اتواریکم رجب المرجب 1442ھ 14؍ فروری2021ء

جسمانی حرارت سے بجلی بنانے والی انگوٹھی

کولاراڈو: ہم جانتے ہیں کہ درجہ حرارت میں اتارچڑھاؤ کے اصول پر تھرموالیکٹرک جنریٹر کام کرتے ہیں۔ اب جامعہ کولاراڈو کے ماہرین نے تھرموالیکٹرک انگوٹھی بنائی ہے جو نہ صرف حرارت سے بجلی بناتی ہے بلکہ کسی نقصان کی صورت میں اپنی مرمت آپ بھی کرسکتی ہے۔

اسی اصول پر ہم دنیا کا سب سے چھوٹا ریفریجریٹر اور تھرمل رنگ و روغن بنانے کے علاوہ اسمارٹ فون چلاچکے ہیں۔ اگرچہ 2018 میں اس انگوٹھی کا ابتدائی نمونہ (پروٹوٹائپ) بنالیا تھا لیکن یاد رہے کہ یہ ایک لچکدار انگوٹھی ہے جو مڑ اور کھینچی جاسکتی ہے۔ اس کا اولین مقصد کمپیوٹر اور دیگر آلات کو انگوٹھی میں رکھنا ہے جبکہ اس دوران کسی خرابی کو یہ خود دوربھی کرسکتی ہے۔

اس کی الیکٹرانک جلد پولی امائن نامی خاص پالیمر سے بنائی گئی ہے جس پر چاندی کے نینوذرات چھڑکے گئے ہیں۔ اس طرح گھسنے اور مڑنے پر یہ خود کی مرمت کرتی ہے۔ اس کا خاص پہلو یہ ہے کہ انسانی جسم ہی اس کی بیٹری ہے جس کی حرارت اسے بجلی دیتی ہے۔

اوپر کی ہوا اور انگوٹھی کے نیچے کی جلد کا درجہ حرارت کا فرق ہی اسے تھرموالیکٹرک بناتا ہے۔ اس کے لیے بہت چھوٹی تھرموالیکٹرک چپس لگائی گئی ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق ایک مربع سینٹی میٹر جلد کی حرارت سے انگوٹھی ایک وولٹ بناسکتی ہے جو صحت کے برقی پہناووں یا اسمارٹ واچ کو چلانے کے لیے بہت کافی ہے۔

اگر اسے پھیلا کر کلائی کا پٹہ بنایا جائے تو بجلی کی پیداوار 5 وولٹ تک بڑھ سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انگوٹھی ماحول دوست ہے اور بے کار ہونے پر ری سائیکل ہوسکتی ہے۔

You might also like

Comments are closed.