اتوار22؍ رجب المرجب 1442ھ 7؍مارچ2021ء

آنگ سانگ سوچی کون ہیں اور ان کی حکومت کو انسانی حقوق کے کن الزامات کا سامنا رہا ہے؟

آنگ سانگ سوچی کون ہیں اور ان کی حکومت کو انسانی حقوق کے کن الزامات کا سامنا رہا ہے؟

سوچی

نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کو روہنگیا بحران پر خاموشی اختیار کرنے کے لیے ماضی میں تنقید کا نشانہ بنایا گيا

سوچی کو اپنے ملک میں جمہوریت کے حق میں آواز بلند کرنے پر کئی برس تک نظربند رہنے کی وجہ سے امن کا نوبیل انعام بھی مل چکا ہے، لیکن اب وہ ان الزامات کا سامنا کر رہی ہیں کہ وہ روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے تشدد کے خلاف بولنے میں ناکام رہی ہیں۔

تو وہ اس بارے میں کیا کہتی ہیں؟

انسانی حقوق کی ہیروئین

سنہ 2012 میں جب سوچی کو نویبل انعام ملا تو انھوں نے ناروے کے شہر اوسلو میں ایک تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس نوبیل انعام نے دنیا کی توجہ میانمار میں ہونے والی جدوجہد کی طرف مبذول کروائی ہے۔

میانمار

روہنگیا اقلیت میں اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے

اس موقعے پر انھوں نے انسانی حقوق سے متعلق عالمی قرارداد سے اپنا پسندیدہ پیراگراف پڑھنے سے پہلے کہا کہ ’برما میں بہت سی لسانی قومیتوں اور عقائد کے ماننے والے آباد ہیں اور اس کا مستقبل اصل اتحاد سے ہی مل سکتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ دنیا میں بے گھر، نقل مکانی کرنے والے اور بے یار و مدد گار افراد نہ ہوں اور دنیا کے ہر کونے کے مکین مکمل آزادی اور امن کے ساتھ زندگی گزاریں۔

یہ سوچی کے الفاظ ہیں جو کہ کئی برس تک دنیا میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں میں ایک ہیروئین کے طور پر موجود تھیں۔

وہ سنہ 1990 سے سنہ 2010 تک اپنے گھر میں نظر بندی کے عرصے میں فوجی آمریت کے خلاف عزم و استقلال کی علامت کے طور پر پہنچانی جاتی تھیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بنگلہ دیش کے کیمپوں میں پیدا ہونے والے روہنگیا بچے

خاموشی

اسی برس جب انھیں نوبیل انعام ملا اور میانمار میں فرقہ واریت پر مبنی تشدد شروع ہو گیا اور پھر ایک لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمان مہاجر بن کر کیمپوں میں منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔

رخائن میں کم ازکم 200 افراد مسلمانوں اور بودھ گروہوں کے درمیان فسادات میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اس وقت سوچی حزبِ مخالف میں تھیں اور انھوں نے عالمی برادری کو دوبارہ یقین دلایا اور وعدہ کیا کہ وہ اقتدار میں آ کر انسانی حقوق اور جمہوری روایات پر کار بند رہیں گے۔

لیکن اب جب کہ ان کی جماعت اقتدار میں آ گئی ہے، ناقدین ان پر خاموش رہنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

برطانیہ کے ایک سینئیر وزیر نے برطانوی اخبار انڈی پینڈنٹ کو بتایا کہ’ میں ان سے اس معاملے میں اخلاقی قیادت کی توقع رکھتا تھا لیکن وہ واقعی اس بارے میں بالکل بھی نہیں بولیں۔‘

روہنگیا مسلمانوں کی نقل مکانی سنہ 2013 تک جاری رہی اور خزاں کے موسم تک ایک لاکھ 40 ہزار روہنگیا اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو چکے تھے اور تشدد رخائن سے نکل کر میانمار کے مرکز تک پہنچ گیا ہے۔

بین الاقوامی سطی پر این جی اوز اور اقوام متحدہ کی جانب سے متاثرین کے لیے مدد کی کوشش کی گئی۔

روہنگیا

حکومت کا کہنا ہے کہ روہنگیا مسلمان اور انتہاپسند جنگجو خود ہی اپنے گاؤں جلا رہے ہیں لیکن بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ ستمبر میں اس علاقے کا دورہ کیا اور بتایا کہ انھوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک گاؤں کو جلتے ہوئے دیکھا ہے

حکومت پر الزام

سوچی نے بی بی سی کی مشال حسین سے اسی برس اکتوبر میں گفتگو کے دوران اس الزام کو مسترد کیا کہ مسلمانوں کی نسل کشی ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ خطرہ اور خوف کہ مسلمانوں کو بودھ نشانہ بنا رہے ہیں، مشکلات کی جانب لے کر جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ طویل عرصے تک آمریت کے سائے تلے رہیں تو پھر ایک دوسرے پر لوگ اعتماد نہیں کرتے۔

سنہ 2015 میں سوچی کو ایک بار پھر بین الاقوامی برادری کی جانب سے اٹھنے والی آوازوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں میانمار میں ہونے والے تشدد اور بحران کی مذمت کی گئی تھی۔

دلائی لاما نے کہا کہ انھوں نے سوچی کو دو بار بذات خود کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر قدم اٹھائیں۔

’میں ان سے دو مرتبہ ملا، پہلی بار لندن میں، پھر جمہوریۂ چیک میں۔ میں نے ان سے گفتگو میں اس مسئلے کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے اس میں کچھ مشکلات دیکھی ہیں، چیزیں آسان نہیں بلکہ بہت پیچیدہ ہیں۔‘

گذشتہ برس نومبر میں سوچی کی جماعت نیشنل لیگ نے واضح برتری حاصل کی۔ لیکن لاکھوں افراد بشمول روہنگیا مسلمانوں کو رائے شماری میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی۔ سات علاقے ایسے تھے جہاں لسانی فسادات ہو رہے تھے جس کی وجہ سے وہاں ووٹنگ نہیں کروائی گئی۔

ابھی ووٹوں کی گنتی جاری تھی کہ سوچی نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ’ تعصب اتنی آسانی سے نہیں جاتا اور نفرت آسانی سے ختم نہیں ہوتی۔۔۔ میں پریقین ہوں کہ زیادہ تر لوگ امن چاہتے ہیں۔۔۔ وہ نفرت اور خوف میں نہیں رہنا چاہتے۔‘

سنہ 2015 کے انتخابات سے پہلے تک وہ کہتی تھیں کہ یہ حکومت کا مسئلہ ہے اور وہی اسے حل کر سکتی ہے۔ اب اقتدار میں آنے کے بعد انھوں نے ثابت کرنا تھا کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے کی خواہش رکھتی ہیں۔

لیکن انھوں نے اپنے آپ کو ایک عجیب صورتحال میں پایا۔

انھوں نے اہم ترین فیصلے کیے لیکن فوج نے تین اہم وزارتوں داخلہ، دفاع اور سرحدی امور پر کنٹرول برقرار رکھا۔

سوچی کا ان واقعات پر بہت کم اختیار ہے۔ روہنگیا کے معاملے پر بولنا یقینی طور پر قوم پرست بودھ برادری اور فوجی حکام کے غصے کو بڑھاوا دے گا۔

یہاں یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ روہنگیا کے لیے میانمار کے عوام میں رحمدلی کے جذبات بہت کم ملتے ہیں۔

اس سے یہ وضاحت ہوتی ہے وہ انھوں نے اب تک روہنگیا کے حق میں بہت کم آواز کیوں اٹھائی ہے۔

سنہ 2016 میں روہنگیا بحران بڑھا۔ کچھ حکومتی اراکین نے روہنگیا جنگجوؤں پر نو پولیس افسران کے قتل کا الزام لگایا، جس کے بعد وہاں ایک بڑے فوجی آپریشن کا آغاز ہوا۔ روہنگیا کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا تھا کے اس آپریشن میں 100 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے۔

روہنگیا برما سے جان بچا کر فرار ہوتے ہوئے

روہنگیا برما سے جان بچا کر فرار ہوتے ہوئے

نومبر 2016 میں بی بی سی سے گفتگو میں اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ نیا فوجی آپریشن میانمار میں نسل کشی کی واضح مثال ہے۔

کچھ مبصرین سمجھتے ہیں کہ سوچی کا تشدد کی مذمت نہ کرنا ظالمانہ ہے۔

آنگ سان سوچی صحافیوں سے گفتگو اور پریس کانفرنسیں کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ مگر جب ان پر بہت زور ڈالا جائے تو وہ یہی کہتی ہیں کہ فوج قانوں کے مطابق ان علاقوں میں کارروائی کر رہی ہے لیکن بہت سے لوگ اس پر یقین نہیں کرتے۔

جب کبھی کبھار وہ اس صورتحال پر بات کرتی ہیں تو اس کی شدت کو بیان نہیں کرتی، اسے کم دکھاتی ہیں یا یہ کہتی ہیں کہ لوگ تشدد کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں۔

گذشتہ برس دسمبر میں سنگاپور کے چینل نیوز ایشیا کو انٹرویو دیتے ہوئے آنگ سان سوچی نے کہا کہ ’میں یہ نہیں کہوں گی کہ کوئی مشکلات نہیں ہیں۔ مگر یہ بات مددگار ثابت ہو گی اگر لوگ تسلیم کریں کہ مشکلات ہیں اور زیادہ توجہ مسئلے کو حل کرنے کی طرف دی جائے نہ کہ صورتحال کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کی جانب، کیونکہ اس سے ہر چیز حقیقت سے زیادہ بدتر لگتی ہے۔‘

برطانیہ میں روہنگیا کے لیے کام کرنے والی تنظیم کی اہلکار توکھن نے اس صورتحال پر بہت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوچی فوج کی جانب سے ہونے والے جرائم پر پردہ ڈال رہی ہیں۔

بی بی سی سے گذشتہ برس اپریل میں گفتگو کرتے ہوئے سوچی نے تسلیم کیا کہ رخائن میں مسائل ہیں تاہم نسل کشی کی اصطلاح کا استعمال بہت سخت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلمان بھی ان مسلمانوں کو مار رہے ہیں جن کے بارے میں ان کا یہ خیال ہے کہ وہ حکام کی معاونت کر رہے ہیں۔

سوچی نے بہت سے اہم مواقع پر اس موضوع پر عوامی سطح پر بات نہیں کی۔ انھوں نے گذشتہ سمتبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی اور بعد میں کہا کہ اس بحران کے بارے میں غلط معلومات دی جا رہی ہیں۔

لیکن انسانی حقوق سے متعلق ان کے دعووں کے برعکس زمینی صورتحال مختلف ہے۔

اسی ماہ اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ انھیں لوگوں کی اس بحران کی وجہ سے لوگوں کے مسائل کا گہرا احساس ہے اور ان کا ملک یہاں موجود تمام برادریوں کے لیے اس حوالے سے پائیدار حل کے لیے پرعزم ہے۔

بڑھتا ہوا دباؤ

اس صورتحال کے بعد سے اب تک سوچی پر بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

روہنگیا

ان کی خاموشی کی وجہ سے گذشتہ برس فریڈم آف آکسفورڈ کا اعزاز واپس لیا گیا۔

دسمبر میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ زید رعد الحسین نے کہا تھا کہ نسل کشی کے الزامات سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔

بی بی سی نے آنگ سان سوچی اور میانمار فوج کے سربراہ سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا تاہم کسی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔

لیکن سوچی پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے جس کی ایک مثال سابق امریکی سفارتکار بل رچرڈسن کا میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کے روہنگیا بحران پر مشاورت کے لیے تشکیل کردہ بین الاقوامی پینل سے استعفیٰ دینا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ پینل وائٹ واش ہے۔ تاہم میانمار کے حکام نے جواب میں الزام لگایا ہے کہ وہ اپنا ایجنڈا چلا رہے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.