بدھ14؍شوال المکرم 1442ھ26؍مئی 2021ء

کورونا سے بھی مہلک وائرس جو ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے

نیپا وائرس: کورونا کے بعد دوسرا مہلک وائرس جس سے ایشیا کو بڑا خطرہ لاحق ہے

نیپا وائرس چمگادڑوں سے پھیل سکتا ہے

نیپا وائرس چمگادڑوں (فروٹ بیٹ) سے پھیل سکتا ہے

انھوں نے اور ان کی ٹیم نے بہت سے جانوروں کے نمونے اکھٹے کیے۔ مگر ان کی مرکزی توجہ چمگادڑوں پر تھی جسے کورونا وائرس کی بہت سی اقسام کو منتقل کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔

لیبارٹری میں کام کرتے ہوئے وہ اور ان کی ٹیم جلد ہی سانس کی اس پراسرار مرض کو سمجھ گئے، چین سے باہر کووڈ 19 کے ایک کیس کا پتا لگا لیا گیا۔ اور ٹیم کو یہ معلوم ہوا کہ یہ اس بیماری کا باعث بننے والا وائرس انسانوں میں پیدا نہیں ہوا تھا۔

یہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس ہے جو پہلے ہی چمگادڑوں میں پایا گیا تھا۔

یہ شکر ہے کہ جلد معلومات مل گئیں اور حکومت تیزی سے مریضوں کو قرنطینہ کرنے اور شہریوں کو آگاہی فراہم کرنے کے قابل ہوئی۔

تقریباً سات کروڑ آبادی کے ملک تھائی لینڈ میں اب تین جنوری 2021 یعنی ایک سال بعد کورونا وائرس کے 8955 کیسز سامنے آئے ہیں اور اموات کی مجموعی تعداد 65 بتائی گئی ہے۔

اگلا خطرہ

نیپا وائرس، کورونا، تھائی لینڈ

سپاپرن وچارا پلوسادی وائرس پر تحقیق کی ماہر ہیں

مگر ابھی جب دنیا کووڈ 19 سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے، وچارا پلوسادی اگلی ممکنہ عالمی وبا کی تیاریاں کر رہی ہیں۔

ایشیا میں زور پکڑنے والے وبائی امراض کی ایک بڑی تعداد ہے۔ برساتی علاقوں میں حیاتیاتی تنوع پائی جاتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں بیماری کا باعث بننے والے عناصر کی بھی بھرمار ہے۔ اور اس سے کسی نئے وائرس کی پھیلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

انسانوں کی آبادی کے بڑھنے، ان کے آپس میں اور جنگلی جانوروں سے مزید رابطوں سے اس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

انھوں نے اپنے کیریئر میں ہزاروں چمگادڑوں پر تحقیق کی ہے اور کئی نئے وائرس دریافت کیے ہیں۔ انھوں نے کئی قسم کے کورونا وائرس ڈھونڈ نکالے ہیں اور ایسے دوسرے وائرس بھی جو انسانوں میں منتقل ہو سکتے ہیں۔

ان میں ’نیپا‘ وائرس بھی شامل ہے جو چمگادڑوں سے پھیلتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’یہ ایک بڑی تشویش کا باعث ہے کیونکہ اس کا فی الحال کوئی علاج نہیں ہے۔۔۔ اور اس وائرس سے ہلاکتوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔‘ نیپا وائرس سے ہلاکتوں کی شرح 40 سے 75 فیصد تک ہے (یعنی ہر 100 متاثرہ افراد میں سے 40 سے 75 ہلاک ہو جاتے ہیں)، ہلاکتوں کی شرح کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ یہ وبا کس علاقے میں پھوٹتی ہے۔

وہ واحد انسان نہیں ہیں جسے اس وائرس نے پریشان کر رکھا ہے۔ ہر سال عالمی ادارہ صحت بیماری پھیلانے والے پیتھوجینز (جرثوموں) کی ایک فہرست کا جائزہ لیتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ کن بیماریوں کے حوالے سے عوامی صحت کی ایمرجنسی لگائی جا سکتی ہے تاکہ تحقیق اور کے لیے امداد کی ترجیح دیکھی جا سکے۔

وہ ان بیماریوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے زیادہ خطرناک ہیں اور جن کا وبا کا باعث بننے کا زیادہ امکان ہے۔ اور ایسی بیماریوں پر بھی نظر رکھی جاتی ہے جن کی کوئی ویکسین نہیں۔

نیپا وائرس ان 10 سب سے خطرناک بیماریوں میں سے ایک ہے۔ اس کی وبا ایشیا میں کئی بار پھیل چکی ہے اور یہ ممکن ہے کہ ہم اس کا نام مستقبل میں بار بار سُنیں۔

نیپا وائرس اتنا خطرناک کیوں ہے، اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اس کا انکیوبیشن کا عرصہ زیادہ ہے (بعض کیسز میں زیادہ سے زیادہ 45 روز)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اس وائرس سے متاثر ہو جاتا ہے تو ابتدا میں اسے معلوم ہی نہیں ہوتا اور کافی روز بعد علامات ظاہر ہوتی ہیں اور تب تک وہ بہت سے افراد میں اسے پھیلانے کا باعث بن چکا ہوتا ہے۔

اس وائرس سے جانوروں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہو سکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ اس وائرس سے براہ راست متاثرہ شخص یا جانور سے رابطے یا آلودہ خوراک کھانے سے بھی متاثر ہوا جا سکتا ہے۔

نیپا وائرس سے متاثرہ لوگوں میں سانس لینے میں دشواری، کھانسی، گلے کی سوزش، درد، تھکاوٹ، دماغ کی سوزش (جس سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے) جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ کہنا ٹھیک ہو گا کہ عالمی ادارہ صحت اس بیماری کو روکنے کی کوشش کرنا چاہے گی۔

اس کا اثر ہر جگہ ہوسکتا ہے

کمبوڈیا

شمال مغربی کمبوڈیا کے شہر باتامبانج میں صبح ہو چکی ہے۔ مرکزی بازار، جہاں گہما گہمی صبح پانچ بجے ہی شروع ہو جاتی ہے، میں موٹر سائیکلوں کے چلنے سے دکانوں کے قریب دھول اڑ رہی ہے۔ ریڑھیوں پر اشیا لدی پڑی ہیں اور قریب ہی دکاندار عجیب شکل کے پھل بیچ رہے ہیں۔

خریدار اس بازار میں آ جا رہے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں پلاسٹک بیگز ہیں۔ عمر رسیدہ خواتین بھی ٹوپیاں پہنے اپنے کمبلوں پر سبزیاں بیچنے کے لیے بیٹھی ہوئی ہیں۔

دوسرے لفظوں میں یہ یہاں کی ایک عام صبح ہے۔ سب معمول کے مطابق لگتا ہے، جب تک آپ اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھتے۔

درختوں پر خاموش ہزاروں چمگادڑیں لٹکی ہوئی ہیں۔ ان کے اجسام سے خارج ہونے والے مادے نیچے ہر چیز پر گر رہے ہیں۔

سائنسی تحقیق کی ایک لیب میں وائرولوجی یونٹ کے ہیڈ ویسنا ڈونگ کا کہنا ہے کہ ’لوگ اور آوارہ کتے یہاں چلتے پھرتے ہیں اور وہ چمگادڑ کے پیشاب (میں موجود بیماریوں) سے متاثر ہو سکتے ہیں۔‘

باتامبانج کا بازار ایسے کئی مقامات میں سے ایک ہے جن کی نشاندہی ڈونگ نے فروٹ بیٹس کے سلسلے میں کی ہے۔ کمبو ڈیا میں یہاں ایسی جگہوں پر انسان اور جانور روز رابطے میں آتے ہیں۔

ان کی ٹیم انسانوں اور چمگادڑوں کے کسی بھی رابطے کے واقعے کو ’انتہائی خطرناک‘ سمجھتے ہیں جس کی بیماریاں منتقل ہو سکتی ہیں۔ ڈونگ کا کہنا ہے کہ ’اس سے وائرس اپنی شکل تبدیل کر سکتا ہے اور اس سے ممکنہ طور پر عالمی وبا کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔‘

کمبوڈیا، چمگادڑ

کمبوڈیا کے کئی مقامات میں انسان اور فروٹ بیٹ رابطے میں آتے ہیں

اس خطرے کے باوجود انسانی اور جانوروں کے قریبی تعلقات کی مثالیں ان گنت ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم یہاں اور تھائی لینڈ میں یہ (چمگادڑوں کو) دیکھتے ہیں۔ مارکیٹوں، عبادت گاہوں، سکولوں اور سیاحتی مقامات میں چمگادڑوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔‘

کسی عام سال میں سیاحتی مقام انگ کور وات میں 26 لاکھ لوگ آتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے ہر سال صرف ایک مقام پر ایسے 26 لاکھ مواقع پیدا ہوتے ہیں جن میں نیپا وائرس انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔

سنہ 2013 سے سنہ 2016 تک ڈونگ اور ان کی ٹیم نے جی پی ایس ٹریکنگ کا ایک منصوبہ متعارف کرایا جس میں نیپا وائرس اور چمگادڑوں کے تعلق کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں کمبوڈیا کے چمگادڑوں اور دوسری چمگادڑوں کی سرگرمیوں کا موازنہ کیا گیا ہے۔

دیگر دو ملکوں میں بنگلہ دیش اور انڈیا شامل ہیں۔ دونوں نے ماضی میں نیپا وائرس کی وبا جھیلی ہے اور اس کا تعلق کھجور کا جوس پینے سے ہے۔

رات کو یہ چمگادڑ کھجور کے درختوں پر پہنچ جاتی ہیں اور اس کے درخت سے رس پیتی ہیں۔ وہ اس دوران اُس جگہ پر پیشاب کرتی ہیں، جہاں رس اکٹھا ہوتا ہے۔ معصوم شہری جب اس درخت سے اتری کھجوروں کا شیک فروخت کرنے والوں کے پاس جاتے ہیں تو اسے پینے کے دوران وہ وائرس سے متاثر ہو چکے ہوتے ہیں۔

سنہ 2001 سے سنہ 2011 تک بنگلہ دیش میں 11 مختلف اسی نوعیت وبائیں سامنے آئیں جن میں 196 لوگوں میں نیپا وائرس کی تشخیص ہوئی اور 150 اموات ہوئیں۔

کمبوڈیا میں بھی کھجور کا شیک مقبول مشروب ہے۔ ڈونگ اور ان کی ٹیم نے پتا لگایا ہے کہ رات کے اوقات میں کمبوڈیا میں پائی جانے والی چمگادڑیں کھجور کے جوس کی تلاش میں 100 کلومیٹر تک کا سفر کرتی ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے ان ملکوں میں انسانوں کو چمگادڑوں سے ہی نہیں بلکہ اُن اشیا سے بھی دور رہنا چاہیے جن میں چمگادڑوں کا گند شامل ہونے کا امکان ہو۔

Villagers harvest guano, a popular fertiliser in Cambodia and Thailand but one that comes with risks (Credit: Sa Sola)

ڈونگ اور ان کی ٹیم نے ایسی انتہائی خطرناک صورتحال کی نشاندہی کی ہے۔ چمگادڑوں کا گند کمبوڈیا اور تھائی لینڈ میں اہم کھاد کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور دیہی علاقوں میں اس کو بیچنا ایک اہم ذریعہ معاش ہے۔ ڈونگ نے کئی ایسی جگہوں کی نشاندہی کی ہے جہاں مقامی لوگ کوشش کرتے ہیں کہ چمگادڑ ان کے گھروں کے قریب رہیں تاکہ ان سے حاصل ہونے والا فضلہ وہ جمع کر کے فروخت کر سکیں۔

مگر بہت سے ایسے لوگوں کو پتا ہی نہیں کہ ایسا کرتے ہوئے وہ کون سا خطرہ مول لے رہے ہیں۔ ڈونگ کا کہنا ہے کہ ’جتنے لوگوں کے ہم نے انٹرویو کیے ان میں سے 60 فیصد کو پتا ہی نہیں تھا کہ چمگادڑ بیماریاں پھیلاتے ہیں۔‘

بٹام بینگ مارکیٹ میں سوفورن ڈیونگ بطخ کے انڈے بیچ رہی ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ’کیا انھیں نیپا وائرس کا پتا ہے تو انھوں نے اس کا کبھی نام بھی نہیں سنا تھا۔‘ ڈیونگ کے مطابق ’گاؤں والوں کو اس کی فکر نہیں ہے۔ میں کبھی بھی اس سے بیمار نہیں ہوئی ہوں۔‘

ڈونگ کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں کو چمگادڑوں کے خطرات کے بارے میں بتانا ایک اہم اقدام ہے۔

دنیا کو بدلنا

انسانی تاریخ میں ایک وقت تھا جب چمگادڑوں سے دور رہنا قدرے آسان تھا۔ مگر جیسے جیسے ہماری آبادی بڑھ رہی ہے انسان اس کرہِ ارض کو بدل رہے ہیں اور جنگلی جانوروں کے رہنے کی جگہیں تباہ کر رہے ہیں تاکہ وسائل کی مانگ کو پورا کیا جا سکے۔ اس دوران بیماریوں کا پھیلاؤ بھی بڑھ رہا ہے۔

دنیا کی ساٹھ فیصد آبادی پہلے ہی ایشیا میں رہتی ہے اور یہاں تیزی سے شہری علاقے بنائے جا رہے ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق مشرقی ایشیا میں سنہ 2000 سے سنہ 2010 کے دوران تقریباً 20 کروڑ لوگ دیہی علاقو سے شہری علاقوں میں منتقل ہوئے۔

چمگادڑوں کے رہنے کی جگہوں کو ختم کرنے سے ماضی میں بھی نیپا وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں۔

سنہ 1998 میں ملیشیا میں نیپا وائرس کی وبا سے 100 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔ محققین اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ مقامی قحط اور جنگلات کی آگ کی وجہ سے چمگادڑوں کی قدرتی رہنے کی جگہیں تباہ ہو گئی تھیں اور وہ اس پر مجبور ہوئیں کہ کھیتوں کا رخ کریں۔ اور پریشانی کی صورتحال میں چمگادڑوں سے زیادہ مقدار میں وائرس خارج ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی صورتحال میں چمگادڑوں سے وائرس خنزیر میں منتقل ہوا اور پھر اُن سے انسانوں میں۔

Asia is seeing high levels of deforestation, often due to building plantations for products like palm oil (Credit: Getty Images)

دوسری جانب ایشیا میں دنیا کے 15 فیصد برساتی جنگلات ہیں۔ مگر یہاں پر تیزی سے جنگلوں کو کاٹا بھی جا رہا ہے۔ اس براعظم میں دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے حیتیات کم ہو رہی ہیں۔ اور اس کی بڑی وجہ مکان بنانے کے لیے اور کھیت بنانے کے لیے جنگلوں کی کٹائی ہے۔

جنگلوں سے بے گھر ہونے والی چمگادڑ نیپا اور کووڈ 19 جیسی مہلک بیماریوں اور ایبولا اور سارس جیسی خطرناک بیماریاں بھی آبادی میں لاتے ہیں۔

تو کیا ہمیں چمگادڑوں کو ختم کر دینا چاہیے؟

While bats carry diseases, they also help with disease control in humans by eating insects - so culling them isn't a good option, say scientists (Credit: Getty Images)

ٹریسی گولڈ سٹین کہتی ہیں کہ ’چمگادڑ انتہائی اہم کردار بھی ادا کرتی ہیں۔ ان کی وجہ سے پودوں کی 500 اقسام کی پولینیشن کا عمل ہوتا ہے۔‘

’ان کی وجہ سے کیڑوں کی آبادی بھی مناسب رہتی ہے۔ وہ مچھروں میں کمی کر کے ملیریا کے پھیلاؤ کو روکتی ہیں۔ وہ انسانی صحت میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’چمگادڑوں کو کسی علاقے سے ختم کرنے کی وجہ سے بیماریوں میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔‘ وہ کہتی ہیں کہ جب آپ کسی جانور کی آبادی کم کرتے ہیں تو وہ اپنے بچاؤ کے لیے زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس دوران زیادہ سے زیادہ وائرس پھیل جاتا ہے۔

’یعنی انھیں کم کرنے کی کوشش میں آپ وائرس پھیلانے والی چمگادڑوں کی تعداد بڑھا رہے ہیں۔‘

Veasna Duong and his team still have a number of questions about bats and Nipah virus that they want to answer

جب ڈونگ کی ٹیم کو کسی چمگادڑ میں نیپا وائرس ملتا ہے تو اسے آسٹریلیا میں ڈیوڈ ویلمز کی لیب میں بھیجتے ہیں۔ یہ وائرس اتنا خطرناک ہے کہ حکومتوں نے چند ہی لیبز کو اس کو رکھنے کی اجازت دے رکھی ہے اور ڈیوڈ کی لیب ان میں سے ایک ہے۔

یہاں انھیں ایئر ٹائٹ سوٹس میں اس انتہائی خطرناک وائرس پر کام کرنا ہوتا ہے۔ اور اس مرحلے تک پہنچنا بھی ایک مہم ہے۔

پہلے ڈونگ کی ٹیم چمگادڑوں کا پیشاب ایک شیٹ بچھا کر جمع کرتے ہیں۔ وہ چمگادڑوں کو ہاتھ میں نہیں پکڑتے کیونکہ ایسا کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد وہ نمونے اپنی لیب میں لے کر جاتے ہیں، انھیں ٹیوبز میں ڈالتے ہیں اور پھر محفوظ ڈبوں میں بند کرتے ہیں۔

پھر انھیں خصوصی کوریئر کے ذریعے آسٹریلیا بھیجا جاتا ہے، جہاں اسے کسٹمز سے گزارا جاتا ہے اور ان کے خصوصی اجازت نامے چیک کیے جاتے ہیں۔

Duong's team are currently searching for funding for their next pathogen detection trip

آخر کار یہ ڈیوڈ کی لیب میں پہنچے ہیں جہاں ٹیسٹنگ کے نتائج ڈونگ کو بھیجے جاتے ہیں۔ ڈیوڈ کا خیال ہے کہ ان کی طرح کی جدید اور خصوصی لیبز کی دنیا بھر میں تعمیر سے بیماریوں کا پتہ چلانے میں آسانی ہو گی اور اس سے وائرسز کو پہنچاننے میں بھی کم وقت لگے گا۔

مگر وہ کہتے ہیں کہ ایسی لیبارٹریوں کو تعمیر کرنا اور چالو حالت میں رکھنا انتہائی مہنگا عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں اکثر یہی وجہ ہے کہ کمبوڈیا جیسی جگہوں پر یہ لیبز نہیں بن پاتیں۔

ڈونگ کا کہنا ہے کہ مالی وسائل اہم ہیں اور نیپا وائرس پر اپنا کام جاری رکھنے کے لیے انھیں مزید وسائل کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے بغیر ممکنہ طور پر تباہ کن نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

’اس کی طویل المدتی نگرانی اہم ہے۔ حکام کو بتایا ہے تاکہ وہ احتیاطی تدابیر کر سکیں اور اس کے پھیلنے کی صورت میں جلد اطلاع دیں تاکہ یہ بڑے پیمانے پر نہ پھیلے۔‘

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.