’دہشت گردی کا شکار اہلکاروں کو مردہ نہیں سمجھتے‘

’دہشت گردی کا شکار اہلکاروں کو مردہ نہیں سمجھتے‘

June 28, 2019 - 09:58
Posted in:

غلام مرتضٰی کے لیے پولیس میں ملازمت حاصل کرنے کا وہ آخری موقع تھا۔ درخواست جمع کروانے گئے تو چھوٹے بھائی علی رضا بھی ساتھ ہو لیے۔ دونوں بھائی بچپن ہی سے ساتھ ساتھ رہتے تھے۔ دونوں کی عمر میں تین برس کا فرق تھا۔ 25 سالہ غلام مرتضٰی بڑے تھے۔ ان کی والدہ نظیراں بی بی کہتی ہیں ’وہ بھائی بھی تھے اور دوست بھی۔‘دونوں کو نوکری ملی، ایک ساتھ ٹریننگ کی اور اکٹھے لاہور پولیس میں کانسٹیبل بھرتی ہوئے۔ صبح ملازمت پر اکٹھے جاتے، جانے سے پہلے اکٹھے موبائل پر تصویر بناتے اور پھر والدہ کی دعائیں لے کر نکل پڑتے۔سنہ 2017 میں 24 جولائی کا دن آیا۔ اس روز انسدادِ فسادات فورس میں شامل یہ دونوں بھائی لاہور کے فیروزپور روڈ پر واقع ارفع کریم ٹاور کے قریب تجاوزات کے خلاف مہم کو حفاظت فراہم کرنے والوں میں شامل تھے۔اسی جگہ پر موجود پولیس کے جوانوں کو ایک خود کش بمبار نے نشانہ بنایا۔ یہ بھی پڑھیےسہولیات کا فقدان یا آسان ہدفداتا دربار کے باہر دھماکے میں 10 افراد ہلاکدہشتگردی: بلوچستان میں اضافہ، باقی ملک میں کمیغلام مرتضٰی اور علی رضا کے والد چوہدری نظیر حسین کو بتایا گیا کہ دیگر پولیس اہلکاروں کے ساتھ ان کے دونوں بیٹے بھی زخمی ہوئے ہیں۔ وہ ہسپتال کی جانب دوڑ پڑے۔’پہلے پتہ چلا کہ وہ زخمی ہوئے ہیں لیکن پھر۔۔۔‘

جو پولیس سے نہیں مگر کام وہی کرتے ہیں؟پولیس اور فوج کے جوانوں کو ان کے کام کی نوعیت اور انھیں لاحق خطرات کے پیشِ نظر معاوضہ دیا جاتا ہے۔ دوسری جانب دہشت گردی کا نشانہ بنے والے عام افراد کے لیے متعلقہ صوبائی حکومتیں وقتی پالیسیوں کے مطابق معاوضے کا اعلان کرتی رہتی ہیں۔ تاہم ایک طبقہ ایسا ہے جس کا کام کم از کم حساس عمارتوں یا اہم شخصیات کی حفاظت کے اعتبار سے پولیس سے ملتا جلتا ہے۔ یہ طبقہ نجی کمپنیوں میں ملازم سیکورٹی گارڈز کا ہے۔ لاہور کے داتا دربار کے دھماکے میں مرنے والے رفاقت علی بھی انھی افراد میں شامل ہیں۔ ایلیٹ فورس کے جوانوں کی طرح رفاقت علی بھی دربار کے دروازے پر روزانہ حفاظت کے لیے کھڑے ہوتے تھے۔رفاقت علی کی ماہانہ تنخواہ محض 8000 روپے تھی اور وہ بھی وقت پر نہیں ملتی تھی۔ اس وقت ان کی تین بیٹیاں نجی سکول میں زیر تعلیم تھیں۔ حال ہی میں ان کی بیوہ کو حکومتِ پنجاب کی جانب سے دس لاکھ روپے کا چیک دیا گیا۔ ان کے بھائی شوکت علی نے بی بی سی کو بتایا ’بعض حکومتی اور سیاسی شخصیات نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ رفاقت علی کے بچوں کی پڑھائی کا خرچ بھی برداشت کیا جائے گا اور حکومت ان کے خاندان کی مزید مدد بھی کرے گی۔‘ تاہم یہ واضح نہیں کہ ایسے نجی کمپنیوں میں کام کرنے والے یہ افراد کن میں شمار ہوتے ہیں۔ کیا وہ حادثاتی طور پر ہلاک ہونے والوں میں شامل کیے جاتے ہیں یا اپنی جان خطرے میں ڈال کر جان گنوانے والوں میں؟

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}