’شائقین محبت تو کرتے ہیں لیکن کرکٹ کو نہیں سمجھتے‘

’شائقین محبت تو کرتے ہیں لیکن کرکٹ کو نہیں سمجھتے‘

June 26, 2019 - 16:36
Posted in:

حال ہی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ مکی آرتھر نے جنوبی افریقہ کے خلاف میچ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھی کچھ ایسی ہی باتوں کا ذکر کیا جن میں انھوں نے کھلاڑیوں پر بے جا تنقید کے اثرات کی بات کی۔اپنی پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ حالیہ دنوں میں ایک ایسا لمحہ بھی آیا جب غیر ضروری تنقید پر انھوں نے خودکشی کرنے کا سوچا۔اس بیان کے حوالے سے جب بی بی سی نے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مصباح الحق سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ 'اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ ملک کے لیے کھیل رہے ہوتے ہیں لیکن جب چند سال قبل میرے سُسر کا انتقال ہوا تو کوئی مجھے نہیں سمجھ سکا، نہ ٹیم منیجمنٹ، نہ شائقین اور نہ ہی میڈیا اور مجھ پر غیر ضروری تنقید کرنا اور لتاڑنا شروع کر دیا۔'یہ بھی پڑھیے!’لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی ذہنی مسئلہ ہے تو آپ پاگل ہیں‘ڈپریشن اور خودکشی پر بات کیوں نہیں ہوتی؟مصباح الحق کا کہنا تھا کہ کھلاڑی ایک انسان ہوتا ہے، بد قسمتی سے شائقین اور میڈیا اس کے جذبات کا خیال نہیں رکھتے اور کسی بھی جذباتی یا ذہنی مشکل صورتحال میں اس کی مدد کرنے کی بجائے اسے تمسخر کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔''مجھے یاد ہے کہ جب سنہ 2016 میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف کرکٹ سیریز کے دوران مجھے میرے سسر کے انتقال کی خبرملی تو میں سخت جذباتی اور ذہنی مسائل کا شکار تھا۔ میرے سسر جو میرے ماموں بھی تھے، میرے لیے انتہائی اہم بزرگ کی حثیت رکھتے تھے۔ میں نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کھیل رہا تھا اور گھر کی فکر نے میرا دھیان بانٹ دیا تھا۔ میرے ذہنی اضطراب کی وجہ سے اس دوران میری کارکردگی بھی کافی متاثر ہوئی اور مجھے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔' کھلاڑیوں کو کس قسم کے ذہنی مسائل کا سامنا ہوتا ہے؟

اسی طرح امام الحق کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے وہ بھی ایک ان کہے دباؤ کا شکار ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب بھی شائقین کا غیر ضروری ردعمل ہوتا تو کھلاڑی دباؤ میں آجاتا ہے، کھل کر نہیں کھیلتا، اپنی گیم کو انجوائے نہیں کرتا۔ 'شائقین ہم سے محبت تو کرتے ہیں لیکن کسی کو کرکٹ کی سائنس کی سمجھ نہیں، وہ چاہتے ہیں شاہدی آفریدی اظہر علی کی طرح کھیلے اور اظہر علی شاہد آفریدی کی طرح، ہر کھلاڑی کا ٹیم کمبینشن میں اپنا کردار ہوتا ہے۔'ان کا کہنا تھا کہ غیر ضروری تنقید اور خاص کر مذاق اڑانے سے کھلاڑی کو سب سے زیادہ نقصان ہوتا ہے۔شائقین کے ردعمل پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں ڈاکٹر جمیل کا کہنا تھا کہ کھلاڑی بھی ایک فنکار ہوتا ہے اورلوگوں کی تعریف اس کے لیے آکسیجن کی حثیت رکھتا ہے۔’اگر شاباش کی جگہ ان کو کوسا جارہا ہے تو وہ ڈپریشن میں چلا جاتا ہے اور اگر کوئی کھلاڑی اپنی کارکردگی کو لے کر ذہنی دباؤ میں ہے تو اس کو چند ہفتوں کے لیے ٹی وی، اخبار، سوشل میڈیا سے دور رہنا چاہیے اور شائقین کے ردعمل پر دھیان نہیں دینا چاہیے۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}