اتواریکم رجب المرجب 1442ھ 14؍ فروری2021ء

امریکی جمہوریت ابھی کمزور ہے: بائیڈن

امریکی جمہوریت ابھی کمزور ہے: بائیڈن

جو بائیڈن

،تصویر کا کیپشن

جو بائیڈن

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تشدد پر اکسانے کے الزامات سے بری کیے جانے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ جمہوریت ابھی کمزور ہے۔امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تشدد پر اکسانے کے الزامات سے بری کیے جانے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ جمہوریت ابھی کمزور ہے۔

کانگریس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ان کی اپنی جماعت کے سات ارکان کی طرف سے ووٹ دیئے جانے کے باوجود ڈیموکریٹ پارٹی دو تھائی اکثریت تک نہیں پہنچ سکی جس کی وجہ سے ٹرمپ کو سنگین نوعیت کے الزامات سے بری قرار دیا گیا۔

صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کو خوش آئیند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے خلاف مواخذے کی تحریک کو بدلا لیے جانے کی کوشش قرار دیا۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ گزشتہ ماہ کیپٹل ہل پر حملے میں سابق صدر ٹرمپ کے کردار کے الزامات پر دو رائے نہیں تھی لیکن وہ اس نظام آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

سینیٹ میں ہفتے کو سماعت کے بعد 57 ارکان نے ٹرمپ کے خلاف ووٹ ڈالا جب کے 43 نے ان کے حق میں ووٹ دیا۔ ٹرمپ کو ان الزامات میں مجرم ٹھہرانے کے لیے 67 ووٹ درکار تھے۔

سینیٹ میں ووٹ ارکان کی اکثریت نے اپنی سیاسی وابستگیوں کے مطابق ہی ڈالے لیکن ڈیموکریٹ کے 48 ارکان کے ساتھ سات رپبلکن اور دو آزاد ارکان نے بھی صدر ٹرمپ کو مجرم قرار دینے کے حق میں ووٹ ڈالا۔

سابق صدر ٹرمپ پر بغاوت پر اکسانے کا الزام تھا جس کے بعد ان کے حامیوں نے جنوری کی چھ تاریخ کو پارلیمان کی عمارت کیپٹل ہل پر ہلہ بول دیا۔ اس واقع میں ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ڈیموکریٹ کے استغاثہ نے کہا کہ ٹرمپ نے انتخابات کو چرانے کے جھوٹے دعوئے کر کے اپنی حامیوں کو اشتعال دلایا تھا۔

ٹرمپ کے وکلاء نے ان کی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے الفاظ سے اشتعال نہیں پھیلا اور سینیٹ کو ان پر مقدمہ نہیں چلانا چاہیے۔

امریکہ کی تاریخ میں صدر کے مواخذے کی بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔ ٹرمپ سے قبل صرف دو صدور کے خلاف مواخذے کی تحاریک پیش کی گئیں ہیں لیکن وہ واحد صدر ہیں جن کے خلاف دو مرتبہ مواحذے کی تحریک کانفریس سے منظوری کے بعد سینیٹ میں سماعت کے مرحلے تک پہنچیں۔

ایک تلخ باب: بائیڈن

ٹرمپ کو بری جانے پر رد عمل دیتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا ‘الزامات پر ہونے والی ووٹنگ کے بعد سزا نہیں ہو سکی لیکن الزامات کی صحت پر کوئی تنازع نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘یہ ہماری سیاسی تاریخ کا ایک تلخ باب ہے جو ہمیں یہ یادہانی کراتا ہے کہ جمہوری نظام اب بھی کمزور ہے۔ ہمیں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ تشدد اور انتہا پسندی کی امریکہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہمیں میں سے ہر ایک کی یہ ذمہ داری اور فریضہ ہے اور خاص طور قائدین کا کہ حق اور سچ کا دفاع کیا جائے اور جھوٹ کو شکست دی جائے۔’

بائیڈن نے مواخذے کے اس سارے معاملے سے اپنے آپ کو الگ رکھا ہے اور اس کی کارروائی بھی نہیں دیکھی۔ ان کے مشیروں کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ان کو اپنی صدارت کے ابتدائی دنوں ہی میں مملکت کے اہم امور سے توجہ ہٹانے کا باعث بن سکتے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے رد عمل میں اس مقدمے کو ملک کی تاریخ میں ان کے خیالات کی وجہ سے ان کو نشانہ بنانے کی بدترین مثال ہے۔ اگر ان کو سزا دے دی جاتی تو وہ دوبارہ صدارت کے عہدے کے اہل نہیں رہتے۔

سابق صدر ٹرمپ کے بیان سے یہ اشارے ملتے ہیں کہ وہ امریکی سیاست سے کنارہ کشی اختیار نہیں کر رہے اور فعل کردار ادا کرتے رہیں گے۔

انہوں ے کہا کہ ‘ ہماری امریکہ کو ایک مرتبہ پھر عظیم بنانے کی تاریخی، حب الوطنی پر مبنی خوبصورت تحریک ابھی شروع ہوئی ہے۔’

مچ میکونل ٹرمپ کو ہنگامے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

ٹرمپ

سینیٹ میں ووٹنگ ہو جانے کے بعد بھی حزب اختلاف رپبلکن پارٹی کے سینیئر رہنما مچ میکونل کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ پارلیمان کی عمارت پر حملے کے ذمہ دار تھے۔

انہوں نے ٹرمپ کو سزا دینے کے خلاف ووٹ ڈالا تھا اور ان کا کہنا کیونکہ ٹرمپ اب صدر نہیں رہے اس لیے یہ سارا عمل غیر آئینی ہے۔ مچ میکونل ٹرمپ کے خلاف مقدمے کو مدت صدارت 20 جنوری کو ختم ہونے جانے تک موخر کرنے میں بھی سرگرم تھے۔

رپبلکن کی ایک رکن جنہوں نے ٹرمپ کو سزا دینے کے حق میں ووٹ دیا وہ سوزن رائس تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے اپنے ذاتی مفادات کے آگے قومی مفادات کو پس پشت ڈال دیا اور پارلیمان کی عمارت پر حملے کی بڑی ذمہ داری ان پر ہی عائد ہوتی ہے۔

‘کیونکہ یہ اختیارات کے ناجائز استعمال اور اپنے حلف سے انحراف کرنے کا معاملہ تھا اس لیے یہ آئین کی کسوٹی پر بڑے جرائم اور نامناسب رویے کے ضمرے میں آتا ہے ان ہی وجوہات کی بنا پر میں نے ٹرمپ کو سزا دینے کے حق ووٹ دیا تھا۔’

حزب اقتدار ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے ٹرمپ کو ووٹ دینے والے رپبلکن ارکان کو بزدل کہا۔

رپبلکن جماعت کی اکثریت کی طرف سے ٹرمپ کے حق میں ووٹ دیئے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا اب بھی اپنی جماعت کا خاص اثر و رسوخ ہے۔

رپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے سینیٹ میں مقدمے سے ڈیموکریٹ پارٹی کے ارکان کو تسکین حاصل ہوئی کہ انھوں نے ان مرتبہ پھر ڈونلڈ ٹرمپ اور کروڑوں لوگوں کے خلاف اپنی نفرت کا مظاہرہ کیا جنہوں نے ان کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.