’دنیا کی سب سے بڑی غلطی کی، واپسی سے خوف آ رہا ہے‘

’دنیا کی سب سے بڑی غلطی کی، واپسی سے خوف آ رہا ہے‘

June 10, 2019 - 09:20
Posted in:

رواں برس عیدالفطر کے موقعے پر پاکستانی عوام نے تقریباً ایک ہفتے کی چھٹی منائی۔ منگل سے شروع ہونے والی تعطیلات کا اختتام اتوار کو ہوا اور ان چھ دنوں میں ہر برس کی طرح لاکھوں افراد نے تفریحی مقامات کا رخ بھی کیا۔ان میں جہاں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جن کی منزل اُن کے شہر میں واقع تفریحی مقامات تھے وہیں ایسے افراد کی تعداد بھی کم نہ تھی جنھوں نے طویل چھٹی کو غنیمت جانتے ہوئے پُرفضا مقامات کا رخ کر لیا۔لوگوں کے بڑی تعداد میں محدود مقامات کا رخ کرنے کا نتیجہ ٹریفک جام اور رہائش کے مقامات میں کمی کی صورت میں نکلا اور ہر برس کی طرح لوگوں کی بڑی تعداد نے رات اپنی گاڑیوں میں گزاریں۔ مگر جن خوش قسمت افراد کو رہائش ملی تو وہ بھی سونے کے دام پر تھی۔یہ بھی پڑھیے!شمالی علاقہ جات کیلیے اصلاحاتشمالی علاقہ جات تاریخ خطرے میںکاغان کی طلسماتی جھیلوں کی رونقیں ماندجب برف باری میں تفریح ایک بھیانک خواب بن گئی

'بشام سے چلاس تک سڑک خراب ہونے کی وجہ سے 13 گھنٹے لگے۔ اس دوران گاڑی کو بھی نقصاں پہنچا جبکہ سارا راستہ اس طرح سنسان تھا جس طرح جنگل میں سفر کررہے ہوں۔' کراچی سے ہنزہ آنے والے رحمان کا کہنا تھا کہ 'جب ہم اسلام آباد سے شاہراہ قراقرم پر سفر کر رہے تھے تو ہمیں لگا کہ ہم نے دنیا کی سب سے بڑی غلطی کر لی ہے اور اب واپسی کے سفر سے خوف آ رہا ہے۔' صوبہ خیبر پختونخوا کے حکومتی ذرائع کے مطابق علاقے میں سردیوں کے سیزن میں زیادہ برفباری کی وجہ سے بابوسر ٹاپ روڈ سے برف ہٹانا ممکن نہیں ہو سکا تھا تاہم چند دونوں میں اس پر کام شروع کر دیا جائے گا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}