’روہنگیا مسلمانوں کی عسکری مزاحمت میں اضافہ ہو گا‘

’روہنگیا مسلمانوں کی عسکری مزاحمت میں اضافہ ہو گا‘

October 11, 2017 - 11:23
Posted in:

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی صورتحال کے حوالے سے ایک بات جس پر شاید ہر کسی کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ اس سے ریاست کے خلاف عسکری مزاحمت میں اضافہ ہو گا۔ 25 اگست کو تقریباً 30 پولیس اور فوجی چوکیوں پر حملوں کے بعد جو شدید جوابی فوجی کارروائی شروع کی گئی اس کے نتیجے میں پانچ لاکھ کے قریب افراد کو بنگلہ دیش میں پناہ لینی پڑی ہے۔ اس سب سے واضح ہوتا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں میں اب میانمار کی ریاست کے خلاف عسکری مزاحمت جڑ پکڑ رہی ہے اور اس کی قیادت اراکان روہنگیا سیلویشن آرمی (آرسا) نامی ایک گروہ کر رہا ہے۔ تاہم بنگلہ دیش میں پناہ گزینوں اور عسکریت پسندوں سے باتیں کر کے معلوم ہوتا ہے اس گروہ کی منصوبہ بندی انتہائی کمزور ہے اور اسے تمام روہنگیا کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کا دردروہنگیا جائیں تو جائیں کہاں؟میانمار کی سکیورٹی فورسز کے بیانات کے مطابق 25 اگست کو ہونے والے حملوں میں بیشتر انتہائی سادہ تھے جن میں زیادہ تر حملہ آوروں کی نیت خودکش حملے کرنے کی تھی اور وہ چاقوؤں یا ڈنڈوں سے مسلح تھے۔ان میں سے مہلک ترین اور اولین حملوں میں سے ایک حملہ تھا ایلل تھان کوا نامی قصبے میں پولیس چوکی پر کیا گیا تھا۔پولیس لیفٹیننٹ آنگ کوا مو نے بعد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں اس حملے کی پیشگی خبر تھی اور انھوں نے ایک رات قبل ہی اپنے مقامی حکام کو بیرکوں میں بھیج دیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ تقریباً صبح چار بجے 500 کے قریب حملہ آور نے دھاوا بولا۔ انھوں نے ایک امیگریشن افسر کو ہلاک کیا مگر آسانی سے خودکار ہتھیاروں سے لیس پولیس نے انھیں بھگا دیا اور 17 لاشیں پیچھے رہ گئیں۔ بنگلہ دیش میں ایک پناہ گزین نے جب مجھے اس حملے کی کہانی سنائی تو اس کی باتوں میں بھی مماثلت تھی۔ رخائن ریاست سے نکالے جانے کے بارے میں جب میں نے اس سے سوال کیا تو اس نے شکایت کی کہ 25 اگست کے حملے کے چند ہی روز میں عسکریت پسندوں نے ان کے پورے گاؤں کو حملوں میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی۔

میانمار سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تاریخ پر ایک نظر۔اس جنگ میں روہنگیا اور رخائن کی بودھ برادری نے متضاد حمایت کی تھی اور دونوں جانب انتہائی شدید قتلِ عام کے واقعات کے ساتھ ساتھ آبادی کے بڑے حصوں کی نقل مکانی بھی ہوئی تھی۔ رخائن اور میانمار قومیت پسندوں کا خیال ہے کہ یہ وہی وقت تھا جب رخائن کی آبادی میں بنگالی تارکینِ وطن کے ذریعے روہنگیا کو بڑھایا گیا۔ صرف چار ہفتوں میں روہنگیا آبادی کو رخائن سے بڑی تعداد میں نکال کر میانمار کی فوج نے ریاست کی آبادی کو ایک بار پھر غیر مسلم کے حق میں بڑھا دیا ہے۔ سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اب آرسا کیسے کام کرے گی جبکہ اس کے پاس ریاست میں شاید ہی کوئی اڈے رہ گئے ہوں۔ سرحد پار سے حملہ کرنا تو انتہائی مشکل ہو گا اور شاید بنگلہ دیش کے حکام بھی اسے برداشت نہ کریں۔ اگرچہ بنگلہ دیش پناہ گزینوں کے معاملے پر برہم ہے تاہم انھوں نے اس معاملے میں اب تک غیر جانبداری کا ثبوت دیا ہے۔ہم سے بات کرنے والے سابق جنگجو کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں وہ اب بھی اپنے علاقے کے امیر سمیت آرسا کے دیگر رہنماؤں سے رابطے میں ہے تاہم اس نے عطا اللہ سے بات نہیں کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں نہیں معلوم کہ ان کی تنظیم اب اگلا قدم کیا اٹھائے گی۔ کیمپ میں ہم نے جن لوگوں سے بات کی ان میں سے زیادہ تر آرسا کی موجودگی کے بارے میں جانتے تھے تاہم ان میں سے بہت سے تنظیم کے بارے میں بات کرنے سے کتراتے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}