جمعرات5؍رجب المرجب 1442ھ18؍فروری 2021ء

‘پارٹی کے خلاف ووٹ دینے پر کوئی سزا نہیں’

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ آرٹیکل 63 اے کا اطلاق سینیٹ انتخابات پر نہیں ہوتا جب کہ اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا کہ پارٹی کے خلاف ووٹ دینے پر کوئی سزا نہیں جس کو پارٹی کے خلاف ووٹ دینا ہے کھل کردے سزا صرف ووٹوں کی خریدوفروخت پر ہوسکتی ہے۔

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پرچیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی تو الیکشن کمیشن حکام، اٹارنی جنرل ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سمیت دیگر پیش ہوئے۔

چیف جسٹس  نے کہا کہ آرٹیکل 59 میں خفیہ ووٹنگ کا کوئی ذکر نہیں، آئین کا آرٹیکل 59 سینیٹ کے حوالے سے ہے جس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ شخصیات کو نہیں اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا، شفافیت کیلئے ہرچیز خفیہ رکھنا لازمی نہیں۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے پوچھا کہ کیا یہ کہنا درست ہوگا ووٹ ہمیشہ کیلئے خفیہ نہیں رہ سکتا؟ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ ماضی میں بھی غیرقانونی طریقے سے مینڈیٹ چوری ہوا، آصف زرداری نے اب بھی کہا کہ تمام 10 نشستیں جیتیں گے، آصف زرداری کا بیان سیاسی لیکن مینڈیٹ کے برعکس ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عمومی گفتگو تو ہوتی رہے گی اب قانون کی بات کریں، آرٹیکل 226 پڑھ کر اسی پر دلائل دیں، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آرٹیکل 59 اور 226 کو ملا کر پڑھنا ہوگا، خفیہ رائے شماری میں متناسب نمائندگی نہ  ہوئی تو آئین کیخلاف ورزی ہوگی۔

You might also like

Comments are closed.