’گرفتاریاں انتخابات میں خلل ڈالنے کے مترادف ہیں‘

’گرفتاریاں انتخابات میں خلل ڈالنے کے مترادف ہیں‘

June 27, 2019 - 23:10
Posted in:

خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے والے دو آزاد امیدواروں کی جنوبی وزیرستان سے گرفتاری پرالیکشن کمیشن آف پاکستان نے نوٹس لے لیا ہے۔گرفتار ہونے والے دونوں آزاد امیدوار پشتون تحفظ موومنٹ کے حمایت یافتہ بتائے گئے ہیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق دونوں امیدواروں کو ڈپٹی کمشنر کے حکم پر مینٹیننس آف پبلک آرڈر یا ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔جنوبی وزیرستان میں صوبائی اسمبلی کے حلقے پی کے 113 اور پی کے 114 سے انتخابات میں حصہ لینے والے آزاد امیدوار محمد عارف اور محمد اقبال کو بالترتیب 19 اور 24 جون کو نقصِ امن کے خدشے کے پیشِ نظر گرفتار کیا گیا تھا۔انھیں ڈیرہ اسماعیل خان اور ہری پور کی جیلوں میں بھیج دیا گیا ہے۔یہ بھی پڑھیےمحسن داوڑ بھی شمالی وزیرستان سے گرفتار پی ٹی ایم کا موقف پاکستانی میڈیا سے غائب کیوں؟’احتساب کے لیے تیار ہیں لیکن ثبوت تو پیش کریں‘ آزاد امیدوار محمد عارف پی ٹی ایم کے مرکزی رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی علی وزیر کے رشتہ دار بھی ہیں۔محمد عارف کو گذشتہ برس وانا میں تشدد کے واقعات کے بعد بھی گرفتار کیا گیا تھا جبکہ محمد اقبال پی ٹی ایم کے مقامی رہنما ہیں اور انھوں نے سنہ 2018 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشست پر بھرپور مقابلہ کیا تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق موجودہ صوبائی انتخابات کے لیے محمد عارف پی ٹی ایم کے متبادل امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے ہیں۔'گرفتاریاں پُرامن انتخابی عمل میں خلل ڈالنے کے مترادف'الیکشن کمیشن کے ترجمان محمد الطاف نے بی بی سی کو بتایا کہ خیبر پختونخوا کے سیکرٹری داخلہ و قبائلی امور کو کل (جون 28) طلب کیا گیا ہے تاکہ وہ کمیشن کو حکومت کا موقف بیان کر سکیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق ’امیدواروں کی گرفتاریاں پُرامن اور آزاد انتخابی عمل میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے۔‘

شدت پسندوں کے حملوں کا خطرہجنوبی وزیرستان میں انتظامیہ کی جانب سے تمام امیدواروں کو الرٹ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سیاسی رہنماؤں اور سیاسی جلسوں کے دوران شدت پسندوں کی جانب سے حملوں کا خطرہ ہے۔ ان تمام امیدواروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی کو یقینی بنائیں اور اپنی نقل و حرکت کے بارے میں مقامی انتظامیہ کو ضرور مطلع کریں تاکہ اس حوالے سے بہتر انتظامات کیے جا سکیں۔شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امیدواروں نے یہ الزام بھی عائد کیے ہیں کہ انھیں انتخابی مہم کے دوران مشکلات کا سامنا ہے اور وہ آزادانہ طریقے سے اپنی مہم جاری نہیں رکھ سکتے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}