’زلمے خلیل زاد کا افغان امن مشن مشکل ہوتا جا رہا ہے‘

’زلمے خلیل زاد کا افغان امن مشن مشکل ہوتا جا رہا ہے‘

April 05, 2019 - 19:46
Posted in:

امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے جمعہ کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ایک ملاقات کے دوران کہا ہے کہ مذاکرات کا انعقاد افغان مفاہمتی عمل کا اہم جزو ہے۔ آج اسلام آباد میں وفود کی سطح پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری رہے۔ امریکی وفد کی نمائندگی زلمے خلیل زاد کر رہے ہیں۔ دو روزہ مذاکرات کے دوران افغان مفاہمتی عمل میں ہونے والی پیش رفت سمیت، خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے اہم دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔اس بارے میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے زلمے خلیل زاد کی آمد پر پہلے سے جاری بیان دہراتے ہوئےکہا کہ ’پاکستان اپنے قومی مفاد کا خیال رکھے گا۔‘ مزید پڑھیےافغانستان میں امن کے لیے افغانستان سے مشاورت پر اتفاق افغانستان اور امریکہ کی تنقید، پاکستان کی وضاحت’طالبان پورے افغانستان پر قبضے کے خواہاں نہیں ہیں'زلمے خلیل زاد کا پاکستان آنے سے پہلے بیانزلمے خلیل زاد نے صبح میں وزارتِ خارجہ کی سیکریٹری تہمینہ جنجوعہ سے ملاقات کی اور بعد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دوحہ مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت اور افغان امن عمل کے سلسلے میں اپنی حالیہ مصروفیات کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور افغانستان میں اپنی اہم ملاقاتوں کا احوال بھی دیا۔اسلام آباد آنے سے ایک دن پہلے زلمے خلیل زاد نے افغانستان کے بامیان، جاؤزجان اور پروان صوبے میں ایک وڈیو بیان میں کہا تھا کہ ’پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات تب تک بہتر نہیں ہوں گے جب تک اسلام آباد، کابل میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی نہیں کرتا۔‘ انھوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کے ساتھ ساتھ اسلام آباد اور کابل کے درمیان بھی ایک معاہدہ طے پائے گا جس کا مقصد پاکستان کا افغانستان میں تعمیری کردار ہوگا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ اس معاہدے کا ایک اہم مقصد پاکستان کی طرف سے افغانستان میں ’مداخلت کو روکنے‘ کا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ’اگر اسلام آباد واشنگٹن کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے تو پاکستان کو افغانستان کے لیے اپنی پالیسی تبدیل کرنی پڑے گی، ورنہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر نہیں ہوسکیں گے۔‘زلمے خلیل زاد اسلام آباد میں دو روزہ دورے کے دوران پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سے بھی ملاقات کریں گے۔ شاہ محمود قریشی نے ملاقات کے دوران کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام پاکستان سمیت پورے خطے کے بہترین مفاد میں ہے۔ یاد رہے کہ افغان امن عمل کے لیے نمائندہِ خصوصی اور پاکستان کے وفود کے درمیان یہ چوتھی ملاقات ہے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا اہم مقصد افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ کو روکنے اور امریکی افواج کے انخلا کا ہے۔

زلمے خلیل زاد کے بیان کی اہمیتاس بارے میں بات کرتے ہوئے صحافی سمیع یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ زلمے خلیل زاد کا افغان امن مشن مشکل سےمشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ ’طالبان کے ساتھ مذاکرات تو مسلسل ہورہے ہیں لیکن بنیادی باتوں پر کوئی خاص پیشرفت نہیں ہورہی ہے۔‘دوسری جانب زلمے خلیل زاد کے افغان حکومت کے ساتھ تعلقات کافی پیچیدہ اور سرد ہوگئے ہیں۔ ’افغانستان کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر حمد اللہ نے جس طرح امریکہ جاکر بہت سخت الفاظ میں ڈاکٹر خلیل زاد پر تنقید کی جس کے نتیجے میں اس کا سب سے زیادہ نقصان خلیل زاد صاحب کے اس مشن کو پہنچا ہے اور وہ خود ایک متنازع شخصیت بن گئے ہیں۔‘اس وقت زلمے خلیل زاد کے پاس آخری راستہ پاکستان ہے۔’اب خلیل زاد صاحب پاکستان کو کہہ رہے ہیں کہ ہم نہیں مان سکتے کہ آپ طالبان کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ ان کا یہ خیال ہے کہ پاکستان طالبان کو قطر تک لے آیا جس کا امریکہ نے بھی خیر مقدم کیا لیکن اس کے بعد سے طالبان کو، جیسا عام زبان میں کہا جاتا ہے، ٹرک کے پیچھے لگا دیا۔ کہنے کا مقصد ہے کہ اگر پاکستان طالبان کو قطر تک لاسکتا ہے تو حل تلاش کرنے کا بھی پابند کرسکتا ہے۔‘ پاکستان پر اس وقت پریشر ہے کہ وہ امریکہ طالبان مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے میں مدد کریں تاکہ اس سے افغان امن عمل آگے بڑھے۔ امریکہ نے پاکستان کے تعاون سے طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات سے طالبان کی امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی دیرینہ خواہش کی بھی تکمیل ہوئی ہے۔

اگرچہ افغان حکومت ان مذاکرات میں براہ راست شامل نہیں لیکن کابل نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان مذاکرات میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کو امریکی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ طالبان کی طویل عرصے سے امریکہ کے ساتھ براہِ راست بات چیت کرنے کا مطالبہ سب کے سامنے رہا ہے لیکن امریکہ کی وزارتِ خارجہ نے خود کو ایک ’معاون‘ کے طور پر ان مذاکرات کا حصہ بتایا ہے اور ساتھ ہی اس بات پر اصرار بھی کیا ہے کہ افغانستان میں امن لانے کے لیے اگر طالبان کو امن عمل کا حصہ بننا ہے تو افغان حکومت کو شاملِ مذاکرات رکھنا ہوگا۔ اس سے قبل جولائی 2015 میں بھی پاکستان نے مری میں طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کروائے تھے لیکن وہ سلسلہ اسلامی تحریک کے سربراہ ملا محمد عمر کی ہلاکت کی خبر کے لیک ہوجانے سے ختم ہوگیا تھا۔ایجنسی آفس آف دی انسپیکٹر جنرل فار افغانستان ریکنسٹرکشن کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کے افغان حکومت اس وقت افغانستان کے 407 میں سے 229 ضلعوں پر اختیار رکھتی ہے جبکہ طالبان کا اختیار 59 ضلعوں پر ہے، اور باقی 119 ضلعوں کے اختیار پر دونوں کے درمیان کشیدگی رہتی ہے۔اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق طالبان افغانستان میں ہونے والی ہلاکتوں کی بڑی وجہ ہیں۔ طالبان نے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کا حصہ بننے سے انکار یہ کہہ کر کیا کہ افغان حکومت امریکہ کے اشاروں پر ’کٹھ پتلی‘ کے طور پر کام کررہی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}