’حفیظ شیخ عمران کا نہیں کسی اور کا انتخاب ہیں‘

’حفیظ شیخ عمران کا نہیں کسی اور کا انتخاب ہیں‘

April 22, 2019 - 08:39
Posted in:

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے گذشتہ ہفتے جب وزارت سے سبکدوشی کا اعلان کیا تو تمام لوگوں کے ذہنوں میں ایک ہی سوال تھا کہ اس مشکل وقت میں کابینہ کے اس سب سے اہم رکن کے طور پر وزیراعظم پاکستان کا انتخاب کون ہو گا۔ ذرائع ابلاغ میں اس حوالے سے قیاس آرائیاں اسد عمر کی ٹویٹ کے بعد سے شروع ہو گئی تھیں اور کبھی عمر ایوب کو یہ عہدہ دیے جانے کی خبریں گردش کرتی رہیں تو کبھی شوکت ترین کی جانب سے یہ عہدہ سنبھالنے سے انکار کی باتیں ہوئیں۔یہ بھی پڑھیےمشرف، پیپلز پارٹی اور اب تحریک انصاف کے ساتھکیا عمران خان بھی۔۔۔ مداح ناخوشاعجاز شاہ تعیناتی: ’یہ سوال جا کر عمران خان سے پوچھیں‘لیکن ان سب ناموں کے برعکس قرعۂ فال عبدالحفیظ شیخ کے نام نکلا اور وہ وزیراعظم کے مشیر برائے مالیاتی امور بنا دیے گئے۔ حفیظ شیخ پیپلز پارٹی کے گذشتہ دورِ حکومت میں وفاقی وزیر خزانہ تھے جبکہ اس سے قبل مشرف دور میں سندھ کے وزیر خزانہ اور بعد میں نجکاری کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔حفیظ شیخ کس کا انتخاب؟حفیظ شیخ کی تعیناتی کے ساتھ ہی میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس بحث کا آغاز بھی ہو گیا ہے کہ اس اہم عہدے کے لیے ایک ایسی شخصیت کا انتخاب کیوں کیا گیا جو عوامی ووٹ سے منتخب ہو کر نہیں آئی اور آیا وہ وزیراعظم عمران خان کا انتخاب ہیں یا معاملہ کچھ اور ہے۔اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مالیاتی امور پر نظر رکھنے والے صحافی شہباز رانا کا کہنا ہے کہ ’مسلم لیگ نواز کے سوا پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں یہ ایک بڑا مسئلہ پایا جاتا ہے کہ ان کے پاس صف اول کے معاشی ماہرین نہیں ہوتے۔‘ان کے مطابق ’اسی کمزوری کی وجہ سے ماضی کی حکومتوں کو بھی ’بریف کیس‘ وزیر خزانہ کی طرف دیکھنا پڑا اور اس دفعہ پھر وہی ہوا۔‘انھوں نے دعویٰ کیا کہ نئے مشیرِ خزانہ کے نام کا انتخاب وزیر اعظم عمران خان کا نہیں تھا اور خیال یہی ہے کہ ’حفیظ شیخ وزیراعظم سے زیادہ عسکری اسٹیبلشمنٹ کی پسند تھے۔‘ سینیئر صحافی محمد ضیا الدین بھی اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں کہ حفیظ شیخ عمران خان کا نہیں بلکہ ’کسی اور‘ کا انتخاب ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’وہ دور دور تک عمران خان کے ریڈار پر نہیں تھے‘ اور ان کے خیال میں ان کے آپس میں کسی قسم کے تعلقات بھی نہیں رہے۔

ماہر معاشیات اکبر زیدی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ معیشت کا حال اچھا نہیں ہے مگر منصب پر کون بیٹھا ہے اس سے فرق پڑ سکتا ہے۔’وہ کس طرح کیا بات کر رہا ہے اور کس طرف لے کر جا رہا ہے اس کی بہت اہمیت ہے۔‘تاہم انھوں نے کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ حفیظ شیخ کچھ کر پائیں گے۔ میرے خیال سے پاکستان میں اس وقت ایسے لوگ ہیں جو ان سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں اور اُن کا ماضی کا ریکارڈ بھی اتنا برا نہیں ہے۔‘تاہم ندیم ملک کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت کے اصلی دو بڑے امتحان بجٹ اور آئی ایم ایف کا معاہدہ ہے اور اگر وہ ان میں کامیاب ہو گئے تو ان کے لیے راستے کھل جائیں گے ورنہ مزید بند ہو جائیں گے۔ اس سلسلے میں شہباز رانا کا کہنا ہے کہ ’شاید وہ (حفیظ شیخ) واشنگٹن میں اپنے تعلقات کو مثبت طریقے سے استعمال کر کے پاکستان کے لیے کچھ مراعات حاصل کر سکیں لیکن (آئی ایم ایف کے) پروگرام کے خدوخال جو سامنے ابھی تک آ رہے ہیں وہ اتنے شاندار نہیں ہیں۔‘ان کے مطابق ’ان خدوخال کو دیکھنے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ آنے والا وقت حکومت کے لیے بھی اور مشیر خزانہ صاحب کے لیے بھی بہت چیلنجنگ ہو گا۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}