’صوبہ پنجاب کی نمائندہ ہوں، حکومتِ پنجاب کی نہیں‘

’صوبہ پنجاب کی نمائندہ ہوں، حکومتِ پنجاب کی نہیں‘

May 30, 2018 - 03:19
Posted in:

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار صوبائی حکومت کے قانون کے اعلیٰ ترین عہدے یعنی ایڈووکیٹ جنرل پر ایک خاتون کو مقرر کیا گیا ہے۔صوبائی حکومت کی جانب سے ان کی تقرری کی منظوری کے بعد منگل کو عاصمہ حامد نے باضابطہ طور پر عہدہ سنبھال لیا ہے۔امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی سے کانسٹیٹیوشنل لا میں ماسٹرز کی ڈگری رکھنے والی عاصمہ حامد اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں کامیابی سے ریاست کی نمائندگی کر چکی ہیں۔سنہ 2017 میں ان ہی کی کوششوں کے باعث سیمنٹ کی صنعت میں باقاعدگی لانے کی غرض سے حکومتِ پاکستان نے کابینہ کی منظوری کے بغیر مزید سیمنٹ فیکٹریاں قائم کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ عاصمہ حامد کے لیے ایڈووکیٹ جنرل کا دفتر بھی نیا نہیں۔ جنوری سنہ 2014 میں انھیں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل اور ایک برس بعد ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مقرر کر دیا گیا تھاـ اس دوران وہ دو مواقع پر قائم مقام ایڈووکیٹ جنرل انچارج بھی رہ چکی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عاصمہ حامد کا کہنا تھا کہ اپنی تقرری کے حوالے سے وہ یہ سمجھتی ہیں کہ ’یہ دن وکالت کے پیشہ سے منسلک خواتین کے لیے ایک اہم دن ہے۔‘’ایک خاتون کو بااختیار بنانے کا مطلب ہے کہ آپ معاشرے میں خصوصا اس پیشے سے منسلک پورے حصے کو بااختیار تسلیم رہے ہیں۔ آپ اس خاتون پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ بھی اس منصب کی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے اتنی ہی اہل ہے جتنا کوئی بھی مرد ہو سکتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ ان کی تقرری ایک وکیل کے طور پر ان کی قابلیت کو سامنے رکھتے ہوئے کی گئی ہے نہ کہ صرف اس لیے کہ وہ ایک خاتون ہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف کی طرف سے ان کی تعیناتی کے خلاف چیف الیکشن کمشنر کو لکھے گئے خط کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’اگر انھیں ایسا کرنا ہی تھا تو کوئی بہتر جواز ڈھونڈنا چاہیے تھا۔‘ وہ سنہ 2014 میں اسی حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل مقرر کی گئیں تھیں اور وہ لاہور ہائی کورٹ میں قانون کی اعلیٰ افسر ہوں گی۔’میں صوبہ پنجاب کی نمائندگی کرتی ہوں، حکومتِ پنجاب کی نہیں۔‘ ان کا کہنا تھا انھوں نے ہمیشہ سے عوامی مفاد کا دفاع کیا ہے نہ کہ کسی کے ذاتی مفاد کا ’اور اس کے لیے میں نہ صرف لاہور ہائی کورٹ بلکہ سپریم کورٹ میں بھی جانی جاتی ہوں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ مستبقل میں بھی ان کا کام ریاست کے مفاد کا دفاع کرنا ہو گا۔ کس کی حکومت آتی ہے اور کس کی نہیں، اس سے ان کا کوئی سروکار نہیں۔عاصمہ حامد سابق گورنر پنجاب شاہد حامد کی صاحبزادی اور سابق وفاقی وزیرِ قانون زاہد حامد کی بھتیجی بھی ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}