منگل یکم شعبان المعظم 1442ھ 16؍مارچ 2021ء

‘کسی جماعت کو تناسب سے کم نشستیں ملنے کا ذمہ دار الیکشن کمیشن ہو گا’

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ جس جماعت کی سینیٹ میں جتنی نشستیں بنتی ہیں اتنی ملنی چاہیئں اگر  کسی جماعت کوکم نشستیں ملیں توذمہ دارالیکشن کمیشن ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس کی سربراہی میں لارجر بینچ نے سماعت کی تو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل نے الیکشن کمیشن کا تیار جواب جمع کرواتے ہوئے بتایا کہ  ویجیلنس کمیٹی قائم کی ہے جس میں  مختلف شعبوں سے افسران ویجیلنس کمیٹی میں شامل ہوں گے، ہر امیدوار سے ووٹوں کی خریدوفروخت نہ کرنے کا بیان حلفی لیا جائے گا، آن لائن شکایات سینٹر قائم کردیا ہے۔

وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ستمبر سے اب تک 1100 سے زائد شکایات موصول ہوئیں، ووٹوں کو خفیہ رکھنے کا مطلب ہے کہ ہمیشہ خفیہ ہی رہیں گے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا  کہ ووٹ ہمیشہ کیلئےخفیہ نہیں رہ سکتا، قیامت تک ووٹ خفیہ رکھنا آئین میں ہے نہ عدالتی فیصلوں میں، انٹرنیٹ پر ہونے والی ہر چیز ٹریس ہو سکتی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ متناسب نمائندگی کاکیامطلب ہے؟ سیاسی جماعت کی سینیٹ میں نشستیں صوبائی اسمبلی کی سیٹوں کےمطابق ہونی چاہیئں اگر صوبائی اسمبلی کےتناسب سےسیٹیں نہ ملیں توالیکشن کمیشن کی ناکامی ہوگی۔

You might also like

Comments are closed.