’ذہنی اور دوستوں کا دباؤ منشیات کے استعمال کی اہم وجہ‘

’ذہنی اور دوستوں کا دباؤ منشیات کے استعمال کی اہم وجہ‘

May 23, 2018 - 08:04
Posted in:

کراچی میں آپ کو اکثر فلائی اوورز کے نیچے، لیاری ندی کے کناروں پر اور بعض علاقوں کے میدانوں میں لوگ سر پر چادر اوڑھے دھواں پھونکتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ان کے کپڑے میلے کچیلے اور بال مٹی اور دھول سے اٹے ہوتے ہیں۔ منشیات کے عادی ان افراد کے حلیے اور ٹھکانوں سے تو اکثر لوگ باخبر اور واقف ہیں لیکن شہر کے پوش علاقوں میں اعلیٰ درس گاہوں کے نوجوان بھی منشیات میں مبتلا ہو رہے ہیں، جس سے والدین اور متعلقہ محکمہ لاعلم رہتے ہیں۔بی بی سی کا ہیلتھ کیلکیولیٹرآپ کب تک زندہ رہیں گے؟شہر میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے مراکز میں ان دنوں ایک نئے نشے کے عادی نوجوانوں کو لایا جا رہا ہے، جسے کرسٹل میتھ کہا جاتا ہے۔ اس کا شکار عموماً نجی تعلیمی اداروں اور امیر گھرانوں کے نوجوان بن رہے ہیں۔ایسے ہی ایک بحالی مرکز میں ایک نوجوان (جے) سے ملاقات ہوئی جو اپنے ہم جماعت کے ذریعے کرسٹل کا عادی بنا تھا۔’یونیورسٹی میں داخلہ ہوا وہاں ایک نیا ماحول تھا، میرے کلاس فیلوز کوئی چیز استعمال کرتے تھے۔ ان سے جب میری دوستی ہوئی تو انھوں نے آہستہ آہستہ مجھے اس کے استعمال کے لیے آمادہ کر لیا۔ جیسے جیسے میں نے وہ چیز استعمال کی تو میں نے ذہنی اور جسمانی طور پر خود کو کافی بہتر محسوس پایا اور میں اس کا عادی ہونے لگا بعد میں مجھے پتہ چلا کہ یہ تو کرسٹل ہے۔ جب میں یہ استعمال نہیں کرتا تھا تو مجھے سکون نہیں آتا تھا۔‘

جدید منشیات فروشوں تک رسائی ایک چیلنجعلاقے میں کہاں کہاں منشیات فروخت ہو رہی ہے، علاقہ پولیس اور دیگر ادارے اس سے باخبر ہوتے تھے، لیکن جدید منشیات فروشوں تک رسائی پولیس کے لیے ایک چیلنج ہے۔ایس ایس پی جاوید اکبر کے مطابق پہلے یہ معلوم ہوتا تھا کہ فلاں مکان سے منشیات فروخت کی جا رہی ہے لیکن اب پتہ نہیں لگتا جب سوشل میڈیا پر فروخت ہو گی تو پولیس کے پاس اس کو روکنے کے وسائل محدود ہوں گے۔’پوش علاقوں میں جو پارٹیاں ہو رہی ہیں ان میں بھی نوجوانوں کو ڈرگز دی جاتی ہیں۔ یہ ایریاز ایسے ہیں جن کا پتہ نہیں ہوتا، ایک پارٹی ایک دن اگر کسی گھر میں ہو رہی تو ہو سکتا ہے کہ دوسرے روز وہ کسی دوسرے کے گھر میں ہو رہی ہو۔‘کراچی میں منشیات کے استعمال کی صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر حکومت سندھ ایک پالیسی تشکیل دے رہی ہے جس کے تحت نوجوانوں کے جامعات میں داخلے کے لیے خون کے نمونے حاصل کیے جائیں گے ۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}