24 مرتبہ شکست کے باوجود ہار نہ ماننے والا امیدوار

24 مرتبہ شکست کے باوجود ہار نہ ماننے والا امیدوار

April 23, 2019 - 07:14
Posted in:

منگل کو انڈیا میں پارلیمانی انتخابات کے تیسرے مرحلے کے لیے ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اس مرحلے میں ملک کے وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات سمیت 15 ریاستوں میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔انڈیا میں ہر پارلیمانی انتخاب میں سیاسی جماعتوں کے نامزد امیدواروں کے علاوہ بہت سے آزاد امیدوار بھی میدان میں اترتے ہیں اور تمام تر نامساعد حالات کے باوجود وہ جمہوریت کے اس مقابلے میں اپنی بازی کھیلتے ہیں۔ اومکار کونڈیکر ایک ایسے شخص کے بارے میں بتا رہے ہیں جو اب تک دو درجن مرتبہ الیکشن میں شکست سے دو چار ہو چکے ہیں لیکن وہ ہمت ہارنے کے لیے تیار نہیں۔انڈیا کے مغربی شہر پونے کے شیوا جی نگر میں وجے پرکاش کونڈیکر اب ایک شناسا چہرہ ہیں۔گذشتہ دو مہینوں سے 73 سالہ وجے پرکاش پڑوسیوں کے گھروں کا چکر لگا رہے ہیں اور اپنی انتخابی مہم کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں۔وہ کہتے ہیں: 'لوگوں کو ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں صرف پارٹی پر مبنی سیاست ہی واحد راستہ نہیں ہے۔ میں ملک کو خود جیسا آزاد امیدوار دینا چاہتا ہوں۔ اور تمام طرح کی بدعنوانیوں کو صاف کرنے کا یہی واحد راستہ ہے۔'مسٹر کونڈیکر اس انتخابی حلقے سے انتخابات لڑ رہے ہیں جہاں 23 اپریل کو ووٹ ڈالے جائيں گے۔ انڈیا میں رواں پارلیمانی انتخابات کی ابتدا 11 اپریل کو ہوئی اور اس میں سات مرحلوں میں ووٹ ڈالے جائيں گے جبکہ نتائج کا اعلان 23 مئی کو ہوگا۔

مسٹر کونڈیکر آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں۔ انھیں امید ہے کہ ایک دن وہ وزیر اعظم بنیں گے۔وہ کہتے ہیں اگر ایسا ہوا تو وہ ہر ہندوستانی شہری کو 17 ہزار روپے یعنی 245 امریکی ڈالر دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت دوسرے اخراجات کم کر دیتی ہے تو ایسا کرنا نہایت آسان ہوگا۔سنہ 1980 کی دہائی کے اواخر تک وہ ریاست مہاراشٹر کے بجلی بورڈ میں کام کرتے تھے۔ اب وہ اکثر پونے کی گلیوں میں ایک سٹیل کا ٹھیلہ چلاتے نظر آتے جس پر ایک سائن بورڈ لگا ہوتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے اس بورڈ پر امداد کی اپیل ہوتی تھی جس میں بہت زیادہ مطالبہ نہیں تھا ایک ڈالر سے بھی کم کی امداد مطلوب ہوتی تھی۔اب اس سائن بورڈ پر 'بوٹ کو کامیاب کریں' لکھا ہوتا ہے۔ بوٹ یعنی جوتا ان کا انتخابی نشان ہے جو الیکشن کمیشن نے انھیں مختص کیا ہے۔شہر کی گلیوں میں ایک تماشہ رہتا ہے۔ بہت سے لوگ انھیں نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن بہت سے لوگ ان کے ساتھ سیلفی کی فرمائش کرتے ہیں۔ مسٹر کونڈیکر خوشی کے ساتھ اس امید پر ان کے ساتھ یہ احسان کرتے ہیں کہ انھیں سوشل میڈیا پر مفت میں شہرت کے فوائد حاصل ہوں گے۔

دوسرے کھلے طور پر اس منظر کا مذاق اڑاتے ہیں کہ لمبے سفید بال اور داڑھی والا ایک نحیف و نزار شخص سوتی کپڑے میں اپریل کی دھوپ میں ووٹ کے لیے تگ و دو کر رہا ہے۔اور پھر انھیں پتہ چلتا ہے کہ مسٹر کونڈیکر میونسپل سطح سے لے کر پارلیمارنی سطح کے مختلف انتخابات میں 24 بار سے زیادہ بار حصہ لے چکے ہیں اور ہر بار انھیں شکست کا سامنا رہا ہے۔وہ رواں انتخابات میں سینکڑوں آزاد امیدار میں سے ایک ہیں جو قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ سنہ 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں تین ہزار آزاد امیدواروں میں سے صرف تین کو کامیابی ملی تھی۔ہر چند کہ آزاد امیدواروں کے کامیاب ہونے کی مثالیں ملتی ہیں جیسا کہ سنہ 1957 کے انتخابات میں نظر آیا جہاں 42 آزاد امیداوار کامیاب ہوئے تھے لیکن اب کم ہی ایسا ہوتا ہے۔ سنہ 1952 کے پہلے انتخابات سے لے کر رواں انتخابات سے قبل تک 44962 آزاد امیدواروں نے قسمت آزمائی کی ہے جس میں سے صرف 222 ہی کامیاب ہو سکے ہیں۔یہ بھی پڑھیےانڈیا انتخابات: کیا مودی کو پریشان ہونا چاہیے؟'نریندر مودی کا آخری داؤ'انڈین انتخابات کے آغاز کی تصویری جھلکیاں آزاد امیدوار کم ہی کامیاب ہوتے ہیں کیونکہ پارٹیوں کے پاس زیادہ پیسے اور وسائل ہوتے ہیں اور انڈیا میں پارٹیوں کی کمی نہیں۔ یہاں 2293 تو رجسٹرڈ پارٹیاں ہیں جن میں سے سات قومی سطح کی جبکہ 59 علاقائی سطح کی پارٹیاں ہیں۔حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور حزب اختلاف کانگریس دو بڑی قومی پارٹیاں ہیں تاہم بہت سی ریاستوں میں وہ علاقائی پارٹیوں سے پیچھے ہیں جن کے بہت مقبول عام رہنما ہیں۔لیکن مسٹر کونڈیکر کا کہنا ہے کہ انھیں کامیابی کی انوکھی حکمت عملی مل گئی ہے۔انتخابی ضابطے کے مطابق قومی پارٹی کے امیدوار پہلے آتے ہیں اور پھر ریاستی سطح کی پارٹیوں کے امیدوار اور آخر میں آزاد امیدوار ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'لوگوں سے میری یہ اپیل ہوگی کہ آخری امیدوار کو ووٹ دیں جو 'ان میں سے کوئی نہیں' والے آپشن سے اوپر ہے۔ تمام تر امکانات کے مطابق وہ آزاد امیدوار ہوگا۔'

منگل کو ڈالے جانے والے ووٹ کے لیے انھوں نے اپنا سرنام زیڈ سے زینائيشو کر لیا ہے تاکہ ان کا نام امیدواروں کی فہرست میں آخر میں آئے۔تمام تر دشواریوں کے باجود بہت سی وجوہات کے سبب آزاد امیدوار میدان میں ہوتے ہیں۔ بعض کے لیے یہ خودنمائی کی بات ہوتی ہے جبکہ بہت سوں کو سیاسی پارٹیاں ووٹ کی تقسیم کے لیے میدان میں اتارتی ہیں۔اور کے پدماراجن جیسے بعض دوسرے شعبدہ بازی کے لیے انتخابات لڑتے ہیں۔ انھوں نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ پانے کے لیے اب تک 170 انتخابات میں شرکت کی ہے اور سب میں انھیں شکست کا سامنا رہا ہے۔مسٹر پدما راجن رواں انتخابات میں جنوبی ہند کے انتخابی حلقے وایاناڈ سے راہل گاندھی کے خلاف انتخابی میدان میں ہیں۔ وہاں بھی منگل کو ووٹ ڈالے جائيں گے۔ انھوں نے حال ہی کہا کہ 'اگر میں جیت گیا تو مجھے دل کا دورہ پڑ جائے گا۔'اس قسم کے امیدواروں نے انڈیا کے لا کمیشن کو یہ تجویز دینے پر مجبور کیا کہ قومی یا ریاستی سطح کے انتخابات میں ان کی شمولیت پر پابندی لگا دی جائے۔بہر حال یہ پابندی نہیں لگائی جا سکی۔ ہر چند کہ انتخابات میں زیادہ سے زیادہ آزاد امیدوار حصہ لے رہے ہیں لیکن ان کی جیت کے تناسب میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔انتخابات پر نگرانی رکھنے والی تنظیم ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک رفارمز کے بانی جے دیپ چھوکر کا کہنا ہے کہ 'سیاسی پارٹیوں نے انڈیا کے سیاسی نظام پر شکنجہ کس رکھا ہے۔'

مسٹر چوکر نے کہا کہ اس نظام میں ہی بہت سی ناقابل حل مشکلات ہیں جو کہ آزاد امیدوار کو درپیش ہیں۔ مثال کے طور پر ایک امیدوار کتنا خرچ کرے اس کی حد بندی ہے لیکن ان کی حمایت کرنے والی سیاسی پارٹی پر یہ حد بندی نہیں ہے۔ آزاد امیدوار کو ٹیکس میں چھوٹ حاصل نہیں ہے جبکہ سیاسی پارٹیوں کو چھوٹ حاصل ہے۔انھوں نے کہا کہ 'ایسے حقیقی امیدوار بھی ہیں جو تبدیلی لانا چاہتے ہیں لیکن فنڈنگ پر حد بندی، اثرورسوخ کی کمی اور بڑی پارٹیوں کے حق میں رائے عامہ ان کے چانسز کو کم کر دیتی ہیں۔'مسٹر کونڈیکر کو معلوم ہے کہ ان کی جیت ناممکن ہے۔ گذشتہ برسوں میں انتخابی مہم کے اخراجات کے لیے انھوں نے اپنی آبائی زمین اور مکان فروخت کر دیا ہے۔ انھوں نے امیدواری کے لیے بھرے جانے والے فارم میں جو آمدن بھری ہے اس کے مطابق ان کی آمدن صرف 1921 روپے (28 ڈالر) کی ماہانہ پنشن ہے۔ہر چند کہ انھیں اعتراف ہے کہ ان کی لڑائی صرف علامتی ہے لیکن انھوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ 'یہ مقابلہ ان (سیاسی پارٹیوں) کی لوہے کی تلوار اور میری کاغذ کی تلوار کے درمیان ہے لیکن مجھے کوشش کرتے رہنا ہے۔ میری عمر کے لحاظ سے عین ممکن ہے کہ یہ میرا آخری انتخاب ہو لیکن ہو سکتا ہے کہ اس بار چیزیں مختلف ہوں۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}