’سفارت کاری جاری رہے گی جب تک پہلا بم نہیں گرتا'

’سفارت کاری جاری رہے گی جب تک پہلا بم نہیں گرتا'

October 16, 2017 - 12:42
Posted in:

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے ساتھ تنازعے کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔انھوں نے ٹی وی چینل سی این این کو بتایا کہ سفارت کاری اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ 'پہلا بم نہیں گرتا۔'انھوں نے کہا کہ پابندیوں اور سفارت کاری نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خلاف پہلی بار بین الاقوامی سطح پر اس قدر اتفاق رائے پیدا کی ہے۔٭ شمالی کوریا کا امریکہ پر اعلان جنگ کا الزام ٭ شمالی کوریا کا تجربہ: امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشقیں گذشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے ریکس ٹلرسن سے کہا تھا کہ شمالی کوریائی رہنما کم جونگ ان کے ساتھ بات چیت کی چاہ میں زیادہ وقت ضائع نہ کریں۔وزیر خارجہ کا بیان اس وقت آيا ہے جب کوریائی جزیرہ نما کے گرد پانیوں میں امریکہ جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشق کا آغاز کر رہا ہے جس میں جنگی طیارے، طیارہ شکن ہتھیار اور طیارہ بردار جہاز شامل ہوں گے۔اس قسم کی جنگی مشق پر شمالی کوریا اشتعال کا اظہار کرتا رہا ہے اور ماضی میں پیانگ یانگ نے اسے 'جنگ کی مشق' سے تعبیر کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ رازداری برتنے والا کمیونسٹ ملک اقوام متحدہ کی پابندیوں کے باوجود واضح طور پر جوہری ہتھیار لے جانے والے میزائل تیار کر رہا ہے جو کہ امریکہ کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔گذشتہ ماہ کے آخر میں ریکس ٹلرسن نے بتایا تھا کہ امریکہ شمالی کوریا کے ساتھ براہِ راست رابطے میں رہا ہے اور مذاکرات کے امکان پر غور کر رہا ہےکئی ماہ کی بیان بازیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا راستہ بعض لوگوں کے لیے حیرت کا باعث تھا۔تاہم امریکی وزیرِ خارجہ کے اس بیان کے اگلے ہی دن صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کے ذریعے کہا تھا کہ: 'اپنی قوت بچا کر رکھیں ریکس، جو ہمیں کرنا چاہیے ہم وہی کریں گے ۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}