’کیا کریں، یہ کرکٹ جو نہیں ہے‘

’کیا کریں، یہ کرکٹ جو نہیں ہے‘

February 20, 2019 - 17:40
Posted in:

سنہ 1952 سے سنہ 2017 تک پاکستان کرکٹ نے عروج و زوال کے کئی ادوار دیکھے ہیں۔ کئی کپتان آئے اور گئے۔ ہر ایک نے اپنا کرکٹنگ کلچر متعارف کروایا۔کچھ ایسے تھے کہ جب ڈریسنگ روم سے رخصت ہوئے تو اپنا کلچر بھی ساتھ ہی سمیٹ لے گئے اور کچھ ایسے بھی کپتان ہوئے کہ جن کا وضع کردہ کلچر ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کسی نہ کسی ’حیلے بہانے‘ سے ڈریسنگ روم اور قومی نفسیات میں یکساں طور پہ موجود رہا۔مثلاً جب تک شاہد آفریدی ٹیم میں رہے، نوّے کی دہائی کا کلچر بھی کسی نہ کسی شکل میں ڈریسنگ روم میں موجود رہا۔یہ بھی پڑھیےکراچی کنگز پر لاہور قلندرز کی فتح کے بعد کیا ہوا؟سرفراز منہ کیوں چھپا رہے تھے؟’مکی آرتھر صاحب! یہ پاکستان کا ڈریسنگ روم ہے‘عموماً ہر ٹیم کی کرکٹنگ پرفارمنس کا تعلق بلاواسطہ طور پہ اس کے ٹیم کلچر سے ہوتا ہے۔ مگر پاکستانی کرکٹ پہ کئی ایسے ادوار بھی گزرے ہیں جہاں یہ طے کرنا بھی دشوار تھا کہ ٹیم پہ جو کیفیت طاری ہے، کیوں ہے اور اسے کیا نام دیا جائے۔دو سال پہلے جب پاکستان چیمپئینز ٹرافی جیتا تو دنیائے کرکٹ کی اکثریت کے دیدے کھلے کے کھلے رہ گئے کہ یا للعجب، ایسی چنگاری بھی اپنی خاکستر میں تھی۔ چونکہ پاکستان وہ آخری ٹیم تھی جو اس ٹائٹل کے لیے فیورٹ ہو سکتی تھی۔اور اس جیت کی حیرت ایسی تھی کہ کچھ عرصہ تو خود جیتنے والوں کو بھی یقین نہ آ پایا کہ وہ کیا کر بیٹھے ہیں۔ اس کی دلیل ان خبروں سے بھی ملتی ہے جو جیت کے کچھ عرصہ بعد پاکستان کے ڈریسنگ روم سے آنے لگیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس شکایات دونوں ڈریسنگ رومز کی جانب سے پہنچ چکی ہیں۔ لیکن ایک شکایت کرکٹ شائقین بھی درج کروانا چاہتے ہیں۔حضور! یہ کھیل وہ کھیل ہے جس میں شفافیت اور ایمانداری کے معیارات اتنے بلند تھے کہ 18ویں صدی کے انگلستان میں جب کسی معاشرتی ناہمواری یا نا انصافی پہ تبصرہ کرنا ہوتا تو عموماً یہی کہا جاتا تھا، ’کیا کریں، یہ کرکٹ جو نہیں ہے۔`حضور! پی ایس ایل کے پاکستان کرکٹ پہ بہت احسانات ہیں۔ اس نے بہت سا خام ٹیلنٹ گلی محلوں سے اٹھا کر پاکستانی ڈریسنگ روم تک پہنچایا ہے۔ مگر خام ٹیلنٹ کے ناپختہ اذہان کو پختگی فراہم کرنا بھی آپ کی ہی ذمہ داری ہے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ پی ایس ایل کے بارے میں بھی کسی کو کہنا پڑ جائے، ’کیا کریں، یہ کرکٹ جو نہیں ہے۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}