں۔‘

فیس بک، جو انسٹاگرام کی ملکیت رکھتا ہے، کا کہنا ہے کہ وہ سپیم کی نشاندہی کرنے والی ٹیکنالوجی کے ذریعے اس طرح کے مواد کے خلاف تیزی سے لڑ رہے ہیں اور مسٹر سنگھ کے اکاؤنٹ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

فیس بک کے ایک ترجمان نے کہا ’انسٹاگرام پر دھوکہ دہی یا غیر اخلاقی رویئے کی کوئی جگہ نہیں۔ ہمارے پاس 35 ہزار افراد پر مشتمل ایک سکیورٹی ٹیم ہے جو ہمارے پلیٹ فارم کو محفوظ رکھنے کے لئے کام کر رہی ہے اور ہم ہر روز لاکھوں جعلی اکاؤنٹس بند کرتے ہیں۔‘

فنانشل کنڈکٹ اتھارٹی (ایف سی اے) جو برطانیہ میں مالیاتی منڈیوں پر نظر رکھتی ہے، نے کہا کہ مسٹر سنگھ کو برطانیہ میں لوگوں کو نشانہ بنانے والے غیر قانونی تاجروں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

ایکشن فراڈ کے نیشنل فراڈ انٹیلیجنس بیورو نے کہا کہ مسٹر سنگھ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں لیکن انھوں نے کہا کہ یہ کوئی مجرمانہ تفتیش نہیں۔

مسٹر سنگھ نے بی بی سی کی جانب سے اس معاملے پر اپنی رائے دینے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

انفینوکس کے ایک ترجمان نے اس تجویز کو مسترد کیا ہے کہ اس نے کسی اصول کی خلاف ورزی کی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ وہ گروونگ سنگھ کی سرگرمیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے کیونکہ انفینوکس کی فراہم کردہ کسی بھی خدمات سے ان کا تعلق نہیں ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.