’جوہری معاہدے کے بعد سے ایرانی شیر آزاد ہو گیا ہے‘

’جوہری معاہدے کے بعد سے ایرانی شیر آزاد ہو گیا ہے‘

February 18, 2018 - 19:09
Posted in:

اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے میونخ میں ہونے والی سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے 'دنیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ' قرار دیا ہے۔ بن یامین نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل 'ایرانی حکمرانوں کو دہشت گردی کا پھندہ ہماری گردن میں ڈالنے نہیں دے گا۔'اسرائیلی وزیر اعظم نے 2015 میں ایران کے ساتھ کیے جانے والے جوہری معاہدے کو سنہ 1938 میں ہونے والے میونخ معاہدے سے تشبیہ دی جس میں نازی جرمنوں کے ساتھ امن معاہدہ کیا گیا تھا۔ایران اسرائیل تعلقات کے بارے میں مزید پڑھیےایران کے ’میزائل تجربے‘ پر اسرائیل ناراض اسرائیل کی شام میں فضائی حملوں کے بعد ایران کو تنبیہایران شام اور لبنان میں میزائل فیکٹریاں بنا رہا ہے: اسرائیل انھوں نے الزام لگایا کہ اس معاہدے کے بعد سے 'ایرانی شیر آزاد ہو گیا ہے۔''ہم بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنا دفاع کریں گے اور ہم ہر ایکشن لیں گے جو ہم ضروری سمجھتے ہیں جو کہ نہ صرف ایران کا ساتھ دینے والوں کے خلاف ہوگا بلکہ وہ ایران کے خلاف بھی ہو سکتا ہے۔'بن یامین نتن یاہو نے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کو ’جھوٹا‘ قرار دیا اور کہا کہ 'وہ بہت شستہ انداز میں ایرانی حکمرانوں کا موقف بیان کرتے ہیں جو کہ درحقیقت جھوٹ پر مبنی ہے۔'اسرائیلی وزیر اعظم نے ایران پر مزید الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس نے اسرائیل کی حدود میں ڈرون بھیجا تھا اور اب اس سے انکاری ہے۔لوہے کے ٹکڑے کو فضا میں بلند کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ یہ تباہ کیے گئے ڈرون کے ملبے میں سے ملا ہے۔ انھوں نے جواد ظریف کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ 'کیا آپ اسے پہچانتے ہو؟ جانتے ہی ہو گے کیونکہ یہ تمہارا ہے اور یہ لے کر تم تہران کے غاصب حکمرانوں کو پیغام پہنچا دو کہ اسرائیل کے عزم کا امتحان نہ لیں۔'دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کے خطاب کے بعد ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کو تقریر کا موقع ملا جس میں انھوں نے اسرائیلی تنقید پر کہا کہ یہ 'مضحکہ خیز کرتب' ہے۔ اپنے خطاب میں جواد ظریف نے بتایا: 'آپ نے آج صبح ایک مضحکہ خیز کرتب دیکھا جو اس قابل بھی نہیں ہے کہ اس کا کوئی جواب دیا جائے۔'انھوں نے جوہری معاہدے کے حوالے سے کہا کہ 'ایران معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا جس کو ناکام بنانے کی لیے نتن یاہو نے متعدد کوششیں کی ہیں۔'امریکہ کے سابق وزیر خارجہ جان کیری نے بھی میونخ کانفرنس سے گفتگو میں کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ الزام کے ایران دس سال میں جوہری بم تیار کر لے گا 'بنیادی طور پر غلط ہے۔'واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازعات گذشتہ چند برسوں میں بڑھ گئے ہیں۔ اسرائیل 2015 میں ایران کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے کا سخت مخالف ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کی تقریر اس تناظر میں بھی دیکھی جا رہی ہے کہ ان کے اپنے ملک میں ان کے خلاف کرپشن کا الزام ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}