’سمجھوتہ ایکسپریس میں میرا ہنستا بستا گھر راکھ ہو گیا‘

’سمجھوتہ ایکسپریس میں میرا ہنستا بستا گھر راکھ ہو گیا‘

March 20, 2019 - 19:56
Posted in:

’میری بچی 16 سال کی تھی۔ میں آپ کو کیا بتاؤں جب میں نے اس کی لاش دیکھی تو وہ کس حال میں تھی؟ اس کے جسم پر کوئی کپڑا نہیں تھا۔‘ شوکت علی دھاڑیں مار کر رونے لگے۔فیصل آباد کے علاقے نیو مراد کالونی کے رہائشی شوکت علی فروری 2007 میں دہلی میں ایک شادی میں شرکت کے بعد اپنی بیوی اور چھ بچوں کے ساتھ سمجھوتہ ایکسپریس پر پاکستان واپس آ رہے تھے کہ پانی پت کے علاقے دیوانہ کے قریب ریل گاڑی میں دھماکے ہوئے۔دھماکوں کے بعد لگنے والی آگ میں رانا شوکت کے پانچ بچے درجنوں دوسرے افراد کے ساتھ زندہ جل کر مر گئے تھے۔یہ بھی پڑھیے:سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ کیس کا فیصلہ آج متوقعسمجھوتہ ایکسپریس بحال، لائن آف کنٹرول پرکشیدگیمکہ مسجد دھماکہ: سوامی اسیم آنند سمیت پانچوں ملزمان بریشوکت علی کے آنسو تھمے تو انھوں نے بات چیت دوبارہ شروع کی۔’اس روز مجھے نہ جانے کیوں خوف محسوس ہو رہا تھا۔ خاص طور پر جب سے گاڑی میں دو ایسے لوگوں کی موجودگی کا پتا چلا تھا جن کے پاس پاسپورٹ نہیں تھے‘۔شوکت نے خلا میں گھورنا شروع کیا، جیسے وہ واقعات کو یاد کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔’بچوں کو لٹانے کے بعد میں بھی ایک برتھ پر آنکھیں موند کر لیٹ گیا۔ سردی سخت تھی۔ سب نے کمبل اور لحاف اوڑھ رکھے تھے۔‘’مجھے نیند نہیں آ رہی تھی۔ پھر ایک دم سے دھماکے کی آواز آئی۔‘

رخسانہ اور شوکت علی کچھ روز بعد پانچ تابوتوں کے ساتھ پاکستان واپس آئے۔ لیکن حادثے میں ہلاک ہونے والے 43 پاکستانیوں میں کچھ ایسے بھی تھے جنھیں اپنے ملک آنا نصیب نہیں ہو سکا۔شوکت کہتے ہیں کہ انھیں انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں کی طرف سے مالی امداد دی گئی لیکن انھیں انڈیا کی کسی عدالت نے چشم دید گواہ کے طور پر گواہی کے لیے نہیں بلایا۔’مجھے سب کچھ یاد ہے۔ اور میں چاہتا ہوں کہ مرنے سے پہلے مجھے موقعہ ملے کہ میں دنیا کو بتا سکوں کہ 18 فروی 2007 کی رات کو سمجھوتہ ایکسپریس میں سفر کرنے والے درجنوں بدقسمت مسافروں کے ساتھ کیا ہوا۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}