جمعرات 8؍ شوال المکرم 1442ھ20؍مئی 2021ء

ڈیوک آف ایڈنبرا پرنس فلپ کی وفات، برطانیہ بھر میں توپوں کی سلامی پیش کی جائے گی

پرنس فلپ: ملکہ برطانیہ کے شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا 99 برس کی عمر میں وفات پا گئے

فلپ

بکنگھم پیلس نے اعلان کیا ہے کہ ملکہ برطانیہ کے شوہر پرنس فلپ 99 برس کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔

بکنگھم پیلس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’انتہائی افسوس کے ساتھ ملکہ برطانیہ کی جانب سے اعلان کیا جاتا ہے کہ ان کے ہردلعزیز شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا شہزادہ فلپ وفات پا گئے ہیں۔‘

بیان کے مطابق شہزادہ فلپ کی وفات جمعہ کی صبح ونڈزر کاسل میں ہوئی۔

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ شہزادہ فلپ لاتعداد نوجوانوں کے لیے ایک مثال تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے شاہی خاندان اور شہنشاہیت کو چلانے میں مدد دی تاکہ وہ ایک ایسا ادارہ بنا رہے جو کہ ہماری قومی زندگی کے توازن اور خوشی کے لیے بلاشک و شبہ کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن کا کہنا تھا کہ وہ ڈیوک کی وفات پر ’افسردہ‘ ہیں۔

انھوں نے ٹویٹ کیا کہ ’میں بذاتِ خود، سکاٹ لینڈ کی حکومت اور سکاٹ لینڈ کے لوگوں کی جانب سے ملکہ برطانیہ اور ان کے خاندان سے انتہائی گہرے افسوس کا اظہار کرتی ہوں۔‘

پیلس

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

بکنگھم پیلس کا سٹاف پرنس فلپ کی وفات کا نوٹس پیلس کے دروازے پر چسپاں کرنے کے لیے لا رہا ہے

ڈیوک آف ایڈنبرا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

بکنگھم پیلس کے گیٹ پر ڈیوک آف ایڈنبرا پرنس فلپ کی وفات کی اطلاع لگا دی گئی ہے

10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ جب انھیں ڈیوک کی وفات کی خبر ملی تو انھیں ’شدید افسوس ہوا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’شہزادہ فلپ نے برطانیہ کی کئی نسلوں، پورے کامن ویلتھ اور پوری دنیا سے محبت سمیٹی۔‘

بورس جانسن نے اس سب سے طویل عرصے تک قائم رہنے والے شاہی جوڑے میں ڈیوک کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا اور یہ بھی یاد کیا کہ شہزادہ فلپ دوسری عالمی جنگ میں لڑنے والے ان آخری افراد میں سے تھے جو اب تک زندہ رہے۔

جانسن کا کہنا تھا کہ ’اس تنازع سے انھوں نے خدمت کرنے کا جذبہ سیکھا جس کا اطلاق انھوں نے جنگ کے بعد کے زمانے میں کیا۔‘

آرک بشپ آف کینٹربری جسٹن ویلبائے نے کہا ہے کہ ’انھوں (پرنس فلپ) نے ہمیشہ دوسروں کے مفادات کو اپنے پر ترجیح دی، اور ایسا کرتے ہوئے، مسیحی اقدار کی بہترین مثال پیش کی۔‘

پیلس

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

پرنس فلپ کی وفات کی خبر ملتے ہی سوگوران بکنگھم پیلس کے باہر پہنچ گئے

بی بی سی کے شاہی امور کے نامہ نگار نکولس وچیل کا کہنا ہے کہ ’یہ پوری قوم کے لیے اداسی کا لمحہ ہے‘ اور ’خاص طور پر یہ ملکہ برطانیہ کے لیے اداسی کا لمحہ ہے جنھوں نے اپنے شریک حیات کو کھویا جو 73 برس ان کے ساتھ رہے۔ یہ اس سے کہیں طویل عرصے کا ساتھ ہے جو ہم سوچ بھی سکتے ہیں۔‘

ان کے مطابق شہزادہ فلپ نے ’ملکہ برطانیہ کے دور میں بہت اہم خدمات پیش کیں۔‘ انھوں نے ڈیوک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ اس سوچ میں مکمل طور پر یقین رکھتے تھے کہ جو کردار ملکہ نبھا رہی ہیں وہ انتہائی اہم ہے اور ان کی اس حوالے سے مدد کرنا ان کا فرض ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ رشتہ اور ان کے درمیان شادی کے بندھن کی مضبوطی ہی ملکہ کے کامیاب دورِ حکمرانی کی وجہ بنی۔‘

Presentational grey line

ونڈزر کے باہر مجمع

ہیلینا ولکنسن، نامہ نگار بی بی سی نیوز، ونڈزر کاسل

پیلس

،تصویر کا ذریعہReuters

ڈیوک آف ایڈنبرا کی وفات کے اعلان کے بعد بکنگھم پیلس پر پرچم سرنگوں کر دیا گیا جبکہ محل کے دروازے پر ان کی وفات کا نوٹس چسپاں کر دیا گیا۔

شاہی خاندان کی جانب سے ڈیوک کی وفات کی خبر جاری کیے جانے کے بعد لوگ ونڈزر کیسل کے دروازوں پر جمع ہونا شروع ہو گئے۔

ایک نوجوان لڑکی سمیت دیگر مقامی افراد نے دروازوں پر گلدستے رکھے۔ ان پھولوں کے ساتھ لگے ایک کارڈ پر لکھا تھا ’ریسٹ اِن پیس شہزادہ فلپ۔‘ ایک اور کارڈ میں ملکہ برطانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے گہرے افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

ڈیوک کی وفات کے ردعمل میں ونڈزر میں سوگ کا ماحول ہے۔

یہ وہ جگہ ہے جہاں انھوں نے ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد اپنی زندگی کے آخری دن گزارے تھے۔ انھوں نے اپنے آخری ایام اپنی اہلیہ یعنی ملکہ برطانیہ کے ہمراہ گزارے۔

شہزادہ فلپ نے شہزادی الزبتھ سے سنہ 1947 میں ان کے ملکہ بننے سے پانچ برس قبل شادی کی تھی اور یہ برطانیہ کی تاریخ کا سب سے زیادہ دیر تک قائم رہنے والا شاہی جوڑا تھا۔

ڈیوک آف ایڈنبر، ملکہ برطانیہ

،تصویر کا ذریعہTIM GRAHAM/PA

،تصویر کا کیپشن

شہزادہ فلپ نے شہزادی الزبتھ سے سنہ 1947 میں ان کے ملکہ بننے سے پانچ برس قبل شادی کی تھی اور یہ برطانیہ کی تاریخ کا سب سے زیادہ دیر تک قائم رہنے والا شاہی جوڑا تھا

یاد رہے کہ مارچ میں ڈیوک آف ایڈنبرا کو ایک ماہ تک علاج کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج کیا گیا تھا۔ وہ لندن کے ہسپتال میں دل کو لاحق عارضے کے علاج کے لیے داخل تھے۔

شہزادہ فلپ اور ملکہ برطانیہ کے چار بچے، آٹھ پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں اور 10 پڑپوتے پڑپوتیاں، پڑنواسے اور پڑنواسیاں تھے۔

ان کے پہلے بیٹے شہزادہ چارلس سنہ 1948 میں پیدا ہوئے جس کے بعد ان کی بہن شہزادی این سنہ 1950 میں، شہزادہ اینڈریو سنہ 1960 میں جبکہ شہزادہ ایڈورڈ سنہ 1964 میں پیدا ہوئے۔

شہزادہ فلپ 10 جون 1921 میں یونانی جزیرہ کورفو میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد شہزادہ اینڈریو بادشاہ جارج اول کے چھوٹے صاحبزادے تھے۔

ان کی والدہ شہزادی ایلس لارڈ لوئس ماؤنٹبیٹن کی بیٹی تھیں اور ملکہ وکٹوریا کی پڑنواسی تھیں۔

یہ خبر مزید اپڈیٹ کی جا رہی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.