’پچ دیکھ کر یہ طے کیا تھا کہ اطمینان سے کھیلنا ہے‘

’پچ دیکھ کر یہ طے کیا تھا کہ اطمینان سے کھیلنا ہے‘

June 27, 2019 - 01:28
Posted in:

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ گذشتہ چند برسوں سے بابر اعظم کے گرد گھوم رہی ہے اور وہ اس ذمہ داری کو اس خوبی سے نبھا رہے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی بیٹنگ میں پختگی آتی جا رہی ہے جس کی پاکستانی ٹیم کو ضرورت بھی ہے۔بابر اعظم اگرچہ اس وقت تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں لیکن ان کا ٹیلنٹ خاص طور پر محدود اوورز کی کرکٹ میں لامحدود دکھائی دے رہا ہے۔ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف سنچری اس بات کا بھرپور ثبوت ہے۔یہ بھی پڑھیےاظہر محمود: ’ہو سکتا ہے آج نیوزی لینڈ کا برا دن ہو‘’شائقین محبت تو کرتے ہیں لیکن کرکٹ کو نہیں سمجھتے‘کرکٹ ورلڈ کپ پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہاس اننگز کی پاکستانی ٹیم کے ساتھ ساتھ خود بابر اعظم کو بھی ضرورت تھی کیونکہ اس سے قبل وہ اپنی دو نصف سنچریوں کو تین ہندسوں میں تبدیل نہیں کر سکے تھے اور وہ بڑی اننگز کھیلنے کے لیے پرتول رہے تھے۔اس بارے میں بابر اعظم کہتے ہیں کہ یہ بات ان کے ذہن میں بھی تھی کہ وہ میچ کو فنش نہیں کر پا رہے تھے لیکن انھوں نے اپنے گیم پلان کو تبدیل نہیں کیا اور اسی انداز سے کھیلے جیسے وہ پہلے کھیلتے آئے ہیں۔ اس اننگز میں دو اچھی پارٹنرشپس کی وجہ سے پاکستانی ٹیم منزل تک پہنچی۔بابر اعظم اپنی اس اننگز کو اپنے ون ڈے کریئر کی بہترین اننگز قرار دیتے ہیں۔ اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ جب پاکستانی ٹیم نے بیٹنگ شروع کی تو وکٹ جو پہلے سے سلو تھی وہ ٹرن ہونا شروع ہو گئی تھی۔ اور اس وجہ سے انھوں نے محمد حفیظ کےساتھ یہ طے کیا تھا کہ کوئی چانس نہیں دینا اور اطمینان سے کھیلنا ہے۔بابر اعظم نے اپنی اس اننگز کے دوران ون ڈے انٹرنیشنل میں تین ہزار رنز بھی مکمل کیے ہیں۔انھوں نے ون ڈے انٹرنیشنل میں دس سنچریاں بنائی ہیں جن میں سے آٹھ میں پاکستانی ٹیم جیتی ہے۔اس بارے میں وہ کہتے ہیں کہ جب آپ کی اننگز ٹیم کے کام آئے اور آپ میچ جتوا کر آتے ہیں تو بہت زیادہ خوشی ہوتی ہے اور اپنے اندر ایک نیا حوصلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

بابر اعظم پر ناقدین یہ اعتراض کرتے رہے ہیں کہ وہ اپنے لیے کھیلتے ہیں جس کی بابراعظم سخت الفاظ میں نفی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اپنے انفرادی ریکارڈ یا سنگ میل کے لیے کھیلیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ ٹیم کے لیے سوچتے ہیں اور کھیلتے ہیں۔بابر اعظم نے اپنے مختصر سے کریئر میں متعدد اہم سنگ میل عبور کیے ہیں۔لوگ انہیں انڈین کرکٹر وراٹ کوہلی سے بھی ملاتے ہیں لیکن خود بابر اعظم کو اس موازنے کی پرواہ نہیں ہے البتہ وہ اپنی خود اعتمادی کے بل پر یہ ضرور سوچ رہے ہیں کہ دنیا کے بہترین بیٹسمینوں میں مقام حاصل کریں۔پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر بابر اعظم کی صلاحیتوں کے زبردست معترف رہے ہیں اور وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ بابراعظم دنیا کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}