منگل28رمضان المبارک 1442ھ 11؍مئی2021ء

کملا ہیرس کے نائب صدر بننے کی کہانی جو ایک 19 سالہ تمل لڑکی کے خوابوں سے شروع ہوئی

امریکہ کی نائب صدر کملا ہیرس کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والی خاتون شیامالہ گوپلان کون تھیں؟

کملا ہیرس

کملا ہیرس اور ان کی والدہ شیامالہ گوپلان

شیامالہ گوپالن امریکہ میں ان چند غیر سفید فام خواتین میں شامل تھیں جو ایک کامیاب سائنسدان اور ایک سرگرم سماجی کارکن تھیں۔ وہ نائب صدر کملا ہیرس کی والدہ اور ان کی زندگی میں سب سے زیادہ ’متاثر کرنے والی‘شخصیت بھی تھیں۔ دلی میں گیتا پانڈے اور واشنگٹن ڈی سی میں ونیت کھرے نے ان کی زندگی کے مخلتف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔

گذشتہ ہفتے امریکہ کے نائب صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے سے کچھ گھنٹے قبل کملا ہیرس نے ان تمام خواتین کو خراج تحسین پیش کیا جنھوں نے امریکی حکومت میں دوسرے بڑے عہدے تک پہنچنے میں ان کے سفر میں مدد کی۔

ٹوئٹر پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں انھوں نے کہا ’میرے یہاں تک پہنچنے میں جس عورت کا کردار سب سے زیادہ ہے وہ میری والدہ شیامالہ گوپالن ہیں۔‘

’جب وہ 19 برس کی عمر میں انڈیا سے یہاں آئیں تو انھوں نے اس لمحے کا تصور نہیں کیا ہو گا، لیکن انھیں ایک ایسے امریکہ پر یقین ضرور تھا جہاں ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔‘

واضح رہے کہ امریکہ کی تاریخ میں کملا ہیرس ملک کی نائب صدر بننے والی پہلی خاتون کے ساتھ ساتھ اس عہدے پر پہنچنے والی پہلی سیاہ فام اور جنوبی ایشیائی امریکی بھی ہیں۔

لیکن ان کی کامیابیوں کی کہانی اس وقت تک نہیں لکھی جا سکتی جب تک اس سفر کا ذکر نہ ہو جو ان کی والدہ نے سنہ 1958 میں اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے انڈیا سے امریکہ تک کیا۔

ایک سرکاری ملازم والد اور گھر میں رہنے والی والدہ کے چار بچوں میں شیامالہ گوپالن سب سے بڑی تھیں اور بائیو کیمسٹری پڑھنا چاہتی تھیں۔

لیکن انڈیا کے برطانوی نوآبادیاتی حکمرانوں کے دلی میں قائم کردہ لیڈی ارون کالج برائے خواتین میں ’ہارڈ سائنس‘ نھیں پڑھائی جاتی تھی، جس کی وجہ سے انھیں ہوم سائنس میں انڈرگریجویٹ کی ڈگری حاصل کرنا پڑی، جہاں انھوں نے گھرداری جیسے مضامین کا مطالعہ کیا۔

شیامالہ گوپالن کے بھائی گوپالن بالاچندرن نے بی بی سی کو بتایا: ’میں اور والد انھیں اس بارے میں بہت تنگ کرتے تھے۔‘

انھوں نے ہمیں بتایا: ’ہم ان سے پوچھا کرتے کہ آپ کو کالج میں کیا سکھایا جاتا ہے؟ یہ کہ ٹیبل کیسے لگایا جاتا ہے؟ چمچہ کہاں رکھا جاتا ہے؟ تو وہ ہم پر بہت غصہ کرتی۔‘

کملا ہیرس

شیامالہ گوپالن اپنی بیٹیوں کملا ہیرس اور مایا کے ساتھ

دلی کی جواہر لعل یونیورسٹی کے پروفیسر آر راجرامان جو کم عمری میں شیامالہ گوپالن کے ساتھ پڑھتے تھے، کے مطابق وہ بہت ’غیر معمولی‘ تھیں۔

40 طالب علموں کی کلاس میں لڑکے اور لڑکیاں الگ الگ بیٹھتے تھے اور آپس میں بہت کم ہی بات کیا کرتے تھے۔

پروفیسر آر راجرامان یاد کرتے ہیں: ’وہ لڑکوں سے بات کرنے میں کوئی شرم محسوس نھیں کرتی تھیں۔ وہ پراعتماد تھیں۔‘

پروفیسر آر راجرامان کہتے ہیں کہ یہ ایک عجیب بات ہے کہ انھوں نے لیڈی ارون کالج جانے کا انتخاب کیا، کیونکہ ان دنوں اس کالج کو ’ایک ایسی جگہ سمجھا جاتا تھا جو لڑکیوں کو شادی اور اچھی بیویاں بننے کے لیے تیار کرتا تھا۔‘

لیکن شیامالہ گوپالن کے عزائم کچھ اور تھے۔ انھوں نے برکلے میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں درخواست دی جسے قبول کر لیا گیا۔

ان کے بھائی نے کہا: ’اس نے یہ سب کچھ خود کیا اور گھر میں کسی کو اس بارے میں علم نہیں تھا۔‘

’والد کو ان کے جانے سے کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن وہ پریشان تھے کیونکہ ہم امریکہ میں کسی کو نہیں جانتے تھے۔ لیکن وہ تعلیم کی اہمیت کو جانتے تھے تو انھوں نے شیامالہ کو جانے دیا۔ شیامالہ کو کوئی سکالر شپ ملی تھی اور ہمارے والد نے پہلے سال میں ان کی مدد کرنے پر رضامندی بھی ظاہر کی۔‘

تو صرف 19 برس کی عمر میں شیامالہ گوپالن نے غذائیت اور اینڈو کرینولوجی میں پی ایچ ڈی کرنے کے لیے انڈیا کو ایک ایسے ملک کے لیے چھوڑا جہاں وہ پہلے کبھی نہیں آئی تھیں اور جہاں وہ نہ ہی کسی کو جانتی تھیں۔

کملا ہیرس نے سنہ 2019 میں اپنی کتاب ( The Truths we Hold) میں اپنی ماں کے اس سفر کے بارے میں لکھا ہے۔

وہ لکھتی ہیں: ’میرے لیے یہ تصور کرنا بہت مشکل ہے کہ ان کے والدین کے لیے یہ کتنا دشوار رہا ہو گا۔‘

کملا ہیرس

امریکہ کی تاریخ میں کملا ہیرس ملک کی نائب صدر بننے والی پہلی خاتون جبکہ پہلی سیاہ فام اور جنوبی ایشیائی امریکی بھی ہیں

’کمرشل جیٹ طیاروں کا سفر ابھی عالمی سطح پر شروع ہونا تھا۔ رابطے میں رہنا کوئی آسان بات نہیں ہو گی۔ اس کے باوجود جب میری والدہ نے کیلیفورنیا جانے کی اجازت طلب کی تو میرے نانا نانی ان کے راستے میں نھیں آئے۔‘

امریکہ میں یہ دور انتہائی دلچسپ تھا۔

شہری حقوق کی تحریک عروج پر تھی اور نسلی امتیاز کے خلاف برکلے مظاہروں کا مرکز تھا۔ بہت سارے غیر ملکی طلبا کی طرح شیامالہ بھی امریکہ اور دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کی اس جنگ میں شامل ہو گئیں۔

پھر بھی اس دور میں شہری حقوق کی تحریک میں کسی انڈین طالب علم کا حصہ لینا ایک غیر معمولی چیز تھی۔

مارگوٹ ڈیشیل نے، جن کی شیامالہ سے پہلی ملاقات سنہ 1961 میں کیمپس کے ایک کیفے میں ہوئی، بی بی سی کو بتایا: ’مجھے احساس ہوا کہ وہ ذاتی طور پر افریقی نژاد امریکی طلبا کی اس جدوجہد سے اپنی پہچان بنا سکتی ہیں کیونکہ وہ ایک ایسے معاشرے سے آئی تھیں جہاں استعماریت کے جبر کو سمجھا جاتا ہے۔‘

’یہ کئی دہائیاں پرانی بات ہے لیکن مجھے یاد ہے کہ ایک بار انھوں نے سر ہلاتے ہوئے مجھے کہا تھا کہ سفید فام لوگ اس جدوجہد کو نھیں سمجھ سکتے کیونکہ وہ مراعات لیتے ہیں۔ انھوں نے مجھے مزید تفصیلات نھیں بتائیں لیکن میرے خیال میں وہ کسی ایسی چیز کے بارے میں بات کر رہی تھیں جس کا بحیثیت ایک سیاہ فام انھیں سامنا کرنا پڑا۔‘

دوست انھیں ’ایک چھوٹے قد کے انسان‘ کی طرح یاد کرتے ہیں جو ساڑھی پہنتی تھیں اور ماتھے پر بندیا لگاتی تھیں۔ ان کے دوستوں کے مطابق وہ ’ایک اچھی طالب علم، صاف گو اور فکری لحاظ سے تیز‘ تھیں۔

مارگوٹ ڈیشیل کہتی ہیں ’مردوں سے غالب ماحول میں ہمارے معاشرتی دائرے میں صرف چند ہی خواتین اتنی پر اعتماد تھیں۔‘

مارگوٹ ڈیشیل یاد کرتی ہیں کہ افریقی امریکی ایسوسی ایشن میں وہ ’واحد انڈین، واحد غیر افریقی امریکی‘ تھیں۔ افریقی امریکی ایسوسی ایشن دراصل ایک گروپ تھا جسے سیاہ فام طلبا نے 1962 میں اس لیے تشکیل دیا تھا کہ افریقی امریکی طلبا کو ان کی تاریخ کے بارے میں بتایا جا سکے۔

سنہ 1962 میں برکلے میں وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران شیامالہ سے پہلی بار ملنے والے آوبرے لیبری، جن کی شیامالہ سے دوستی ساری عمر جاری رہی، کا کہنا ہے کہ کسی نے کبھی بھی کسی ایسے گروپ میں ان کی موجودگی پر سوال نھیں کیا جو زیادہ تر سیاہ فام افراد پر مشتمل تھا۔

’ہم سب کو اس ملک میں شہری حقوق کی تحریک میں ہونے والی پیشرفت میں دلچسپی تھی۔ بے شک ہم نے اسے تیسری دنیا کی آزادی کی تحریکوں کا حصہ سمجھا اور میرا اندازہ ہے کہ اس گروپ میں ان کی شمولیت کی بنیاد بھی یہی تھی۔ ہم سب نے اپنے آپ کو ان بھائیوں اور بہنوں کی طرح دیکھا جو اس قسم کی تحریکوں کے حامی تھے۔‘

’کسی نے بھی ان کے پس منظر کے بارے میں کوئی مسئلہ پیدا نھیں کیا۔ اگرچہ لوگوں کو اندرونی طور پر تشویش لاحق تھی کہ یہ سیاہ فاموں کا گروپ ہے اور وہ کسی یورپی طالب علم کا خیرمقدم نھیں کریں گے لیکن مجھے یہ یاد نھیں کہ کبھی شیامالہ کی شمولیت کے بارے میں کوئی بات کی گئی ہو۔‘

کملا ہیرس

شہری حقوق کی تحریک میں شیامالہ کی شمولیت نے ان کی زندگی کا رخ بدلا

کملا ہیرس لکھتی ہیں کہ ان کی والدہ سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن واپس آئیں گی اور ان کی شادی کر دی جائے گی ’لیکن تقدیر کے منصوبے کچھ اور تھے۔‘

سنہ 1962 میں ان کی ملاقات ڈونلڈ ہیرس سے ہوئی، جو جمیکا سے برکلے معاشیات کی تعلیم حاصل کرنے آئے تھے، اور دونوں میں محبت ہو گئی۔

اس جوڑے کی ملاقات سیاہ فام طلبا کی ایک تقریب میں ہوئی جب شیامالہ گوپالن اپنا تعارف کروانے ان کے پاس گئیں۔ حال ہی میں نیو یارک ٹائمز کو ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ہیرس نے بتایا ’مرد اور خواتین کے اس گروپ میں وہ سب سے الگ تھیں۔‘

کملا ہیرس کہتی ہیں کہ ان کے والدین ’بہت ہی امریکی انداز میں محبت میں گرفتار ہوئے، جب وہ انصاف اور شہری حقوق کی تحریک کے لیے مارچ کر رہے تھے۔‘

سنہ 1963 میں دونوں نے شادی کر لی اور ایک برس بعد 25 برس کی عمر میں شیامالہ گوپالن نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لی اور اس کے ساتھ ہی کملا کو جنم دیا۔ دو برس بعد اس جوڑے کے ہاں دوسرے بچے یعنی کملا کی بہن مایا کی پیدائش ہوئی۔

کسی غیر ملکی کے ساتھ ہونے والی یہ شادی بظاہر شیامالہ گوپالن کے تامل برہمن خاندان کو پسند نہ آئی۔

سنہ 2003 میں دیے گئے ایک انٹرویو میں شیامالہ گوپالن نے کہا کہ ایک امریکی سے شادی کر کے انھوں نے ’خاندان کی اس روایت کو توڑا جو ایک ہزار سال سے بھی زیادہ عرصے سے چلی آ رہی تھی۔‘

شیامالہ گوپالن کے بھائی گوپالن بالاچندرن کہتے ہیں ’انھوں نے ہمیں نھیں بتایا تھا کہ وہ شادی کر رہی ہے‘ اگرچہ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان کے والدین کو ’اس شادی پر کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن انھیں صرف اس بات پر تشویش تھی کہ وہ دولہے سے نھیں ملے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ایک بار انھوں نے ’کملا اور مایا کو اپنے نانا سے یہ پوچھتے ہوئے سنا کہ کیا وہ ان کے والد کو پسند نھیں کرتے تھے۔‘

انھوں نے جواب دیا: ’آپ کی والدہ کو وہ پسند تھے اور ان میں کوئی بری عادات بھی نھیں تو انھیں ناپسند کیوں کیا جائے۔‘

شیامالہ کے والدین نے اپنے داماد سے پہلی ملاقات شادی کے تین برس بعد سنہ 1966 میں زیمبیا میں کی، جب شیامالہ کے والد کا تبادلہ وہاں ہوا۔

یہ شادی زیادہ عرصہ نہ چل سکی اور اس جوڑے میں اس وقت علیحدگی ہو گئی جب کملا ہیرس صرف پانچ برس کی تھیں۔ والدین کی علیحدگی کے باوجود کملا اور ان کی بہن مایا چھٹیوں میں اپنے والد سے ملا کرتی تھیں تاہم ان کی پرورش ان کی والدہ نے ہی کی۔

گذشتہ برس نائب صدر کے لیے کاغذات نامزدگی قبول کرتے ہوئے کملا ہیرس نے کہا کہ ان کی والدہ کی زندگی آسان نھیں تھی، وہ گھنٹوں کام کرتیں، کینسر سے متعلق تحقیق کرتیں اور اپنی بیٹیوں کا بھی خیال رکھتی تھیں۔

شیامالہ گوپالن کی وفات فروری سنہ 2009 میں ستر برس کی عمر میں آنتوں کے کینسر سے ہوئی۔ انھیں دنیا بھر میں چھاتی کے کینسر میں ہارمونز کے کردار کے حوالے سے دریافتیں کرنے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

انھوں نے اپنے کیریئر کا آغاز برکلے کے ڈیپارٹمنٹ آف زولوجی اور کینسر ریسرچ لیبارٹری سے کیا تھا۔ وہ اپنے کام کے آخری عشرے میں کیلیفورنیا میں لارنس برکلے لیبارٹری واپس جانے سے پہلے کام کرنے فرانس، اٹلی اور کینیڈا بھی گئی تھیں۔

لارنس برکلے لیبارٹری میں شیامالہ کے باس اور ایک سائنسدان جو گرے انھیں ’ایک انتہائی سنجیدہ سائنسدان اور سائنسی مباحثوں کے دوران شمولیت کے لیے ہمیشہ تیار رہنے‘ والی شخصیت کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’وہ اپنے اندر کینسر کی تشخیص کے بارے میں بھی کھل کر بات کرتی تھیں۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ ان لوگوں میں سے ایک تھیں جن کا کہنا تھا کہ ’جو ہے وہ بس ہے اور جب تک ہو سکا میں اس کا مقابلہ کروں گی۔‘

گوپالن بالاچندرن کہتے ہیں کہ جب شیامالہ کا کینسر پھیلنے لگا تو انھوں نے اپنے زندگی کے آخری ایام انڈیا واپس آ کر اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیا لیکن ایسا نھیں ہو سکا۔

مسٹر لیبرے اپنی دوست سے آخری گفتگو کر یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اپنے ملک واپس جانے کا ارادہ رکھتی تھیں۔

وہ کہتے ہیں ’میں نے سوچا کہ زندگی کے اس مرحلے پر اپنے ورثے سے رابطے میں ہونا ایک رومانوی خیال ہے۔‘

’بہت سی دوسروں باتوں کے علاوہ میں نے کہا کہ شیامالہ میں یہ سن کر خوش ہوں کہ آپ انڈیا واپس جا رہی ہیں تو انھوں نے کہا کہ میں کہیں نھیں جا رہی۔ اس کے بہت ہی کم عرصے بعد ان کی وفات ہو گئی۔‘

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.