’جب پولیس والوں نے یتیم کی رخصتی کی‘

’جب پولیس والوں نے یتیم کی رخصتی کی‘

March 19, 2018 - 19:02
Posted in:

گذشتہ دنوں ضلع بہاولپور کی پولیس نے ڈاکوؤں سے مقابلے میں ہلاک ہونے والے کانسٹیبل کی بیٹی کی رخصتی کے اخراجات بطور پولیس فورس کے اٹھائے اور پولیس کے اس اقدام کو سوشل میڈیا پر کافی سراہا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق پنجاب ہولیس کے کانسٹیبل محمد لطیف کی صاحبزادی کی شادی کی باری آئی تو وسائل کی کمی کی وجہ سے شادی کرنا محمد لطیف کی بیوہ کے لیے مشکل تھا۔اس موقع پر مقامی پولیس کے ضلعی سربراہ مستنصر فیروز نے تمام ضلعے کی پولیس کی مدد سے اس شادی کے تمام انتظامات اپنے ذمے لیے۔محمد لطیف بہاولپور کے سیٹلائٹ ٹاؤن میں ایک ڈکیتی کی واردت سے نمٹنے کے دوران اپنی جان سے گئے جس کے بعد ان کے لواحقین کو ان کی تنخواہ اور دوسرے الاؤنسز تو ملتے رہے مگر شادی کا خرچ ان کی بساط سے بہت بڑھ گیا تھا۔محمد لطیف کی صاحبزادی تہمینہ لطیف کی شادی کی تقریب 17 مارچ کو بہاولپور میں انجام پائی جس میں ریجنل پولیس آفیسر بہاولپور سمیت ضلعے کی پولیس کے تمام اہلکاروں نے شرکت کی انہیں اپنے ہاتھوں سے رخصت کیا۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاولپور کیپٹن ریٹائرڈ مستنصر فیروز نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ 'ہم نے ضلعے کی سطح پر ایک ویلفیئر برانچ کا اجرا کیا ہے اور اس برانچ کے لوگ مسلسل لواحقین کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں تاکہ ان کے مسائل حل کر سکیں۔ محمد لطیف کی بیوہ نے اپنے مسائل کا جب تذکرہ کیا تو ہم نے مل کر ان کے خاندان کی مدد کا فیصلہ کیا۔'سوشل میڈیا پر اس شادی کی خبر کو حکومتِ پنجاب کے ٹوئٹر اکاؤنٹ نے شیئر کیا جس پر بڑی تعداد میں لوگوں نے اس کی حوصلہ افزائی کی۔ وقاص احمد نے لکھا 'یہ بہت اچھی بات ہے۔ اس خاندان کے لوگوں کا خیال رکھنے قابلِ تحسین ہے۔ اپنے فرائض کی ادائیگی میں بھی اسی طرح بہتری لائیں۔'’مراعات کو ایک جیسا کیا جائے تاکہ ۔۔۔‘

صحافی اور تجزیہ کار قطرینہ حسین نے کہا کہ 'مراعات کاغذ پر تو موجود ہیں اور نظام بھی ہے مگر حقیقت میں کیا پولیس کے شہدا کے خاندان والے ان مراعات کو حاصل کر پاتے ہیں اور کیا وقت پر حاصل کر پاتے ہیں؟ اور ان مراعات کو حاصل کرنے کے لیے ان کا کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اس کے بارے میں بھی کچھ کیا جانا چاہیے۔'انھوں نے کہا کہ ویلفیئر برانچ کا قیام قابلِ تحسین ہے مگر ایسے خاندانوں کو بیوروکریسی کے چکروں میں پھنسائے بغیر ان کی مدد کرنے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ 'اکثر میں نے سنا ہے سیاستدان کسی سانحے کے بعد اعلان کرتے ہیں کہ اتنی مالی مدد کی جائے گی مگر اس کے حصول میں لوگوں کو مہینوں لگ جاتے ہیں جس کے سدِ باب کے لیے بھی نظام بنانے کی اشد ضرورت ہے۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}