#HisChoice: 'میں ہاؤس ہزبینڈ ہوں تو لوگوں کو کیا مسئلہ ہے؟'

#HisChoice: 'میں ہاؤس ہزبینڈ ہوں تو لوگوں کو کیا مسئلہ ہے؟'

October 02, 2018 - 10:54
Posted in:

ہم نے اس سے قبل 'ہر چوائس' نامی سیریز میں ان خواتین کی کہانیاں پیش کی تھیں جنھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب ہم ’ہز چوائس‘ لا رہے ہیں کچھ ایسے مردوں کی کہانیاں جنھوں نے سماج کے طے شدہ اصولوں سے بغاوت کی اور روایتی ڈگر کی پروا کیے بغیر اپنی مرضی سے اپنی راہ منتخب کی اور کسی خانے میں فٹ ہونے سے انکار کیا۔ یہاں پیش ہے ایسے ہی ایک مرد کی کہانی جنھوں نے 'ہاؤس ہزبینڈ' بننے کی جرات کی۔میں اپنے سالی کی شادی کے موقعے سے اپنے سسرال میں تھا۔ اس بار ہمارے ساتھ ایک نیا مہمان تھا اور مہمان کوئی اور نہیں بلکہ ہماری بیٹی تھی۔میری بیوی شادی بیاہ کی رونق اور رقص و موسیقی کی محفلوں میں مست تھی اور میری بیٹی میرے ساتھ سائے کی طرح تھی کیونکہ اسے میرے ساتھ رہنے کی عادت تھی اور وہ مجھ سے زیادہ مانوس تھی۔ہم سب باتوں میں مشغول تھے تبھی میری بیٹی نے پوٹی کر دی۔ جیسے ہی میں اسے صاف کرنے کے لیے بھاگا میری ساس نے مجھے ٹوک دیا۔ایک کونے میں لے جا کر انھوں نے مجھ سے سختی سے کہا: 'آپ اس گھر کے داماد ہیں۔ یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ رشتہ دار دیکھیں گے تو کیا کہیں گے؟ سونالی کو بلائیے۔ وہ بچی کو صاف کرے گی اور اس ڈائپر پہنائے گی۔اس سے قبل کہ میں کچھ کہہ پاتا کہ 'یہ میں بھی کر سکتا ہوں' میری ساس نے میری بیوی کو بلایا اور کہا: 'جاؤ اپنی بیٹی کو صاف کرو۔'یہ بھی پڑھیے'میں غیر مردوں کے ساتھ انٹرنیٹ پر فلرٹ کرتی ہوں'’میں معذور ہوں، وہ نہیں، پھر بھی ہم لو ان ریلیشن میں رہے‘میری بیوی اور میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ میری ساس نے مزید تلخ لہجے میں کہا: 'سونالی ...!' اور میری بیوی اپنی بیٹی کو لے کر فوری طور پر واش روم چلی گئی۔میں حیران تھا۔ کیونکہ یہ کام میرے لیے نیا نہیں تھا اور میری ساس اور سسر کو معلوم تھا کہ میں 'ہاؤس ہزبینڈ' ہوں یعنی گھر پر رہنے والا اور گھریلو کام کاج کرنے والا شوہر۔میرا خیال ہے کہ انھیں شرمندگی دوسروں کی موجودگی کی وجہ سے ہوئی ہوگی۔ کئی لوگوں کے چہروں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔

ابتدا میں جب اپنی بیٹی کو پارک میں لے جاتا تو خواتین میری بیٹی کو پیار کرنے آتیں لیکن چار پانچ دنوں کے بعد انھوں نے پوچھا کہ 'آپ ہی آج بھی آئے ہیں؟ گڑیا کی ماں کہاں ہے؟ کیا طبیعت ٹھیک نہیں ہے؟' وغیرہ وغیرہ۔جب میں نے جواب دیا کہ میری بیوی جاب کرتی ہے اور میں بچے سنبھالتا ہوں تو نئے سوال شروع ہو گئے۔ 'آپ اتنی چھوٹی بچی کیسے سنبھالتے ہیں؟ کیا وہ آپ کے پاس رہ جاتی ہے؟ کون اسے نہلاتا ہے کون کھلاتا ہے؟' وغیرہ۔ان کے چہرے پر ایسے آثار آتے جیسے میں کوئی نایاب کام کر رہا ہوں۔ میں ایسا آدمی ہوں جو گھر پر رہتا ہے اور کام پر نہیں جاتا ہے۔یہاں تک کہ وہ مجھے 'پھوکٹ' کہہ کر پس پشت میرا مذاق اڑاتیں۔میری شادی کے بعد جب پہلی بار میرے والدین میرے گھر آ ئے تو مجھے گھر کا کام کرتے دیکھنا انھیں پسند نہیں آیا۔ میری ماں نے مجھ سے کچھ بھی نہیں کہا لیکن میں ان کے رویے سے سمجھ گیا کہ وہ اسے برداشت نہیں کر پا رہی ہیں۔ان کی آنکھوں میں یہ سوال ہوتا تھا کہ 'تم کمانے کیوں نہیں جاتے ہو اور بہو ملازمت کے ساتھ گھر کا کام کیوں نہیں کر سکتی؟'میری بیوی نے میری ماں کی تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے گھر کا کام کرنا شروع کیا لیکن وہ بہت دنوں ایسا نہیں کر سکی۔ پھر میں نے ہی سونالی کو گھر کا کام کرنے سے منع کر دیا۔یہ بھی پڑھیےکچھ دن کے لیے نہ میں کسی کی بیوی اور نہ ماں!’جب جنسی طور پر کمزور مرد سے میری شادی ہوئی‘میری ماں کو بات تو سمجھ میں آ گئی لیکن انھوں نے اس کے متعلق خاموشی اختیار کر لی۔اب میری بیٹی سکول جاتی ہے۔ سکول کی طرف سے اسے 'فیملی ٹری' یا شجرہ بنانے کا کام دیا گیا۔میں باہر تھا اور میری بیوی نے میری بیٹی کی مدد کی اور اس نے 'خاندان کے سربراہ' کے طور پر میرا نام لکھ دیا۔جب میں نے دیکھا تو میں نے اس پر اعتراض کیا۔ مجھے یہ کہنا تھا کہ جب سونالی کام کرتی ہے، گھر میں پیسے لاتی تو پھر وہی خاندان کی سربراہ ہوئی لیکن سونالی راضی نہیں ہوئی اور اس نے میرا نام نہیں ہٹایا۔میں ایک آزاد مصنف ہوں اور گھر سے ہی تصنیفی کام کرتا ہوں۔ میری دو کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور تیسری طباعت کے لیے تیار ہے۔ لیکن لوگ اس کی اہمیت نہیں سمجھتے۔میری بیوی بھی دفتر میں اسی طرح کے سوالات کا سامنا کرتی ہے۔ لیکن ہم دونوں میں اتنی محبت ہے کہ ہمارے تعلقات پر ان کا کوئی اثر نہیں پڑا۔میرے بھائی میرے گھر میں کام کرنے کے بارے میں کچھ نہیں کہتے لیکن وہ اس کی تعریف بھی نہیں کرتے۔ بہرحال گھر کی عورتیں میرا خاص طور پر احترام کرتی ہیں۔میں جانتا ہوں کہ جب آپ کچھ مختلف کرتے ہیں تو لوگ پہلے مذاق اڑاتے ہیں، پھر تنقید کرتے ہیں اور آخر میں اسے قبول کرنے لگتے ہیں۔میں ابھی پہلے مرحلے میں ہوں یعنی مذاق کے لیے تختۂ مشق!(یہ کہانی ایک ایسے نوجوان کی ہے جنھوں نے بی بی سی کے صحافی نیلیش دھوترے سے بات کی۔ ان کی شناخت پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ اس سیریز کی پروڈیوسر سوشیلا سنگھ ہیں)

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}