’نیا پاکستان بننے ہی والا تھا کہ آواز چلی گئی‘

’نیا پاکستان بننے ہی والا تھا کہ آواز چلی گئی‘

June 12, 2019 - 13:41
Posted in:

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے منگل کی شب قوم سے خطاب میں ملکی قرضوں میں اضافے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقاتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کا یہ خطاب پاکستان کے قومی نشریاتی ادارے پر نشر کیا گیا۔ اس خطاب کو نہ صرف تین بار وقت تبدیلی کے بعد رات گئے نشر کیا گیا بلکہ اس میں کئی تکنیکی مسائل بھی رہے۔ وزیراعظم کی تقریر کے دوران دو مرتبہ آڈیو غائب ہوئی اور سکرین بھی بلیک آؤٹ ہو گئی جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی۔کسی نے قومی نشریاتی ادارے کی کارکردگی پر سوال اٹھائے تو کسی نے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر کو سنسر کیا گیا ہے۔ جبکہ بڑی تعداد میں صحافیوں اور اینکرز نے وزیراعظم کے میڈیا مشیروں اور معاونین کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے۔صحافی اور اینکر سلیم صافی نے ٹویٹ کی ’تین مرتبہ وقت بدلنے کے بعد قوم سے مبینہ وزیراعظم کے خطاب میں ریکارڈنگ اور ایڈیٹنگ کے درجنوں بلنڈرز۔ جو شخص ایک درجن میڈیا ایڈوائزر رکھ کر قوم تک اپنا خطاب صحیح طریقے سے نہیں پہنچا سکتا، وہ ملک کیسے چلارہے ہوں گے؟خود ہی اندازہ لگا لیجیے۔ ویسے تبدیلی پسند آئی؟‘

@SaleemKhanSafi کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

@SaleemKhanSafi کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

عادل شاہ زیب نے بھی یہی بات کی کہ ’تین گھنٹے انتظار کے بعد پھر آڈیو غائب، لو کوالٹی فلمنگ اینڈ ایڈیٹنگ۔ اتنے ترجمانوں میں سے کسی میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ خطاب کو بھی ٹھیک سے مینیج کر پاتے؟‘

@adilshahzeb کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

@adilshahzeb کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

سابق وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے ٹویٹ کی کہ ’عمران جس پی ٹی وی پر حملہ کیا تھا آج اس نے بھی بدلہ لے لیا۔‘صحافی اور تجزیہ کار مبشر زیدی نے ٹوئٹر پر قومی نشریاتی ادارے کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: ’یار خدا کا خوف کرو پی ٹی وی والو۔ کیا ایک غلطی کافی نہیں تھی۔ وہ وزیراعظم ہیں۔‘یہ بھی پڑھیے'سر صرف پی ٹی وی ہوم اور پی ٹی وی سپورٹس کی اجازت ہے'کیا پی ٹی وی واقعی غیر سیاسی ہو گیا ہے؟ٹی وی چینل اور ریٹائرڈ فوجی

@Xadeejournalist کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

@Xadeejournalist کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

اینکر منصور علی خان نے ٹویٹ کی کہ ’نیا پاکستان بننے ہی والا تھا کہ آواز چلی گئی۔‘

@_Mansoor_Ali کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

@_Mansoor_Ali کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

حماد آر خانزادہ نامی صارف نے لکھا ’ مجھے یقین ہے کہ وزیر اعظم کی تقریر کو پی ٹی وی کی کسی ٹیم نے ریکارڈ نہیں کیا۔ میں نے پی ٹی وی کے ساتھ کام کیا ہے اور خاص طور پر پیغام کی ریکارڈنگ میں ان کی فریمنگ، ریکارڈنگ اور ایڈٹنگ میں بہت احتیاط برتی جاتی ہے۔ وہ بہت پروفیشنل ہیں۔‘

@HammadAkh کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

@HammadAkh کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

کاشف کنگ نامی صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا ’ پی ٹی وی کو اس کا کام بتانے کے لیے پہلے ہائی پاور کمیشن بنایا جائے۔‘

@quascheph کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

@quascheph کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

ایک صارف نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لکھا ’پی ٹی وی سونامی کا شکار ہوگیا۔‘

حسن کمال نے بھی کچھ ایسا ہی لکھا ’وزیراعظم کی تقریر کو سنسر کیا گیا ہے۔‘

@hassankamal67 کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

@hassankamal67 کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

بی بی سی نے جب اس معاملے پر وزیر اعظم عمران خان کے میڈیا ایڈوائزر اور پی ٹی وی کے سابق ایم ڈی یوسف بیگ مرزا سے رابطہ کیا تو انھوں نے یہ کہتے ہوئے بات کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کی ذمہ داری تھی۔تاہم وزرات اطلاعات کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ وزیر اعظم کی تقریر ایک نجی کمپنی سے ریکارڈ کروائی گئی تھی۔ جس کے پاس ہائی ڈیفنینیشن (ایچ ڈی) کیمرے تھے تاہم اس کے ساتھ پی ٹی وی کے عملے کو بھی وہاں طلب کیا گیا تھا۔اہلکار کے مطابق وزیر اعظم کی تقریر کی ریکارڈنگ کرنے کے بعد اس کی کاٹ چھانٹ کر کے کارڈ پی ٹی وی کے عملے کو دے دیا گیا۔ وزیر اعظم کی تقریر چونکہ پہلے ریکارڈ ہو چکی تھی اس لیے تنکیکی وجوہات کی بنا پر عمران خان کی تقریر کا وقت تبدیل کیا جاتا رہا۔وزارت اطلاعات کے اہلکار کے مطابق پی ٹی وی کے پاس ایچ ڈی کیمرے کی سہولت نہیں ہے اور وزیر اعظم کے خطاب کے دوران پی ٹی وی پر ان کی آواز بند ہوتی رہی۔دوسری جانب وزارت اطلاعات کے حکام نے پی ٹی وی کے اس عملے کو طلب کیا ہے جو وزیر اعظم کی تقریر کے دوران ڈیوٹی پر تھا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}