پیر23؍ رجب المرجب 1442ھ 8؍مارچ2021ء

بارش اور برفباری کے بعد شامی پناہ گزینوں کے کیمپ جھیلوں میں تبدیل

شام کی جنگ: خیمہ بستیوں میں سیلابی صورتحال کے بعد 20 ہزار خیمے خالی

A girl and a boy stand next to their flooded tent at a camp in northern Idlib province, Syria

ترک سرحد کے قریب ایک بچ اور بچی اپنے سیلاب زدہ ٹیٹ کے پاس موجود ہیں

تیز بارش اور برفباری کے بعد تیز ہواؤں اور سیلاب نے شمالی مغربی شام میں قائم خیمہ بستیوں میں رہنے والے بعد 20 ہزار افراد کو خیمے خالی کرنے پر مجبور کردیا۔

امدادی ادارے کئیر کا کہنا ہے کہ ادلب اور حلب کے صوبوں میں کم از کم 87 یہ خیمہ بستیاں جھیلوں میں بدل چکی ہیں۔

ادارے کے مطابق کچھ افراد نے عوامی مقامات پر عمارتوں میں پناہ لے رکھی ہے جبکہ منفی درجہ حرارت میں کئی افراد کھلے آسمان تلے ہیں۔

سخت موسمیاتی سختیوں کے باعث کم از کم ایک بچے کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

A girl walks through a flooded camp in north-western Syria

شام میں کم از کم 66 لاکھ افراد بے گھر ہیں

اس علاقے میں خیمہ بستوں کی 15 لاکھ آبادی میں 80 فیصد تعداد عورتوں اور بچوں کی ہِے۔

شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف بغوات کے آغاز کے بعد گذشتہ 10 برسوں میں کم از کم ایک کروڑ بیس لاکھ افراد اپنے گھروں سے جان بچا کر نکلے ہیں۔

کم از کم 66 لاکھ افراد ملک میں بے گھر ہیں جبکہ 56 لاکھ افراد بیرون ملک پناہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

Children clear snow off the roof of a tent a camp for displaced people in Aleppo province, Syria

حلب میں برفباری کے بعد بچے اپنے خیمہ کی چھت صاف کر رہے ہیں تاکہ پانی اندر رسنے سے روک سکیں

Children stand in the snow at a camp for displaced people in Aleppo province, Syria

اتنے کم درجہ حرارت میں کچھ لوگ کھلے اسمان تلے ہیں

ترکی میں کیئر کے شیرائن ابراہیم کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم حلب اور ادلب میں بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کو ہنگامی امداد فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاہم سیلاب کے باعث سڑکوں تک عدم رسائی کی وجہ سے اسے مشکلات کا سامنا ہے۔

انھوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ اس صورتحال کی وجہ سے کووڈ19 کے انفیکشن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ گذشتہ بدھ کو طبی حکام کے مطابق کم از کم بیس ہزار افراد میں مرض کی تصدیق ہوئی تھی جبکہ 379 اس کے باعث ہلاک ہوئے تھے۔

A woman stands in her flooded tent in Idlib province, Syria

زیادہ تر کیمپ زرعی علاقوں میں قائم ہیں

A boy looks at a water channel through a camp for displaced people in north-western Syria

سردیوں میں کیمپوں کی بحالی ممکن نہیں کیونکہ دوبارہ باشوں سے سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے

ان کا مزید کہنا تھا کہ نامناسب پناہ گاہوں اور بڑھتی ہوئی بھوک کے باعث ان بے گھر ہو جانے والے شامی افراد کے خود کو اور اپنے پیاروں کو محفوظ رکھنے کے تمام حربے ناکام ہوتے جا رہے ہیں۔

حلب کے ایک کیمپ میں رہنے والی خاتون زینب نے کیئر کو بتایا کہ ’خیمے میں پانی آ گیا تھا جہاں میں اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ رہتی تھی پانی زمین پر پھیل گیا تھا۔ ہم وہاں نہیں رہ سکتے تھے، دیکھیے ہماری کیا حالت ہو گئی ہے، ہمارے پاس نہ کھانا ہے نہ کمبل ہے اور نہ ہی دوسرا سامان ہے۔

A woman stands in her flooded tent in Idlib province, Syria

زینب اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ ادلب کے کیمپ میں رہتی تھیں

ان کا مزید کہنا تھا کہ پانی نے سب کچھ تباہ کر دیا یا کچھ نہیں بچا، بہت مشکل وقت ہے۔‘

گذشتہ برس بے گھر ہونے والے ابو علی کا کہنا تھا ایک ہفتے سے ان کے خاندان کے پاس پینے کا صاف پانی نہیں ہے اور امدادی ادارے ان کے کیمپ تک امداد نہیں پہنچا پا رہے۔

A man stands outside a flooded tent in Idlib province, Syria

ابو علی کے پاس اپنے اور اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے خشک کپڑے، کمبل یا بستر تک نہیں

شام کے محکمہ شہری دفاع کے کارکنوں جنہیں وائٹ ہیلمٹ کہا جاتا ہے نے اتوار کو کو بارش کے باوجود اپنی کاروائیاں جاری رکھیں اور دو سو پچیس سے زائد کیمپوں میں 3,200 متاثرہ خاندانوں کو امداد فراہم کررہے تھے۔

شام کے شہری دفاع کے مطابق گذشتہ ہفتے ادلب میں ایک چھ سالہ بچہ خیمے کے گرد لگی اینٹوں کی کی دیوار گرنے سے ہلاک ہوگیا۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.