اتوار6؍شعبان المعظم 1442ھ 21؍مارچ2021ء

آبدوز سکینڈل: پاکستان کے ساتھ معاہدے میں سابق فرانسیسی وزیرِاعظم بدعنوانی کے الزامات سے بری

آگسٹا آبدوز سکینڈل کی کہانی: سابق فرانسیسی وزیرِ اعظم ایڈوارڈ بالادور کو بری کر دیا گیا، سابق وزیرِ دفاع کو سزا

ایڈوارڈ بالادور

فرانس کی ایک عدالت نے سابق فرانسیسی وزیرِ اعظم ایڈوارڈ بالادور کو کراچی آبدوز کیس میں ’کمیشن‘ کے ذریعے پیسہ بنانے کے الزام سے بری کر دیا ہے۔

بالادور پر الزام تھا کہ انھوں نے سنہ 1990 کی دہائی کے وسط میں پاکستان اور فرانس کے درمیان آگسٹا 90 بی کلاس آبدوزوں کے ایک معاہدے کے ذریعے رشوت کی رقم حاصل کی تھی۔

ان پر الزام ہے کہ انھوں نے یہ رقم 1995 میں اپنی الیکشن مہم پر خرچ کی تھی تاہم وہ یہ الیکشن ہار گئے تھے۔

اس کیس میں ان کے 78 سالہ سابق وزیرِ دفاع فرانسوا لیوٹارڈ کو اثاثوں کے بے جا استعمال میں ملوث ہونے پر دو سال کی معطل قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

معطل سزا کا مطلب ہے کہ وہ مجرم پائے گئے ہیں مگر جیل نہیں جائیں گے۔ فرانسوا لیوٹارڈ کو ایک لاکھ 20 ہزار ڈالر کا جُرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال فرانس میں چھ افراد کو 1990 کی دہائی میں پاکستان سے آبدوزوں کے معاہدے میں تقریباً 18 لاکھ پاؤنڈ رشوت لینے کے جرم میں دو سے پانچ برس قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

تین سابقہ فرانسیسی حکومتی عہدیداروں اور تین دیگر افراد کو ’کراچی افیئر‘ یا ’کراچی گیٹ‘ میں ملوث پایا گیا تھا۔

یاد رہے کہ اس کیس کو کراچی افیئر، کراچی گیٹ، آگسٹا آبدوز سکینڈل جیسے ناموں سے پکارا جاتا رہا ہے۔

پیرس سے صحافی یونس خان کے مطابق گذشتہ سال ہی بالادور اور لیوٹارڈ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا اور اُنھوں نے پیرس میں اس حوالے سے لا کورٹ آف دی ریپبلک میں ٹرائل کا سامنا کیا۔

یونس خان نے بتایا کہ اس حساس مقدمے کی کارروائی سے میڈیا کو بڑی حد تک دور رکھا گیا تھا اور فیصلہ آنے پر ہی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

فرانسوا لیوٹارڈ

سابق وزیر دفاع فرانسوا لیوٹارڈ کو دو سال کی معطل سزا سنائی گئی

گذشتہ سال سزائیں کن کو دی گئیں؟

گرفتار ہونے والوں میں سابق حکومتی اہلکار نکولس بزیر بھی شامل تھے جو اس سے قبل بالادور کی الیکشن مہم کے مینیجر بھی تھے۔

لیوٹارڈ کے سابق مشیر رینا ڈونیڈیو دی وابریس کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ تھیئیر گابرٹ جو اس وقت کے سیلز اور کمیشنز کے انچارج اور وزیرِ بجٹ سرکوزی کے پرانے قریبی ساتھی بھی تھے انھیں دو سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ان کے علاوہ دیگر افراد جنھیں پیرس میں سزا سنائی گئی ان میں سابق دفاعی کانٹریکٹر ڈامینک کیسٹیلن ہیں جنھیں دو برس قید کی سزا سنائی گئی۔

معاہدے میں فریقوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والے دو لبنانی باشندوں کو پانچ پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لبنانی کاروباری شخصیت زیاد تقی الدین اور عبدالرحمان ال اسیر نے پیرس میں عدالت کے سامنے پیش ہونے سے انکار کیا تھا اس لیے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے۔

نیوی

کراچی افیئر یا کراچی گیٹ کیا ہے؟

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں آٹھ مئی سنہ 2002 کو ایک خودکش بمبار نے بارود سے بھری کار فرانسیسی انجنیئرز کی منی بس سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہوئے جن میں 11 فرانسیسی انجنیئر بھی شامل تھے جو فرانس کی نیوی کی کنسٹرکشن کمپنی ڈی سی این کے ملازم تھے۔

یہ انجنیئر پاکستان میں آگسٹا آبدوز کی تیاری کے لیے موجود تھے، یہ آبدوزیں فرانس نے پاکستان کو فروخت کی تھیں، حملے کے اس واقعے کی تحقیقات کے دوران پاکستان اور فرانس کی اہم شخصیات میں کمیشن کا اسکینڈل سامنے آیا، جس کو ’کراچی افیئر‘ کا نام دیا گیا۔

سوئیڈن کے بجائے فرانس سے آبدوزوں کی خریداری

پاکستان نیوی کی سابق ڈی جی انٹیلی جنس کموڈور شاہد اشرف نے ایکسپریس اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ سنہ 1992 میں نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں نیوی نے 52 کروڑ ڈالرز کی مالیت کی آبدوزوں کی خریداری کی منظوری دی۔

ایڈمرل نقوی، ایڈمرل جاوید افتخار اور ایڈمرل مجتبیٰ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے چین، فرانس، سوئیڈن اور برطانیہ کا دورہ کیا اور سفارش کی کہ آبدوز سوئیڈن سے خریدی جائے۔

اس کے بعد ایڈمرل سعید خان نے دوبارہ ایک ٹیم تشکیل دی جس نے ان چاروں ملکوں کا دورہ کیا اور سفارش کی کہ برطانیہ یا پھر فرانس سے آگسٹا 90 آبدوز کی خریداری کی جائے۔

21 اگست 1994 کو آگسٹا کی خریداری کا معاہدہ ہوا تو اس وقت بینظیر بھٹو اقتدار میں تھیں۔

آگستا آبدوز پاکستان بحریہ کی بیک بون سمجھی جاتی ہے، 1994 میں تین آگسٹا آبدوزوں کا آرڈر دیا گیا تھا ان میں سے ایک کی فرانس میں تیاری کی گئی تھی جبکہ باقی دو کی تیاری پاکستان میں عمل میں لائی گئی۔

فرانسیسی نیول کمپنی ڈی سی این نے پاکستان کو اس کی کمرشل فروخت کی بھی اجازت دی تھی۔ یہ آبدوز 350 میٹر تک سمندر کی گہرائی میں جا سکتی ہے۔

آگسٹا معاہدے میں کمیشن

فرانسیسی کمپنی سیفوما کو اس ڈیل میں 33 کروڑ 80 لاکھ فرینک ملے جبکہ دو لبنانی شہریوں نے آف شور کمپنی کے ذریعے چار فیصد کمیشن لیا جو 21 کروڑ 60 لاکھ فرینک بنتا ہے جس میں ڈیل میں پاکستان کے معاون یا ثالث کو بھی ادائیگی کی گئی۔

آگسٹا ڈیل کی تحقیقات پر مبنی کتاب ’دی کراچی افیئر‘ میں پاکستان نیوی کے سربراہ ایڈمرل منصورالحق اور کاروباری شخصیت عامر لودھی کا ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ بعد میں دو لبنانی کاروباری شخصیات شامل کی گئیں۔

کتاب میں قومی احتساب بیورو کے پراسیکیورٹر جنرل عرفان قادر کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ ان کا کہنا تھا کہ کمیشن دو افراد میں تقیسم ہوا لیکن منصور الحق نے لودھی پر الزام عائد کر دیا۔

ادوار بالادور اور ژاک شراک کے اختلاف

آگسٹا آبدوز کی ڈیل کے وقت فرانس کے وزیر اعظم ادوار بالادور تھے اور نکولس سرکوزی جو بعد میں صدر بنے ان کے وزیرِ بجٹ تھے۔

انھوں نے معاہدہ کیا تھا کہ ژاک شراک صدارتی انتخاب نہیں لڑیں گے، لیکن اس کے برعکس انھوں نے اعلان کیا اور پارٹی کی نامزدگی میں کامیابی کے بعد صدراتی الیکشن بھی جیت گئے۔ انھوں نے دفاعی سودوں میں کمیشن کی تحقیقات کا حکم جاری کیا۔

تحقیقات میں یہ بھی الزام سامنے آیا کہ آگسٹا ڈیل میں ایک کروڑ فرینک بالادور کی الیکشن مہم کے لیے ادا کیے گئے، ان کے الیکشن انچارج نکولس سرکوزی تھے۔

ژاک شراک نے وزیر دفاع چارلس ملن کو تحقیقات کا سربراہ مقرر کیا جس نے تصدیق کی کہ ایک بڑی رقم رشوت کی صورت میں آف شور ڈھانچے کے ذریعے فرانس میں لائی گئی جبکہ رقم کی منزل پاکستان تھی لیکن اس کو فرانس لایا گیا اسی دوران ژاک شراک نے تمام ادائگیاں روک دیں۔

کراچی دھماکہ

کراچی میں 2002 میں ہونے والے دھماکے میں کئی فرانسیسی شہری ہلاک ہوئے تھے

کراچی دھماکہ کمیشن کی عدم فراہمی کا ردعمل

کراچی میں فرانسیسی انجنیئروں پر حملے کا الزام حکومت فرانس اور پاکستان نے القاعدہ پر عائد کیا جبکہ ’دی کانٹریکٹ اینڈ افیئر سرکوزی‘ میں لکھا گیا ہے کہ اس دھماکے کے پیچھے القاعدہ نہیں بلکہ آئی ایس آئی کے حمایت یافتہ جہادی گروپ کا ہاتھ تھا۔

اس کتاب نے فرانسیسی انجنیئروں پر حملے کو سیاسی و معاشی مقاصد سے جوڑا ہے۔

کتاب میں ڈی سی این کی اندرونی خفیہ رپورٹ کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کمیشن کی عدم دستیابی پر پاکستانی ادارے آئی ایس آئی کا یہ ردعمل تھا۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تین افراد کو واقعے کے ایک سال کے بعد سزا موت سنائی تھی، ملزمان کا تعلق حرکت جہاد اسلامی نامی گروپ سے بتایا گیا تھا تاہم 2009 میں ثبوتوں کی عدم فراہمی پر اعلیٰ عدالت نے انھیں رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔

ایڈمرل منصور الحق کا کردار

پاکستان نیوی کی سابق ڈی جی انٹیلی جنس کموڈور شاہد اشرف کا کہنا تھا کہ انھیں معلوم ہوا تھا کہ نیاز نامی شخص کیپٹن علوی کو ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم رشوت کے طور پر ادا کر رہا ہے۔

وہ وائس چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل اے یو خان کے گھر گئے اور انھیں تمام ضروری معلومات فراہم کیں لیکن انھوں نے انھیں کوئی بھی اقدام اٹھانے سے روک دیا اور کہا کہ نیول چیف ایڈمرل منصور الحق کی رضامندی سے ایکشن لیا جائے گا جو امریکہ اور فرانس کے دورے پر تھے انھوں نے ایڈمرل منصور سے فرانس میں رابطہ کیا۔

انھوں نے مشورہ دیا کہ ان کی واپسی تک انتظار کریں بعد میں جب وہ لوٹ کر آئے تو ’میں نے دوبارہ پوری کہانی سنائی جس میں سینیئر افسران بھی شریک تھے۔

مجھے ریئر ایڈمرل فصیح بخاری نے کہا کہ ان لوگوں کو گرفت میں لانا چاہیے تب میں نے جواباً کہا کہ میرا کام معلومات فراہم کرنا تھا۔

ایڈمرل منصور الحق کی گرفتاری اور بارگین

میاں نواز شریف کی حکومت میں ایڈمرل منصور الحق کو فارغ کر دیا گیا اور وہ امریکہ منتقل ہو گئے، بدعنوانی کے الزام میں انھیں امریکہ کے شہر آسٹن میں حراست میں لیا گیا اور بعد میں ان کی اپنی درخواست پر پاکستان کے حوالے کیا گیا۔

ایڈمرل منصور الحق قلیل عرصہ تحویل میں رہے اور انھوں نے قومی احتساب بیورو سے پلی بارگین کر کے پچیس فیصد رقم ادا کی اور بری ہو گئے۔

نیب کے فیصلے کے دستاویز کے مطابق بطور نیول چیف انھوں نے مختلف دفاعی سودوں میں رشوت اور کمیشن حاصل کیں اور 29 اپریل 1997 میں انھیں قبل از وقت ریٹائر کیا گیا جس کے بعد وہ آسٹن امریکہ منتقل ہو گئے تھے۔

بارگین کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ وہ سات اعشاریہ پانچ ملین ڈالر قومی خزانہ میں جمع کرائیں گے۔

’پلی بارگیننگ کی پہلی درخواست میں انھوں نے 33 لاکھ 60 ہزار ڈالرز کی پیشکش کی تھی لیکن اس کو مسترد کر دیا گیا جس کے بعد انھوں نے 75 لاکھ ڈالرز کی درخواست کی جس کو قبول کر لیا گیا۔‘

ایڈمرل منصورالحق 2018 میں امریکہ میں انتقال کر گئے، نیول انٹیلی جنس کے سابق سربراہ ریئر ایڈمرل تنویر احمد کا کہنا ہے کہ اس میں اور بھی لوگ ملوث ہیں جن کو سامنے نہیں لایا گیا۔

ڈان ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ 1992 میں شروع ہوا اور مارچ 1994 میں فائنل کر دی گیا۔ اس وقت نیول چیف سعید محمد خان تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’کامن سینس قبول نہیں کرتی کہ مارچ میں اگر معاہدہ ہوا تو ان کو تو نہیں پتہ تھا کے ان کے بعد نیول چیف کس نے آنا ہے اور لگتا تو ایسا ہے کہ وہ یہ کہہ کر اپنے آپ کو چھپاتے رہے کہ یہ میں نے معاہدہ سائن کردیا ہے جو میرے بعد نیول چیف آئے گا کمیشن اور کک بیکس اس کو دی جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ لیکن ایسے نہیں ہوتا عام طور پر جو معاہدے پر دستخط کرتے ہیں اس میں حکومتوں کے بھی لوگ ہوتے ہیں اس میں ہیڈکوارٹرز کے بھی ہوتے ہیں۔

’جس جس نے اس معاہدے میں حصہ لیا ہوتا ہے وہ تو اپنا حصہ لیتا ہے اس میں یہ کہنا کہ صرف منصور الحق نے کیا یہ زیادتی ہو گی منصور نے تو تسلیم کیا ہے لیکن مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ نیب اور دیگر اداروں نے دوسرے لوگوں کوایکسپوز کیوں نہیں کیا۔‘

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.