’بھلا ہوا کہ سرفراز ٹاس نہیں جیتے‘

’بھلا ہوا کہ سرفراز ٹاس نہیں جیتے‘

June 27, 2019 - 02:57
Posted in:

حالیہ ورلڈ کپ میں انگلش وکٹیں اس اعتبار سے ایک الجھن سی رہی ہیں کہ اگر کسی نے بارش یا ابر آلود مطلع دیکھ کر بولنگ کا فیصلہ کر بھی لیا تو کچھ ہی دیر بعد وکٹ بیٹنگ کے لئے سازگار دکھائی دینے لگی۔سرفراز بھی اسی مخمصے کا شکار تھے۔وہ بھی ٹاس جیتنا چاہتے تھے کہ پہلے بیٹنگ کریں۔ مگر قسمت سرفراز سے زیادہ بہتر نکلی کہ ٹاس ہار گئے اور پہلے بولنگ کی ذمہ داری مل گئی۔سمیع چوہدری کے مزید کالم پڑھیے’گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا‘’لیکن سرفراز احمد برا مان گئے‘’اس میں امام الحق کا تو کوئی قصور نہیں‘’ایک ارب لوگ کیا دیکھتے ہیں اس میچ میں؟‘محمد عامر اس ورلڈ کپ کے چنیدہ بولرز میں سے ہیں۔ آخری لمحے ان کی شمولیت اس بات کی غمازی کر رہی تھی کہ کچھ خاص ہی پلان چل رہا ہے۔ اور واقعی وہ پلان اب نظر بھی آ رہا ہے۔اس قدر کامیابی کے باوجود یہ تو واضح ہے کہ اب یہ وہ عامر نہیں رہے جو ڈیبیو کے اوائل برس میں تھے۔ اب وہ تیزی اور پُھرتی ختم ہو چکی ہے۔اب کوئی ’بنانا سوئنگ‘ نہیں ہوتی، اب کوئی بھی گیند اچانک وکٹ سے سیم ہو کر بلے باز پہ جھپٹ نہیں پڑتی۔اب محمد عامر اپنے تجربے کے بل پہ کھیل رہے ہیں۔ اس وقت ان کی وہ کیفیت ہے جو ریٹائرمنٹ سے دو سال پہلے کے شون پولک کی تھی، نپے تلے رن اپ کے ساتھ، پیس مکس کر کے، اچھی لینتھ پہ سٹمپس کے اندر گیند کرنا۔

ایجبیسٹن کی اس وکٹ اور ٹاس کی ہار نے شاہین آفریدی کو وہ کاٹ واپس دلا دی۔ ولیمسن محض اسی لئے ڈرے ہوئے تھے کہ استعمال شدہ وکٹ پر دوسری اننگز میں پاکستانی سپنرز کا سامنا کرنا مشکل ہو گا۔لیکن ولیمسن یہ نظر انداز کر گئے کہ اس بارش زدہ آؤٹ فیلڈ اور استعمال شدہ وکٹ پر کوئی بھی طویل قامت فاسٹ بولر دوسری اننگز کے سپنر سے کہیں زیادہ بھاری پڑ سکتا ہے۔ اور پھر واقعی شاہین شاہ آفریدی بھاری پڑ گئے۔شاہین آفریدی نے اس وکٹ کی نبض کو بھی بھانپ لیا اور میچ کے مومینٹم کو بھی توڑ ڈالا۔ اور ان کی کراس سیم گیندوں نے یہ کرشمہ کیا کہ بانوے کے ورلڈ کپ سے مماثلتیں ڈھونڈنے کو ایک اور دن بھی مل گیا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}