ہفتہ25؍رمضان المبارک 1442ھ 8؍ مئی 2021ء

امریکی وزیر خارجہ کا شاہ محمود قریشی سے ٹیلیفونک رابطہ، ’امریکی خدشات سے باور کرایا ہے‘

قریشی-بلنکن رابطہ: پاکستان اور امریکہ کے وزرا خارجہ کے درمیان کیا بات چیت ہوئی؟

پاکستان امریکہ

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی (دائیں) اور امریکہ کی بائیڈن انتظامیہ میں نئے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن (بائیں) کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

امریکی صحافی ڈینیئل پرل 2002 میں کراچی میں اغوا کے بعد قتل کر دیے گئے تھے اور اُسی برس انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ کو سزائے موت سنائی تھی۔

لیکن اس کے 18 برس بعد دو اپریل 2020 کو سندھ ہائی کورٹ نے ان کی سزائے موت ختم کرتے ہوئے اسے فیصلے کو اغوا کے جرم میں سات برس قید کی سزا سے بدل دیا تھا جبکہ دیگر تین ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔

بلنکن اور قریشی کے درمیان کیا بات چیت ہوئی؟

امریکی دفتر خارجہ کے مطابق انٹونی بلنکن نے اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کو بتایا کہ پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلے اور ان قیدیوں کی ممکنہ رہائی پر امریکہ کو تشویش ہے۔

’اس کے علاوہ سیکریٹری (بلنکن) اور (پاکستانی) وزیر خارجہ نے افغان امن عمل میں پاکستان-امریکہ تعاون، علاقائی استحکام اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کے امکانات پر بھی بات کی۔‘

دوسری طرف اے پی پی کے مطابق وزیر خارجہ قریشی نے ‘بلنکن کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی‘ اور کہا کہ ’پاکستان امریکہ کے ساتھ کئی مسائل پر اپنی شراکت قائم رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔‘

امریکہ

مریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن نے انٹونی بلنکن کو امریکہ کا 71واں وزیر خارجہ نامزد کیا تھا

اے پی پی کے مطابق وزیر خارجہ قریشی نے بات چیت کے دوران زور دیا کہ ‘وزیر اعظم عمران خان کا ایک نیا ویژن ہے جس میں معاشی شراکت داری، علاقے میں امن اور روابط قائم کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔’

اے پی پی کے مطابق ‘ڈینیئل پرل کیس پر وزیر خارجہ قریشی نے امریکی سیکریٹری کو بتایا کہ انصاف کی قانونی طریقے سے فراہمی ضروری ہے اور سب کے لیے اسی میں بہتری ہوگی۔۔۔ وزیر خارجہ نے اس حوالے سے کیے گئے اقدامات بھی واضح کیے۔‘

‘وزیر خارجہ قریشی نے سیکریٹری بلنکن کو بتایا کہ افغانستان میں سیاسی بات چیت کے ذریعے امن کے قیام پر دونوں ملکوں کا بنیادی اتفاق ہے۔’

‘افغان امن عمل میں پاکستان نے کردار ادا کیا اور امریکہ کا ساتھی بنا رہنے کے لیے پُرعزم رہا۔’

اے پی پی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ سیکریٹری بلنکن نے کئی برسوں سے جاری امریکہ-پاکستان تعاون پر بات کی اور کہا کہ دونوں ملکوں کو کئی مسئلوں پر مزید تعاون درکار ہوگا۔ ‘انھوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے لوگوں کی قربانی کو تسلیم کیا۔’

ڈینیئل پرل کیس: ملزمان کو اب تک رہائی نہ مل سکی

خیال رہے کہ ڈینیئل پرل کے قتل کے مقدمے میں ملزمان کی رہائی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سندھ حکومت نے نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعے کے روز سندھ حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس میں سپریم کورٹ کے 28 جنوری کے فیصلے کے خلاف کے نظرثانی کی اپیل دائر کی تو رجسٹرار آفس نے نامکمل ہونے کی وجہ سے یہ اپیل واپس کردی۔

تاہم ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کی درخواست پر نظرثانی کی اپیل ایک ہفتے بعد دائر کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس دوران مقامی میڈیا پر یہ خبریں چلتی رہیں کہ سندھ حکومت نے نظرثانی کی اپیل دائر کردی ہے۔

احمد عمر شیخ

ڈینیئل پرل قتل کیس میں احمد عمر شیخ 18 برس سے زیادہ عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ان کی رہائی کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے

یاد رہے کہ 28 جنوری کو جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک تین رکنی بینچ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کے مقدمے میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف صوبائی حکومت کی طرف سے دائر کی گئیں اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے اس مقدمے میں گرفتار تمام افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

تاہم سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ابھی تک ڈینیئل پرل کے مقدمے میں حراست میں رکھے گئے افراد کو بری نہیں کیا گیا۔

ڈینیئل پرل کے قتل کے مقدمے میں احمد عمر سعید شیخ سمیت دیگر چار ملزمان کے وکیل محمود شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس عدالتی فیصلے کی مصدقہ کاپی انھیں موصول ہو گئی ہے اور اسے کراچی بھجوا دیا گیا ہے۔

اُنھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جیل کے حکام اس عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے تمام افراد کو رہا کریں گے۔

ڈینیئل پرل کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے تمام ملزمان اس وقت کراچی کی جیل میں قید ہیں۔

دوسری طرف یکم فروری کو سپریم کورٹ میں ان ملزمان کے حراست میں رکھے جانے سے متعلق ایک الگ کیس کی سماعت ہوگی اور اس بینچ کی سربراہی جسٹس عمر عطا بندیال کریں گے۔

گذشتہ برس پریل میں جب سندھ ہائی کورٹ نے ان ملزمان کی رہائی کا حکم دیا تھا تو اس پر سندھ حکومت نے نقص امن کی بنا پر انھیں حراست میں رکھنے کا حکم دیا تھا جس میں تین بار توسیع کی گئی ہے۔

اس کے خلاف ملزمان کے وکلا نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جں کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کے اقدام کو معطل کر دیا تھا۔

اس بارے میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ یہ دہشتگرد ہیں اور ان کے دہشگردوں سے تعلقات ہیں تو اس سے پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے رہائی کے فیصلے میں کیا کہا

پاکستان کی اعلیٰ عدالت نے جہاں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کو مسترد کیا وہیں احمد عمر شیخ کی ڈینیئل پرل کے اغوا کے جرم میں دی گئی سزا کے خلاف اپیل کو منظور کرتے ہوئے انھیں اس معاملے میں بھی شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔

بینچ کے سربراہ جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ حکام ’سنہ 2009 کے معاملے کو لے کر آگئے ہیں لیکن ثبوت ان کے پاس کچھ نہیں۔‘

اس فیصلے کے خلاف اپیل کا فیصلہ 18 برس بعد دو اپریل 2020 کو ہوا تھا اور سندھ ہائی کورٹ نے ان کی سزائے موت ختم کرتے ہوئے اسے اغوا کے جرم میں سات برس قید کی سزا سے بدل دیا تھا جبکہ دیگر تین ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔

لیکن اب جسسٹس مشیر عالم نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ احمد عمر سعید شیخ کے وکیل نے اغوا کے مقدمے میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے میں سنائی جانے والی سزا کو چیلنج کیا تھا اور عدالت نے اُنھیں شک کا فائدہ دیتے ہوئے اس جرم میں بھی بری کردیا ہے۔

ڈینیئل پرل

امریکی صحافی ڈینیئل پرل جنھیں 2002 میں کراچی میں اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا

جسٹس یحیٰی آفریدی کے اختلافی نوٹ میں کیا ہے

اس تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس یحیٰی آفریدی نے اپنے احتلافی نوٹ میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سندھ حکومت کی اپیلوں کو جزوی طور پر منظور کیا اور احمد عمر سعید شیخ اور ایک اور ملزم فہد نسیم کو مقتول ڈینیئل پرل کے اغوا برائے تاوان کے مقدمہ میں ملوث ہونے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان دونوں کو اغوا برائے تاوان اور انسداد دہشت گردی کی دفعہ سات کے تحت عمر قید کی سزا سنائی ہے جبکہ دیگر دو ملزمان سلمان ثاقب اور شیخ محمد عادل کی بریت سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

اپنے اس اختلافی نوٹ میں جسٹس یحیٰی آفریدی نے احمد عمر سعید شیخ کی طرف سے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو بھی مسترد کردیا۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سندھ حکومت نے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا ہے اور اٹارنی جنرل نے انھیں اس حوالے سے تمام قانونی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

دوسری جانب اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت داخلہ میں ایک اہم اجلاس اگلے چند روز میں ہوگا جس میں ڈینیئل پرل کے مقدمے میں ابھی تک زیر حراست افراد کے بارے میں آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس اجلاس میں حساس اداروں کے اہلکاروں کی شرکت بھی متوقع ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کے پاس ابھی بھی اختیار ہے کہ وہ کسی کو بھی خدشتہ نقص امن کے تحت حراست میں رکھ سکتی ہے اور ’اس حراست میں جتنی مرتبہ چاہے اضافہ کرسکتی ہے۔‘

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد امریکی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ پاکستانی حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ انصاف کی جلد فراہی کے لیے قانونی راستے دیکھے جائیں گے۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.