پیر 2 رجب المرجب 1442ھ 15؍ فروری2021ء

‘الیکشن خفیہ ہو مگر شکایت پر جانچ پڑتال ہوسکے’

سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن  خفیہ ہو مگر شکایت پر اس کی جانچ پڑتال ہوسکے آئین کےتحت الیکشن کمیشن کےاختیارات کوئی قانون کم نہیں کرسکتا۔

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کے صدارتی ریفرنس پرسپریم کورٹ میں سماعت ہوئی تو چیف جسٹس نے کہا کہ ہم چیف الیکشن کمشنر سے سوالات کرنا چاہتے ہیں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے تمام ارکان کل عدالت میں پیش ہوں، سپریم کورٹ نے سینیٹ الیکشن اور اس کی پوری اسکیم طلب کرلی۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ عام انتخابات سیکرٹ بیلٹ سے ہوتے ہیں لیکن کاؤنٹر فائلز ہوتی ہیں جب تنازع ہوتا ہے تو کاؤنٹر فائلز لی جاسکتی ہیں کیاالیکشن رولز کےان سیکشنز کےنیچے بھی سینیٹ الیکشن کی ووٹوں کی جانچ ہوسکتی ہے؟

وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ آئین کے آرٹیکل 218کےمطابق کرپٹ پریکٹس  روکنے کا طریقہ  دیا گیا ہے، جسٹس اعجازالاحسن نے پوچھا کہ آپ کہیں گےسیکرٹ بیلٹ ہے اور ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں جس پر وکیل نے کہا کہ سیکریسی آرٹیکل 226 کا مینڈیٹ ہے۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ صوبائی اسمبلیاں قانون سازی سےوفاقی ادارے کو پابند بناتی ہیں، پارلیمنٹ نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سےکرانے کی ترمیم نہیں کی۔ اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا کہ جمہوریت کی بقا شفاف انتخابات میں ہی ہے بعض اوقات قانون سازی کےلئے عدالتی تشریح کی ضرورت ہوتی ہے،  عدالت تشریح کرتی ہے اور پارلیمنٹ اس کے مطابق ترمیم کرتی ہے، ماضی میں عدالتی احکامات کےمطابق الیکشن کمیشن کو اختیارات دیےجاچکے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ عمومی تاثر ہے کہ سینیٹ الیکشن میں پیسوں کا زور ہے، سینیٹ الیکشن کے حوالے سے وڈیوز بھی منظر پر آچکی ہیں، الیکشن کمیشن نے کرپٹ پریکٹس سےنمٹنے کے کیا اقدامات اٹھائے؟

عدالت نے چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن ارکان کو کل طلب کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے اسکیم پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

You might also like

Comments are closed.