’فیک نیوز‘ کی نشاندہی کا سرکاری اکاؤنٹ بھی جعلسازی کا شکار

’فیک نیوز‘ کی نشاندہی کا سرکاری اکاؤنٹ بھی جعلسازی کا شکار

October 02, 2018 - 12:50
Posted in:

پاکستان میں فرضی معلومات کو پھیلانا کوئی نئی چیز نہیں ہے لیکن سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی وجہ سے اب یہ ’جعلی تخلیق‘ لمحوں میں پھیل جاتی ہے اور جھوٹ سچ میں تمیز کرنے میں حکومتی وزرا کو بھی ندامت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈیم فنڈز میں جعلی خبروں کے فریب میں حکمران جماعت کے رہنماؤں نے دھوکہ کھایا تو دو دن پہلے ہی وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری بھی اس وقت دھوکہ کھا گئے جب انھوں نے مقتول ماڈل قندیل بلوچ کے حوالے کی گئی جعلی خبر کو ٹویٹ کر کے پنجاب حکومت کو اس مقدمے میں انصاف کے لیے مدعی بننے کی فریاد کر ڈالی۔ قندیل بلوچ کے والد کی جانب سے قتل کے مقدمے میں اپنے بیٹے کو معاف کرنے کی خبر جھوٹی نکلی تو وفاقی وزیر اطلاعات نے جعلی اور منفی خبروں کی روک تھام کے لیے دوسرے ہی دن پیر کو ٹوئٹر اکاؤنٹ بنا دیا۔اس بارے میں مزید پڑھیےڈیم فنڈ کا چندہ اور جعلی اکاؤنٹس کی چاندیسوشل میڈیا پر لنگڑاتا سچ اور دوڑتا جھوٹجعلی خبروں سے نمٹنے کے لیے فیس بک کا تفصیلی منصوبہ ’فیک نیوز بسٹر‘ نامی ٹویٹر اکاؤنٹ پر اپنی پہلی ٹویٹ میں وزارتِ اطلاعات نے لکھا کہ اس کا مقصد جعلی خبروں کو بےنقاب کرنا اور ان سے نمٹنا ہے جو کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پھیلائی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ عوام سے بھی درخواست کی گئی کہ وہ اس اکاؤنٹ کو فالو کریں لیکن کیا ایک ٹویٹر اکاؤنٹ وبا کی طرح پھیلی جعلی خبروں کی روک تھام میں کارگر ثابت ہو گا؟اس پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس اکاؤنٹ کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ حکومت کے جعلی نوٹیفیکشنز کو پھیلا جا رہا تھا۔’ لیکن یہ مسئلے کا مکمل حل نہیں کیونکہ یہ اس وقت حل ہو گا جب وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے اس پر کارروائی کرے گا لیکن ان کی صلاحیت ابھی محدود ہے اور اسی وجہ سے ہم نے اس وقت فیصلہ کیا کہ کم از کم جعلی خبروں پر اپنی تردید تو دیں۔ اور یہ ایک کوشش ہے کہ اگر کوئی کسی خبر کی تصدیق کے لیے تحقیق کرنا چاہے تو اس کو اصل معلومات کا پتہ جائے۔‘

@FakeNews_Buster کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

@FakeNews_Buster کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے دو دن پہلے جعلی خبر کے فریب میں آنے کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا کہ ’جعلی خبروں کو اتنا مصدقہ بنا کر پوسٹ کیا جاتا ہے کہ ان کی پہچان کرنا کئی دفعہ مشکل ہو جاتا ہے۔‘وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے بتایا کہ اس جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنائے گئے اکاؤنٹ کو پریس انفارمیشن کا عملہ دیکھے گا اور اس کے ساتھ نجی ٹی وی چینلز اور اخبارات کے ساتھ سوشل میڈیا کی نگران کے لیے ایک ادارہ قائم کرنے کے حوالے سے ڈرافٹ ایک ہفتے میں تیار ہو جائے گا جس کے بعد سیاسی جماعتوں اور صحافیوں سے مشاورت کی جائے گی اور امید ہے کہ ایک ماہ کے اندر اس کی کوئی نہ کوئی شکل نکل آئے گی۔‘دلچسپ امر یہ ہے کہ منگل کی صبح وزیراطلاعات سے ہونے والی اس گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد خود اس سرکاری ’فیک نیوز بسٹر‘ اکاؤنٹ پر شائع کردہ پوسٹ میں بتایا گیا کہ اس اکاؤنٹ کا بھی ایک ’فیک‘ اکاؤنٹ بن چکا ہے اور صارفین خیال کریں کہ @FakeNewsBuster_ جعلی ہے جبکہ اصل اکاؤنٹ @FakeNews_Buster ہے۔اس کے بعد جعلی اکاؤنٹ کو تو بلاک کر دیا گیا لیکن اس اکاؤنٹ پر لوگوں کی جانب سے شیئر کی جانے والی خبروں پر کوئی جواب موجود نہیں ہے جن کے مصدقہ یا جعلی ہونے کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ حکومت کے اس اقدام کی تعریف کی جا رہی ہے وہیں موجودہ حکمران جماعت تحریک انصاف کو ہی جعلی خبروں کا بانی قرار دیا جا رہا ہے۔

صحافی رؤف کلاسرا نے ٹویٹ کی کہ ’پی ٹی آئی کے میڈیا سیلز نے گالی گلوچ، جھوٹی خبروں، فیک تصاوی اور فوٹو شاپس کا ٹرینڈ دیا۔‘اس پر عباسی سٹارز نے جواب دیا کہ ’جب بینظیر کی جعلی تصویریں ہیلی کاپٹر دے پھینکی گئی تھی اس وقت پی ٹی آئی کا وجود تک نہ تھا اور جو الزامات جمائما پر ان گھٹیا لوگوں نے لگائے کیا وہ سچ تھے کلاسرہ صاحب تعمیری تنقید کریں ہم ویلکم کریں گے لیکن بےبنیاد الزامات کا جواب بھی دیں گے۔‘سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کے روک تھام کے اقدام پر بحث تو جاری ہے لیکن اب دیکھنا ہے کہ حکومت کی جانب سے جعلی خبروں کے سیلاب کے سامنے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ کتنی دیر ٹھہر سکتا ہے کیونکہ مسئلہ اس وقت ہی حل ہوتا دکھائی دیتا ہے جب تک ان خبروں کی روک تھام کے لیے کوئی واضح حکمت عملی وضع نہ کی جائے اور سیاسی جماعتیوں ان خبروں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے بھی گریز کریں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}