’لگا زندگی آسان ہو گئی مگر وہ صرف دھوکہ تھا‘

’لگا زندگی آسان ہو گئی مگر وہ صرف دھوکہ تھا‘

August 04, 2018 - 07:19
Posted in:

’وہ میری زندگی کا سب سے بدترین دن تھا، میرے شوہر کی نوکری چلی گئی، ہم اپنے بچوں کے سکول کی فیس نہیں دے سکے اور ہر روز مجھے ایک دوا کی ضرورت تھی۔‘یہ کہنا تھا کہ امرتسر کی رہائشی اور دو بچوں کی ماں پوجا (شناخت مخفی رکھنے کے لیے نام تبدیل کر دیا گیا ہے) کا۔ پوجا کے شوہر امرجیت (نام تبدیل کر دیا گیا ہے) پنجاب اور راجستھان کے درمیان ٹرک چلایا کرتے تھے۔ امرجیت کا کہنا تھا کہ روزانہ آٹھ سے 12 گھنٹے ڈرائیونگ کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ اس دوران، ان کے ساتھی ٹرک ڈرائیوروں نے امرجیت کو تھکاوٹ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ایک مقامی نشہ آور جڑی بوٹی 'بھکھی' دی۔ آہستہ آہستہ وہ اس کے عادی ہوگئے اور جلد ہی انھوں نے ڈرائیونگ کے دوران ہوشیار رہنے کے لیے افیون کا استعمال شروع کر دیا۔ اسی بارے میں مزید پڑھیں! ’کفن بول پڑا، نشہ بھگاؤ، بیٹے بچاؤ‘ ’پنجاب میں چھٹا دریا نشے کا ہے‘منشیات میں ڈوبے سرحدی دیہات ’ذہنی اور دوستوں کا دباؤ منشیات کے استعمال کی اہم وجہ‘دو سال کے اندر بھکھی اور افیون کے استعمال سے امرجیت ان کے عادی ہو گئے اور ان کی آمدن کا ایک بڑا حصہ ان منشیات پر خرچ ہونے لگا تاکہ وہ اپنے ہوش و حواس میں رہ سکیں۔

'ہم نے سب کچھ کھو دیا۔ منشیات کے استعمال کی وجہ سے ہم نے زمین فروخت کر دی۔ میرا 13 سالہ بیٹا اور 8 سالہ بیٹی سکول میں تھے لیکن ہم ان کی فیس ادا کرنے سے قاصر تھے۔'پوجا کہتی ہیں کہ 'ہمارے دونوں پالتو کتے، جنھیں ہم بہت پیار کرتے تھے، ایک ایک کر کے مر گئے۔ شاید وہ بھی دھوئیں کے عادی ہو گئے تھے کیونکہ جب ہم ہیروئین لیتےتھے تو وہ کمرے میں رہتے تھے۔'پوجا کا کہنا ہے کہ 'ایک دن جب میرا بھائی گھر آیا تو انھوں نے ہمارا بدلا ہوا رویہ محسوس کیا اور اسے احساس ہوا کہ ہم منشیات کی لت کا شکار ہو چکے ہیں۔انھوں نے ہمیں ڈاکٹر سے مدد طلب کرنے کی ہدایت کی۔' 'اب ہم دونوں کا ڈرگ ڈی اڈکشن سینٹر میں علاج کیا جا رہا ہے اور ہم امید کرتے کرتے زندگی اب پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ ہمیں اپنے بھائی اور دیگر رشتے داروں کی نگرانی میں رکھا جا تا ہے اور وہ ایک لمحے کے لیے بھی اکیلا نہیں چھوڑتے کہ کہیں ہم دوبارہ منشیات کا استعمال شروع نہ کر دیں۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}