’ناانصافی کی بنیاد پر سولی چڑھانے سے نبی خوش ہوں گے؟‘

’ناانصافی کی بنیاد پر سولی چڑھانے سے نبی خوش ہوں گے؟‘

November 01, 2018 - 20:18
Posted in:

پاکستان کے ہزاروں مرد اور بچے دو روز سے سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایک غریب، نحیف، مسیحی خاتون کو سولی پر چڑھایا جائے جو تقریباً آٹھ برس سے جیل میں ہیں۔ بظاہر دیندار نظر آنے والے ان لوگوں کا خیال ہے کہ آسیہ بی بی نامی ان خاتون نے پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی تھی اس لیے ان کا سر تن سے جدا ہونا چاہیے۔ دنیا بھر میں لیکن خاص طور پر پاکستان میں، مسلمان اپنے نبی کی شان کے معاملے میں بجا طور بہت حساس ہیں۔ لیکن عموماً ایسا ہوا ہے کہ کسی نے کوئی گستاخی کی ہو نہ کی ہو، بس اگر کسی نے کسی کے بارے میں کہہ دیا کہ اس نے گستاخی کی ہے تو ہم آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔ بچارا انسان جس پر الزام عائد کیا گیا وہ وضاحتیں دیتے دیتے مر جاتا ہے کہ بھائی میں کیسے اتنی بڑی ہستی کی شان میں گستاخی کر سکتا ہوں؟ لیکن ہم مانتے ہی نہیں اور بضد ہوتے ہیں کہ کہا ہے یا نہیں کہا بس الزام لگ گیا تو سر تو تن سے جدا ہو گا۔یہ بھی پڑھیےآسیہ بی بی کون ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ کیسے ہوا؟آسیہ بی بی: فیصلے سے پہلے اور بعد کمرہ عدالت میں کیا ہواآسیہ بی بی کیس: ’عوام نہ رہنے دے تو باہر نکلنا پڑے گا‘’آج ایک نئی صبح ہے‘

آج کل صرف بند کرانا تو بہت ہی معمولی بات ہو گئی ہے۔۔ اب تو سیدھا سر تن سے جدا کی دھمکی مل سکتی ہے۔ ایک عالم دین کو میں نے یہ کہتے سنا کہ حضور کے زمانے میں اگر انھوں نے گستاخی کے کسی مرتکب کو معاف فرمایا تھا تو یہ ان کا اختیار تھا کہ وہ کسی کو معاف کر دیں لیکن ہم یہ اختیار نہیں رکھتے ہیں۔بجا فرمایا ہم یہ اختیار نہیں رکھتے۔ لیکن عدالت عظمیٰ کے جج صاحبان تو یہ اختیار رکھتے ہیں نہ کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ کون مجرم ہے اور کون غلط مقدمے میں آٹھ برس تک جیل کی سزا کاٹ چکا ہے؟ کسی شخص کو ناانصافی کی بنیاد پر سولی چڑھانے سے ہمارے نبی کیا واقعی ہم سے بہت خوش ہوں گے؟

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}