’کفن بول پڑا، نشہ بھگاؤ، بیٹے بچاؤ‘

’کفن بول پڑا، نشہ بھگاؤ، بیٹے بچاؤ‘

August 03, 2018 - 09:30
Posted in:

’کفن بول پڑا‘ کسی بھی کتاب یا مضمون کا عنوان نہیں بلکہ اس شخص کا درد ہے جو منشیات کی لعنت کی وجہ سے اپنے 27 سالہ بیٹے سے محروم ہو گیا ہے۔انڈین پنجاب کے ضلع ترن تارن کی تحصیل پتی کے 50 سالہ لائن مین مختیار سنگھ کا بڑا بیٹا منجیت مارچ 2016 میں زیادہ مقدار میں منشیات لینے کی وجہ سے ہلاک ہو گیا تھا۔جواں سال بیٹے کی موت کے بعد مختیار نے منشیات کے عادی دیگر افراد کے بچاؤ اور لوگوں کو منشیات کے اثرات سے آگاہ کرنے کو اپنا نصب العین بنا لیا ہے۔یہ بھی پڑھیے’پنجاب میں چھٹا دریا نشے کا ہے‘منشیات میں ڈوبے سرحدی دیہات ’ذہنی اور دوستوں کا دباؤ منشیات کے استعمال کی اہم وجہ‘انھوں نے اس مہم کے لیے ایک انوکھا انداز اپنایا ہے اور وہ ایک کفن اوڑھے علاقے میں موجود منشیات کے عادی افراد کے پاس جاتے ہیں اور انھیں بتاتے ہیں کہ اگر انھوں نے یہ عادت ترک نہ کی تو جلد ہی یہ کفن ان کے جسم پر ہو سکتا ہے۔مختیار جس علاقے کے رہائشی ہیں وہ نہ صرف پنجاب میں ماضی میں شدت پسندی کا مرکز رہا ہے بلکہ اسے منشیات کے عادی افراد کی جنت بھی کہا جاتا ہے۔

ستنام کور، جو مختیار سنگھ کی مہم سے واقف ہیں، کہتے ہیں کہ وہ منشیات کے خلاف لوگوں کو بیدار کر کے اچھا کام کر رہے ہیں.مختیار کا کہنا ہے کہ منشیات کی وجہ سے مرنے والے افراد کا صحیح ڈیٹا بھی موجود نہیں اور ڈیتھ سرٹیفیکیٹ پر بھی جو وجوہات پرنٹ کی گئی ہیں ان میں بھی منشیات کے استعمال کا ذکر نہیں۔ مختیار کے مطابق وہ اس سلسلے میں بھی ایک مہم چلا رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’ہم صرف لوگوں میں منشیات کی لت کے بارے میں آگاہی پھیلانا چاہتے ہیں کیونکہ منشیات ہی بہت سے جرائم اور سماجی برائیوں کی جڑ ہیں۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}