’مشکل فیصلوں میں کامیابی کے لیے سب ذمہ داری نبھائیں‘

’مشکل فیصلوں میں کامیابی کے لیے سب ذمہ داری نبھائیں‘

June 28, 2019 - 16:02
Posted in:

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ملک کی سکیورٹی اور معیشت کے درمیان ناقابل تردید ربط ہے کیونکہ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی میں خطاب کے دوران جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ معاشی خود مختاری کے بغیر کسی قسم کی خودمختاری ممکن نہیں ہے۔ این ڈی یو میں یہ خطاب انھوں نے معیشت کے موضوع پر منعقدہ سیمینار کے دوران کیا۔ خیال رہے کہ یہ سیمینار ایک ایسے موقع پر منعقد کیا جا رہا ہے جب حکومت آئی ایم ایف سے معاہدے کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہے، ڈالر بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں روپے کی قدر مزید کم ہوئی ہے اور اپوزیشن جماعتیں ایک روز قبل ہی حکومت کے خلاف ایک میز پر اکھٹی ہوئی تھیں۔ اپوزیشن نے وفاقی بجٹ کو پاس نہ کرنے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔ تاہم ملک کے وزیراعظم عمران خان نے جمعرات کو مہنگائی اور قیمتوں میں بے جا اضافے کا نوٹس بھی لیا تھا۔ مزید پڑھیے’یہ قوم پر احسان نہیں، ہم ہر قسم کے حالات میں اکٹھے ہیں‘ اے پی ایس کے بچوں کا خون مجھ پر قرض ہے: قمر جاوید باجوہقومی ترقیاتی کونسل میں فوج کو کیوں شامل کیا گیا؟ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کے حوالے سے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ’ہم مالیاتی بد انتظامیوں کی وجہ سے مشکل معاشی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ ہم مشکل فیصلے لینے سے گھبراتے رہے ہیں۔ افواج نے رضاکارانہ طور پر سالانہ دفاعی بجٹ میں اضافے سے دستبردار ہو کر کردار ادا کیا۔ اور یہ واحد قدم نہیں جو ہم نے معیشت کی بہتری کے لیے اٹھایا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں حکومت نے طویل المدتی فائدے کے لیے مشکل فیصلے کیے ہیں اور ہم اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں ہم سب کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ مشکل اقدامات کامیاب ہوں۔‘اپنے خطاب کے اختتام پر ان کا کہنا تھا کہ ’مشکل وقت میں کوئی بھی اکیلے کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک پوری قوم اکٹھے متحد نہ ہو۔ یہ ایک قوم بننے کا وقت ہے۔‘

آرمی چیف نے کہا کہ ماضی قریب میں ایسی مثالیں موجود ہیں جب دیگر ممالک نے بھی ایسے ہی چیلینجز کا سامنا کیا او وہ ’مشکل فیصلے لے کر‘ کامیابی سے اس سے باہر نکلیں۔ ’ہم بھی انشا اللہ ان چیلینجز کو عبور کر لیں گے۔‘خطے میں امنآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجودہ نے خطے میں امن کے قیام کی بحالی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کیا جو بہتر تجارتی رابطوں کی طرف لے کر جائے گی۔ خطے میں رابطوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آرمی چیف نے ایک بار پھر اپنے وژن کو دہرایا کہ ’کوئی ملک تنہا ترقی نہیں کر سکتا،یہ خطہ ہوتا ہے جو ترقی کرتا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے خطے کی ترقی کے لیے ہمیں اپنے تقریباً تمام ہمسایوں کے ساتھ وسیع رابطہ کاری کی ضرورت ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}