’بیوی بچوں کا سوچ کر پریشان ہو رہا تھا لیکن وسیلہ بن گیا‘

’بیوی بچوں کا سوچ کر پریشان ہو رہا تھا لیکن وسیلہ بن گیا‘

November 30, 2017 - 19:10
Posted in:

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

فیض آباد دھرنے کے شرکا کی جانب سے جلاؤ گھیراؤ کے نتیجے میں بنارس خان کی دکان کو نقصان پہنچاپاکستان میں سوشل میڈیا پر جب فوج کے ایک اعلیٰ افسر کی جانب سے اسلام آباد میں دھرنا دینے والوں کو رقم دینے کی ویڈیو گردش کر رہی تھی تو موچی کا کام کرنے والے بنارس خان کی کہانی بھی فیس بک کے ایک صفحے پر موجود تھی۔سنیچر کو فیض آباد میں دھرنا کرنے والے مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں میں بنارس خان کی دکان بھی نامعلوم افراد نے جلا ڈالی یا بقول ان کے ’زندگی کی جمع پونجی پل بھر میں خاکستر ہو گئی‘۔فوج کی جانب سے دھرنا ختم کرانے کی بحث کے دوران بنارس خان جلی ہوئی دکان کی خاک تو بار بار ٹٹول رہے تھے کہ شاید کچھ بچ گیا ہو لیکن ناامیدی کے سوا وہاں کچھ نہیں تھا۔ یہ بھی پڑھیےسپریم کورٹ: ’کبھی ملک کے بارے میں بھی سوچ لیا کریں‘فیض آباد آپریشن: ’ہماری نہ سہی وردی کی عزت تو رکھو ‘کیا فیض آباد چوک پر ملک کے مستقبل کا سودا ہو گیا؟’پاکستان کے شہری لوگوں کے مرنے کے عادی ہوگئے ہیں‘ایسے میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ایک صفحے پر بنارس خان کو ہونے والے نقصان کی کہانی کو شیئر کیا گیا اور وہاں سے مقامی میڈیا اور بی بی سی کے موسیٰ یاوری نے بھی ان کے بارے میں رپورٹ کیا۔ بنارس خان کی مدد کے لیے حکومت کی جانب سے تو اب تک کوئی سامنے نہیں آیا لیکن کچھ درمند لوگ مدد کے لیے آگے آئے اور ان کی نقدی کی صورت میں مدد کی۔ بنارس خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کو ایک صاحب انھیں 90 ہزار رویے دے کر گئے اور آج جمعرات کو بھی 50 ہزار اور 20 ہزار کی صورت میں ان کی مدد ہوئی ہے۔

بنارس خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے اپنے نام تو بتائے لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا کہ کسی کو بتانا نہیں اور نہ ہی رابطے کے لیے کوئی نمبر دیا۔ ان کے بقول اب بھی انھیں پاکستان میں کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت دیگر شہروں کے علاوہ بیرون ملک سے بھی فون آ رہے ہیں اور لوگ مدد کا کہہ رہے ہیں۔بنارس خان کے بقول اب ان کی دکان تقریباً دوبارہ مکمل ہو گئی ہے اور کل جمعے سے دوبارہ اپنا کام شروع کر رہے ہیں۔انھوں نے مدد کرنے والوں کو دعائیں دیتے ہوئے کہا کہ ’میرا کُل اثاثہ یہی دکان تھی، بیوی بچوں کا سوچ سوچ کر پریشان ہو رہا تھا لیکن وسیلہ بن گیا‘۔اس سوال پر کہ کیا انھیں مزید مدد کی ضرورت ہے، بنارس خان نے کہا کہ ’ابھی تو ہمارا کام ہو گیا ہے، لوگوں سے کہہ رہا ہوں کہ اگر ضرورت ہوئی تو بتاؤں گا‘۔بنارس خان تک مدد کیسے پہنچی؟اسلام آباد میں دھرنے سے توجہ اب لاہور دھرنے پر ہے لیکن اس دوران بنارس خان کو ایک نئی امید اور حوصلہ مل چکا ہے جس میں ایک کردار آرسلان منیر بھی ہیں۔ فیس بک کے پیج ’اسلام آبادیئنز‘ کے ایڈمن ارسلان کے مطابق وہ اسلام آباد میں ملازمت کرتے ہیں اور راولپنڈی سے دھرنے کے دوران وہ پیدل فیض آباد انٹر چینج کو عبور کرتے تھے اور ان 19، 20 دنوں میں روز ہی بنارس خان کی دکان کے سامنے سے ان کا گزر ہوتا تھا۔

سنیچر کی جھڑپوں کے ایک دن بعد پیر کو وہ دوبارہ اس جگہ سے گزر رہے تھے تو ان کی نظر موچی کی دکان پر پڑی جو خاکستر ہو چکی تھی۔ انھوں نے رک کر اس کی تصاویر بنائی اور فیس بک صفحے پر شیئر کی اور لوگوں نے ان کے بارے میں مزید معلومات مانگیں تو دوبارہ وہاں گئے اور قریب کی دکانوں سے بنارس خان کا موبائل نمبر مل گیا۔اس کے بعد بنارس خان کے ساتھ ویڈیو بنائی اور ان کا نمبر شیئر کیا جس کے بعد میڈیا نے اسے رپورٹ کیا اور لوگوں نے مدد کے لیے پیغامات بھیجنا شروع کر دیے۔ آرسلان کے مطابق انھوں نے بنارس کو یقین دہانی کرائی تھی کہ کچھ نہ کچھ مدد ہو جائے گی لیکن توقع سے زیادہ ردعمل آیا۔پاکستان میں پرتشدد احتجاج ہو یا دہشت گردی کے واقعات بنارس خان جیسے کئی غریب لوگ اس میں نقصان اٹھاتے ہیں لیکن ان کی کہانیاں میڈیا پر حادثے کی بڑی بڑی خبروں میں دب جاتی ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}