’جنس تبدیل نہ کرنا میرے لیے موت کے برابر تھا‘

’جنس تبدیل نہ کرنا میرے لیے موت کے برابر تھا‘

October 18, 2017 - 09:03
Posted in:

ایلن پرائمری سکول کی پہلی لڑکی تھی جو پہلی بار برطانیہ میں جنسی تبدیلی کے مرحلے سے گزری تھیں لیکن ان کی کہانی اپنے جنسی رجحان کی مناسبت سے موزوں لباس پہننے سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کے لیے جنس کی تبدیلی زندگی اور موت کا سوال تھا۔ یہ ان کی اپنی حقیقی شناخت تلاش کرنے کی کوشش تھی اور وہ جو محسوس کرتی تھیں اسے پورا ہونے دینے کی اجازت تھی۔٭ جنس تبدیل کرنے پر انڈین نیوی اہلکار نوکری سے فارغ٭ برطانیہ میں ہم جنس مردوں کی سزائیں معافایلن کی کہانیاں انھی کی زبانیمجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرے آس پاس کے لوگ یہ سوچتے ہوں گے کہ حساس اور دلچسپ نوجوان ہے جو ہم جنس بن رہا ہے۔ ایک عرصے تک میرا بھی ایسا ہی خیال تھی۔ سکول وہ جگہ تھی جہاں میرے لیے زندگی انتہائی مشکل ہو گئی کیونکہ میں گھر میں ویسی رہ سکتی تھی جیسی میں ہوں۔ میں جیسا لباس پہننا چاہتی، پہنتی تھی اور میرے خاندان کو اس سے کوئی پریشانی نہیں تھی۔سکول میں تنہا ہوگئی

میں ثانوی سکول گئی جہاں میرے پرانے سکول کے کچھ بچے بھی تھے۔ وہ جانتے تھے کہ میں نے اپنی جنس تبدیل کی ہے۔ اس کے بعد پھر سے افواہوں کا بازار گرم ہو گیا اور میں پھر تنہا ہو گئی۔ اب میں سکول نہیں جا سکتی تھی۔ میں نے کئی مرتبہ خودکشی کی کوشش کی۔ مجھے ایک نفسیاتی ہسپتال میں داخل کیا گیا۔18 سال کی عمر میں میرا دوسرا آپریشن ہوا جس نے میری زندگی بدل دی۔میں ہمیشہ خوفزدہ رہتی کہ کہیں کوئی میرے ماضی کے بارے میں نہ جان لے اور میں اس ذہنی الجھن سے چھٹکارا چاہتی تھی۔میں دلچسپی اور تخلیقی صلاحیت سے پر ایک انسان ہوں اور میں اپنی کہانی سے کچھ سوا ہی ہوں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}