’نوخیزی کی عمر اب دس سے 24 سال تک‘

’نوخیزی کی عمر اب دس سے 24 سال تک‘

January 19, 2018 - 16:55
Posted in:

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نوخیزی کی عمر اب دس سے 24 برس تک رہتی ہے، حالانکہ ایک زمانے میں خیال تھا کہ یہ 19 برس پر ختم ہو جاتی ہے۔اب نوجوان زیادہ عرصے تک زیرِ تعلیم رہتے ہیں، ان کی شادیاں دیر سے ہوتی ہیں اور وہ بچے بھی تاخیر سے پیدا کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بالغ عمر کا عام تصور بھی پیچھے چلا گیا ہے۔ برطانوی طبی جریدے 'لانسٹ چائلڈ اینڈ اڈولیسنٹ ہیلتھ' میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں تحقیق کاروں نے کہا ہے کہ نوخیزی کی نئی تعریف متعین کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ قانون اس سے ہم آہنگ رہے۔ لیکن ایک اور ماہر کا کہنا ہے کہ اس طرح 'نوجوانوں کو مزید بچگانہ تصور کیے جانے کا خطرہ ہے۔'بلوغت کب شروع ہوتی ہے؟سائنسی لحاظ سے بلوغت کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب دماغ کے ایک حصے ہائپوتھیلمس سے ایک ہارمون خارج ہوتا ہے جو بلوغت سے متعلق غدودوں کو فعال کر دیتا ہے۔ ماضی میں ایسا 14 برس کی عمر میں ہوتا تھا لیکن بہتر غذا اور صحت کی بہتر سہولیات کی وجہ سے اب ایسا دس برس ہی میں ہونے لگا ہے۔ اس کے نتیجے میں برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملکوں میں لڑکیوں کے ایام آنے کی عمر میں گذشتہ ڈیڑھ سو برسوں میں چار سال کی کمی آئی ہے۔ اب نصف لڑکیوں کو 12 یا 13 برس کی عمر میں ایام آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جسم کب نشو و نما پانا بند کر دیتا ہےبلوغت کی عمر میں تاخیر کیوں کی جائے، اس کی حیاتیاتی وجوہات بھی ہیں۔ مثال کے طور پر دماغ 20 برس کے بعد بھی نشو و نما پاتا رہتا ہے اور زیادہ تیزی اور موثر پن سے کام کرنے لگتا ہے۔ بہت سے لوگوں کی عقل داڑھ بھی 25 برس سے پہلے نہیں آتی۔ بتدریج تاخیراب جوڑے زیادہ تاخیر سے شادیاں کرتے ہیں اور زیادہ تاخیر سے بچے پیدا کرتے ہیں۔ برطانیہ کے ادارہ برائے قومی شماریات کے مطابق ملک بھر میں 2013 میں مردوں کے لیے شادی کی عمر 32.5 سال اور عورتوں کے لیے 30.6 سال تھی۔ یہ 1973 کے مقابلے پر آٹھ برس کا اضافہ ہے۔ مقالے کی مرکزی مصنف پروفیسر سوزن سائر نے کہا کہ 'اگرچہ بلوغت کے بہت سے قانونی استحقاق 18 برس سے شروع ہو جاتے ہیں، لیکن عام طور پر بالغ عمر کی ذمہ داریاں دیر سے شروع ہوتی ہیں۔'سماجی پالیسیان کا کہنا ہے کہ یہ سماجی تبدیلی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ پالیسی بدلی جائے۔ مثال کے طور پر نوجوانوں کی سپورٹ سروس 25 برس تک بڑھا دی جائے۔ 'عمر کی حدبندی ویسے بھی من مانی ہوا کرتی ہے، لیکن ہماری نوخیزی کی موجودہ تعریف بہت محدود ہے۔ 24-10 کی عمر موجودہ دور میں نوجوانوں کی نشو و نما کو زیادہ بہتر طور پر ظاہر کرتی ہے۔'تاہم برطانیہ کی کینٹ یونیورسٹی کی ڈاکٹر جان میکوارش اس سے اتفاق نہیں کرتیں۔ وہ کہتی ہیں: 'بڑے بچے اور نوجوان ان سے وابستہ معاشرے کی توقعات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں نہ کہ اندرونی حیاتیاتی نشو و نما سے۔'معاشرے کو اگلی نسل سے بلند ترین توقعات ہونی چاہییں۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}