2017: کسینی زُحل پر کیوں مر مِٹا؟

2017: کسینی زُحل پر کیوں مر مِٹا؟

December 29, 2017 - 21:15
Posted in:

2017 کو بھی سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں بعض اہم دریافتوں اور واقعات کی نسبت سے یاد رکھا جائے گا۔برطانیہ کی کارڈِف یونیورسٹی میں قائم برین اِمیجنگ سینٹر میں محققین نے پہلی بار انسانی دماغ کا نہایت تفصیلی سکین یا کمپیوٹر تصویر حاصل کی ہے۔بقول محقق پروفیسر ڈیرِک: 'یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک عام دوربین کی جگہ آپ کو کائنات کی گہرائیوں میں جھانکنے کے قابل بنانے والی ہبل ٹیلی سکوپ مل جائے۔ یعنی اب ہم دماغ کے اندر بہت دور تک دیکھ سکتے ہیں۔ اب ہم دماغ کی ساخت اور افعال کے درمیان اب تک نامعلوم تعلق کا پتا چلا سکیں گے۔'سائنسدانوں کو توقع ہے کہ یہ پیشرفت مستقبل میں کئی دماغی اور اعصابی امراض کے علاج میں مدد گار ہوگی۔صحت ہی کے شعبے میں دوسری قابلِ ذکر پیشرفت 'جین ایڈیٹنگ' ہے۔آڈیو سنحمل کے بالکل ابتدا میں بچہ جس لوتھڑے کی شکل میں ہوتا ہے اسے ایمبریو یا جنین کہتے ہیں۔ جنین کے ہر خلیے کے مرکز میں جینوم کی صورت میں قدرت نے بچے کا ناک نقشہ پہلے سے رکھا ہوا ہے۔ اگر یہاں موجود جینز میں کوئی موروثی نَقص ہو تو جین ایڈیٹنگ اُسے دور کر سکتی ہے۔لندن کے فرانسِس کرِک انسٹی ٹیوٹ کی ڈاکٹر کیتھی نیاکِن کا کہنا ہے کہ اس کی مدد سے حمل کے ابتدائی سات دنوں میں ایسی معلومات مل سکتی ہیں جس سے موروثی مرض کی جڑ کا پتہ چل سکے گا۔سائنسدانوں نے اس کا عملی مظاہرہ ایک ایمبریو میں دل کی بیماری کا سبب بننے والے ناقص جین کی جگہ صحت مند جین کا پیوند لگا کر کیا۔

کسینی رخصت ہوا مگر اس کی بھیجی ہوئی معلومات کے تجزیے کا طویل سفر ابھی جاری ہے۔دو ہزار سترہ میں سورج کے قریب ترین اور سب سے چھوٹا سیارہ، عُطارِد بھی ماہرینِ فلکیات کی توجہ کا مرکز رہا۔ انھوں نے بےپی کولمبو نامی اُس خلائی جہاز پر کام جاری رکھا جو اگلے سال عُطارِد کی جانب اپنے سفر کا آغاز کرے گا اور سات برس بعد سنہ دو ہزار پچیس میں اس سیارے کے مدار میں پہنچ کر ہمیں سورج کے سب سے قریب سیارے کی نامعلوم فِضاؤں کی خبر دے گا۔محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی!

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}