60 سالہ پاکستانی کا وزن 330 کلو تک کیسے پہنچا

60 سالہ پاکستانی کا وزن 330 کلو تک کیسے پہنچا

June 20, 2019 - 09:13
Posted in:

نور الحسن لیٹ کر کھانا کھاتے تھے۔ بیٹھ کر کھانے کی کوشش میں اِن کے ہاتھ میز تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ کھانے اور ان کے درمیان ان کا پیٹ حائل ہو جاتا تھا۔ وہ سوتے بھی پیٹ کے بل تھے کیونکہ اگر سیدھا سوتے تو ان کی سانس گھٹنے لگتی تھی۔پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر صادق آباد کے 60 سالہ رہائشی نورالحسن گذشتہ تقریباً آٹھ برس سے یہ معمول اپنانے پر مجبور ہیں۔ اس کی وجہ ان کا غیر معمولی وزن ہے جو اس وقت 330 کلو گرام ہے۔ ان کی حرکت ایک ہی کمرے تک محدود تھی۔ رفع حاجت کے لیے بھی ایک مخصوص کرسی انھوں نے اسی کمرے میں بچھا رکھی تھی۔ نورالحسن کو حال ہی میں آرمی کی ہوائی ایمبولینس سے لاہور پہنچایا گیا۔ لاہور کے شالیمار ہسپتال میں وہ انتہائی درجے کے موٹاپے سے نجات حاصل کرنے کے لیے سرجری کے منتظر ہیں۔ یہ بھی پڑھیےکیا میٹھی چیزیں واقعی آپ کے لیے نقصان دہ ہیں؟ موٹاپا بچوں کی ذہنی صحت متاثر کر سکتا ہےکیا زیادہ کھانے والا ہر شخص ضرور موٹا ہو گا؟ہسپتال کے مردانہ وارڈ میں ان کے لیے خصوصی پلنگ تیار کیا گیا تھا جس پر طبی ماہرین کی زیرِ نگرانی وہ تقریباً ایک دہائی بعد پہلی مرتبہ سیدھا لیٹ پائے ہیں۔ انھیں لیپروسکوپک سرجری کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ ہسپتال کے پلنگ سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نورالحسن نے بتایا کہ تقریباً دس برس سے وہ خود کو قید محسوس کر رہے تھے۔ 'میں آپ کو کیا بتاؤں کہ میرے سگے بھتیجے کا انتقال ہو گیا اور میں اس کے جنازے پر نہیں جا سکا۔ مجھ سے کھڑا نہیں ہوا جاتا تھا، میں بیٹھ نہیں سکتا تھا۔'ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی زندگی سے مایوس ہو چکے تھے۔ 'مجھے کسی نے بتایا کہ موٹاپے کا تو علاج ہی نہیں ہے۔ میں نے اللہ تعالٰی سے دعا کی یا تو مجھے سنبھال لے یا مجھے سکھی دن دکھا دے۔'ان کا وزن اس قدر کیسے بڑھا؟موٹاپے کا شکار ہونے سے قبل نورالحسن مال بردار گاڑی یا ٹرک چلاتے تھے۔ ان کے سست رو طرزِ زندگی کی وجہ سے وہ اکثر بیٹھے رہتے تھے۔ نورالحسن کے مطابق انھیں کوئی ایسی بیماری بھی لاحق نہیں تھی جس کے باعث ان کا وزن اس قدر غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا۔

ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹر کون ہیں؟ڈاکٹر معاذ الحسن کا کہنا ہے کہ وہ اس سے قبل موٹاپے کا شکار سینکڑوں افراد کے آپریشن کر چکے ہیں۔ اس میں سعودی عرب کے 600 کلو گرام وزنی شخص بھی شامل ہیں۔ اسی طرح انھوں نے ایک بچے کا آپریشن کیا جس کا وزن صرف 12 سال کی عمر میں 120 کلو گرام ہو گیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ ان کے آپریشنز میں کامیابی کا تناسب 95 فیصد ہے۔ ان کا دعوٰی ہے کہ وہ پاکستان میں باریاٹرک سرجری یعنی معدے کے بائی پاس آپریشن کی صلاحیت رکھنے والے واحد سرجن ہیں۔نورالحسن کی گذشتہ دس برس کی 'قید' کے دنوں میں ان کی اہلیہ اور ایک بیٹی لوگوں کے گھروں میں کام کرتے تو ان کا گھر چلتا تھا۔ موٹاپے سے نجات کے بعد انھیں امید ہے کہ وہ کوئی ایسا کام کاج ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں گے جس میں ان کا طرزِ زندگی سست رو نہ ہو۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}